طاقتور کی دھمکی اثر رکھتی ہے اسے آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن امریکہ ایران جنگ میں امریکی صدر کے طرز عمل سے یہ مفروضہ اپنے معنی کھو بیٹھا ہے، کبھی اس کی دھمکی سے راتوں کی نیندیں اڑ جایا کرتی تھیں اب ایسا نہیں ہوتا، امریکہ نے نصف درجن سے زائد مرتبہ ایران کو برباد کر کے دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کی بات کی، ہر مرتبہ جواب ملا ہم اس کا بھرپور جواب دینے کے لئے تیار ہیں جس کے بعد دھمکیوں کے غبارے سے ہوانکل گئی۔ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان پر دو ایٹم بم برسائے جب سے اب تک وہ انہی حملوں کی طاقت اور دہشت سے ہر جگہ اپنا مطلب نکالتا رہا بالکل علاقائی غنڈے کی طرح جو ایک اتفاقی یا حادثاتی قتل کر بیٹھتا ہے پھر اس واقعے کی بنیاد پر ہر ایک کو دھمکاتا رہتا ہے۔ امریکی صدر کبھی کراچی سٹائل اختیار کرتے اور کہتے مجھے روکو مجھے پکڑ لو ورنہ میں ایران کو نہیں چھوڑوں گا، کبھی وہ لاہوری سٹائل میں بڑھک مارتے ہوئے کہتے کل ایران دا نشان مکا دیاں گا، ان لمحات میں پاکستان کا کردار اہم ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی رہا۔ پاکستان کی طرف سے ایک ٹویٹ میں درخواست کی جاتی کہ جناب اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، امریکی صدر گویا اس کے لئے پہلے ہی سے تیار بیٹھے ہوتے تھے وہ فوراً مان جاتے اور کہتے ٹھیک ہے میں پاکستان کے کہنے پر اٹیک کا ارادہ ملتوی کرتا ہوں، تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے جب امریکہ نے ایران پر حملے کا صد فیصد ارادہ کرنے کے بعد حملہ کر دیا تو اس وقت بھی اسے متعدد اسلامی ممالک نے ایسا کرنے سے روکا لیکن امریکہ نے بھرپور طاقت کے ساتھ ایک نہیں درجنوں حملے کئے، ”مجھے روکو مجھے پکڑو“ تو انہوں نے اس وقت کہنا شروع کیا جب امریکہ کو زمین پر ، فضا میں اور پانیوں میں شکست ہو چکی تھی۔ وہ رجیم چینج نہ کرا سکے، آبنائے ہرمز نہ کھلوا سکے اور ایران کا افزودہ یورینیم نکال کر نہ لے جا سکے، شکست فاش اسے ہی کہتے ہیں، اس کی کوئی اور شکل نہیں ہوتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ لاکھ کہیں اس لڑائی میں ان کے منہ پر ایران کا ایک بھی مکہ نہیں لگا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کے امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملوں کی ضربات کا اثر ڈونلڈ ٹرمپ کے چہرے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی دفاعی طاقت اور اس کی اقتصادی طاقت کے چہرے پر واضح نظر آ رہا ہے بس انہی ضربات نے امریکہ کو ایم او یو کی میز تک کھینچ لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنگ نے تمام فریقین کو زخم دیئے ہیں ہر ایک کا خون بہا ہے لیکن تمام زخموں اور رستے ہوئے خون کے باوجود ایران حیران کن استقامت کے ساتھ جبکہ امریکہ اڑی اڑی رنگت بے جان قدموں کے ساتھ ہانپتا کانپتا ایم او یو پر دستخط کرنے آ رہا ہے۔
افغانستان میں جاری دس سالہ جنگ میں امریکہ کا اس قدر نقصان نہیں ہوا جتنا اس سو روزہ جنگ میں ہوا ہے اس جنگ میں امریکہ کو ایک ایسا نقصان پہنچا ہے جس کا کسی تھنک ٹینک، فوجی یا پرائیویٹ ادارے یا کسی حکومت نے احاطہ نہیں کیا وہ امریکہ کی اسلحہ سازی کی صنعت کو پہنچنے والا نقصان ہے امریکہ کے ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے سٹلتھ جہاز لڑاکا ہیلی کاپٹر اور دیگر فائٹر جہاز ایران نے مار گرائے جس کے بعد دنیا ان طیاروں کو خریدنے کی بجائے ان کا متبادل سوچ رہی ہے، اسی طرح امریکی ایئرکرافٹ کریئر کو اس کے دفاع کے لئے موجود لڑاکا بحری جہاز ایرانی میزائلوں سے نہ بچا سکے یوں ان کی طاقت بھی مٹی میں مل گئی، آنے والی جنگوں میں ایئرکرافٹ کریئر کا کردار ختم ہوتا نظر آتا ہے۔امریکہ کے طیارے گرتے رہے ان میں ایف 16، ایف 15 اور دیگر اقسام کے طیارے شامل ہیں ان کی مانگ میں کمی آئی ہے۔ امریکہ کا تیارکردہ اور جاسوسی کے لئے استعمال ہونے والے جہاز اواکس کو بھی گرا لیا گیا اس کی کارکردگی کے سامنے بھی سوال کھڑے ہو گئے جو طیارہ اپنے آپ کو میزائل حملے سے محفوظ نہ رکھ سکا وہ دیگر جہازوں کو آنے والے میزائلوں کی کیا خاک خبر دے گا، امریکی معیشت میں اسلحہ ساز انڈسٹری کا بڑا حصہ ہے، ایران نے اس انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے، ایران نے اپنے سستے ترین میزائلوں سے مار گرایا اور اپنے کم قیمت ڈرون بھیج کر زیادہ تباہی مچائی۔ ایران کے کم قیمت ڈرون روس نے یوکرین کے خلاف کامیابی سے استعمال کئے پھر انہیں اپ گریڈ کیا گیا آج یہ ڈرون سب سے زیادہ مو¿ثر ہیں دنیا کے بیشتر ممالک ان کی خرید میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ ملک جو اسلحہ کی خریداری میں امریکہ کے اسلحے کو ترجیح دیتے تھے آج ایرانی میزائل اور ڈرون خریدنا چاہتے ہیں۔ امریکہ ایران جنگ کے بعد آنے والی جنگوں کے حوالے سے تمام آپریشنل پلان تبدیل کرنے ضروری ہوں گے، ڈرون وار فیئر میزائل وار کے ساتھ ساتھ سائبر وار نئے میدان ہوں گے، آرمی ایئرفورس کی اپنی اہمیت ہے کسی حد تک یہ اہمیت برقرار بھی رہے گی لیکن آئندہ جنگوں میں دشمن کے فیس ٹو فیس آنے کی بجائے اس سے خاصے فاصلے پر رہ کر اسے نقصان پہنچانے، اسے تباہ کرنے یا اسے حملوں سے باز رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ امریکہ جنگ بندی کے لئے اس لئے بھی مجبور ہوا کہ اسے اطلاعات ملنے لگیں کہ ایران کسی نہ کسی طرح ایسے میزائل کہیں سے حاصل کر چکا ہے یا خود تیار کر چکا ہے جو امریکہ کی کسی ریاست میں کسی بھی ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جن دنوں امریکہ کی طرف سے ایران کو ایٹمی حملے کی دھمکی دی گئی تو ایران کی طرف سے جواب آیا کسی بھی ایٹمی حملے کا جواب واشنگٹن میں دیا جائے گا۔ ایران کی طرف سے اس ایک جواب نے امریکہ اور اسرائیل کے فیصلہ سازوں کی سوچوں کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سیماب صفت امریکی صدر سے توقع کی جا سکتی ہے کہ کاغذ پر لکھے نکات کے ساتھ وہ ان کا ترجمہ یا تشریح بیان کرتے ہوئے پلے سے اس میں وہ کچھ بھی ڈال دیں جو اس میں موجود ہی نہیں۔ اہم معرکہ تو ایم او یو کے بعد شروع ہو گا، مفاہمت کی یادداشت کوئی سمجھوتہ نہیں ہوتی اس کے بطن سے سمجھوتہ جنم لیتا ہے، ضروری نہیں کوئی سمجھوتہ جنم لے، مِس کیریج بھی ہو سکتا ہے اس کی واحد وجہ ایک غیرمتوازن مزاج امریکی صدر ہے جو کل کسی وعدے سے پھر جائے کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا بالکل اسی طرح جیسے ٹرمپ 2015 کے امریکہ ایران معاہدے سے پھر گیا۔
ایران امریکہ معاہدہ، ناکامی کا بھی خدشہ ہے!
09:08 AM, 19 Jun, 2026