امریکہ۔ایران امن یاد داشت اور پاکستان کا تاریخی کردا

09:06 AM, 19 Jun, 2026


بین الاقوامی سیاست میں بہت کم مواقع ایسے آتے ہیں جب کسی ایک ملک کی دانشمندانہ سفارت کاری نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی امن و استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیے رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان نے ایک ذمہ دار اور متوازن ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان شروع ہی سے اس مو¿قف کا حامی رہا کہ مسائل کا حل جنگ، دھمکیوں اور دباو¿ میں نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے مختلف مراحل میں جب بھی امن یاد داشت کی کسی شق پہ اختلاف پیدا ہوا، پاکستان نے ایک غیر جانبدار ثالث اور مخلص دوست کے طور پر دونوں فریقوں کو مسلسل مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔
کئی مواقع ایسے آئے جب دونوں ممالک کے نمائندے اپنی اپنی شرائط پر سختی سے قائم تھے۔ بعض نکات پر امریکہ سخت نگرانی اور ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا تھا جبکہ ایران اپنی خود مختاری اور قومی مفادات کے تحفظ پر زور دے رہا تھا۔ ایسے حساس مواقع پر پاکستان کی سفارتی ٹیموں نے پسِ پردہ رابطوں، مسلسل مشاورت اور اعتماد سازی کے ذریعے دونوں فریقوں کو یہ باور کرایا کہ کسی بھی پائیدار معاہدے کی بنیاد "کچھ لو اور کچھ دو" کی بنیاد پہ ہی ہوتی ہے۔ پاکستان نے یہ مو¿قف اختیار کئے رکھا کہ اگر ہر فریق صرف اپنی شرائط منوانے پر اصرار کرے گا تو مذاکرات کبھی کامیاب نا ہو سکیں گے، لیکن اگر دونوں ایک دوسرے کے جائز خدشات کو تسلیم کریں تو یقیناً ایک قابلِ عمل اور دیرپا معاہدہ اور حل ممکن ہے۔
پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اس 
عمل کو کامیاب بنانے میں جہاں غیرمعمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ وہیں سفارتی سطح پر ہونے والے رابطوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اور اسٹریٹجک امور پر بھی گہری مشاورت جاری رہی۔ ماہرین کی مختلف ٹیموں نے معاہدے کی ممکنہ شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور ایسی تجاویز مرتب کیں جو دونوں ممالک کے لیے قابل قبول ہو سکیں۔ یہ کام محض چند ملاقاتوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے لئے مسلسل رابطے اور پیچیدہ معاملات کی باریک بینی سے جانچ پڑتال, دونوں فریقین کے لئے قابل قبول اور ٹھوس و دیرپا حل کے لئے انتھک محنت درکار تھی۔
اس ضمن میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار خصوصی طور پر قابل ذکر رہا۔ ہماری عسکری قیادت نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال، ممکنہ خطرات اور امن کے امکانات کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی تصادم کے نتائج صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے پورا خطہ اور عالمی معیشت براہ راست متاثر ہوگی۔ عسکری سطح پر حاصل ہونے والی معلومات اور تجزیات نے مذاکراتی عمل کو حقیقت پسندانہ بنیادیں فراہم کیں اور فریقین کو اس بات کا احساس دلایا کہ امن ہی سب سے بہتر راستہ ہے۔
اسی طرح وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے سفارتی محاذ پر فعال اور متحرک کردار ادا کیا۔ انہوں نے مختلف عالمی رہنماو¿ں سے رابطے کیے، مذاکراتی ماحول کو سازگار بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت کو یہ بار بار یہ باور کرایا کہ موجودہ دور میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ نئے اور گھمبیر مسائل کو جنم دیتی ہے۔ وزیر اعظم نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات تلاش کیے جا سکتے ہیں اور یہی کامیاب سفارت کاری کا بنیادی اصول ہے۔
پاکستانی قیادت کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی تھی کہ اس نے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔ جب بھی مذاکرات تعطل کا شکار ہونے لگے، پاکستان نے رابطوں کا سلسلہ بڑھا دیا اور ایسے متبادل فارمولے تجویز کیے جن سے اختلافات کم ہو سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد پیچیدہ نکات پر رفتہ رفتہ اتفاقِ رائے پیدا ہوا اور مذاکرات آگے بڑھتے رہے۔
اس سارے عمل میں پاکستان نے کسی ذاتی یا محدود مفاد کے بجائے خطے اور دنیا کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دی۔ پاکستان بخوبی جانتا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بڑے تصادم کی صورت میں نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی مالیاتی نظام بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور مختلف ممالک کی معیشتوں پر پڑنے والے منفی اثرات پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے تھے۔
اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن کی جانب پیش رفت صرف دو ممالک کی کامیابی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس عمل نے دنیا کو ایک ایسے ممکنہ بحران سے دور رکھنے میں مدد دی جو وسیع پیمانے پر عدم استحکام کا باعث بن سکتا تھا۔ پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں، سیاسی بصیرت اور عسکری قیادت کی دور اندیشی نے اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ امن ہمیشہ جنگ پر ترجیح رکھتا ہے اور جو ممالک تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں وہ تاریخ میں مثبت کردار کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی سفارتی روایات کے مطابق امن، استحکام اور باہمی احترام کے اصولوں کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں بہتری اور کشیدگی میں کمی کے عمل کو ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جائے تو اس میں پاکستان کی کاوشیں یقیناً قابلِ ذکر ہیں۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو دنیا کو تنازعات کے بجائے تعاون، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں