محترم صدر مملکت اس ماں کے کرب کو دل سے محسوس کر سکتے ہیں، جس نے بیٹے کی زندگی کا جوا کھیلا ، اس کوبیرون ملک بھیجنے کا رسک لیا،اس کے بیٹے نے بھی اپنی ماں کو ڈھال بنایا،دونوں نے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کا رخت سفر باندھا،ماں نے واپسی اختیار کی، اور بیٹا دعاوں کے ساتھ انسانی سمگلرز کے حوالہ کردیا،کہ وہ غیر قانونی طور یورپ پہنچ جائے ،ان خوابوں کی تعبیر تلاش کرے جو ان کے خاندان نے دیکھے ،قسمت نے یاوری نہ کی، جس طرح دیگرماﺅں کے بچے کشتیوں سے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں یا ان کے ایجنٹ از خود انہیںسمندرکی لہروں کی نذر کر دیتے ہیں ،اِس ماں کا بدقسمت لخت جگر بھی سمندر کی لہروں کی نذر ہوگیا،ماں کی دعائیں بھی اس کو نہ بچا سکیں،ایک طرف آنکھوں میں سنہرے اور روشن مستقبل کا خواب دوسری طرف زندگی کی بھاری قیمت نے اس نوجوان کو رسک لینے پر آمادہ کیا مگر وہ زندگی کی بازی ہار گیا، خاندان کی آرزوئیں ، خواہشیں ادھوری رہ گئیں، دوہر ا نقصان یہ ہوا کہ خاندان اپنا سپوت بھی کھو بیٹھا۔
جب سے انسانی سمگلرز کے گرد گھیرا تنگ ہوا ہے، تب انہوں نے نوجوانان کو عمرہ کے بہانے لے جاکر نئے روٹ کے ذریعہ یورپ پہنچانے کا راستہ اختیار کیاہے، وزارت داخلہ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں دیگر کے ساتھ یہ واقعہ بھی رپورٹ ہوا ہے،کمیٹی کا تعلق ان واقعات کی جان کاری سے تھا، اس لئے یہ نہیں بتایا گیا کہ پڑھے لکھے نوجوان ایسا رسک کیوں لیتے ہیں،ان کے والدین کیوںایجنٹوں کے حوالہ کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ خدا نخواستہ یہ سفر انکی زندگی کا آخری سفر نہ ہو۔
شہری کا اعزاز تو اس بچی کو حاصل ہوا ہے جو چکوال کے علاقہ میں کرائم کنڑول شعبہ کی غفلت
کے باعث موت کے منہ میں چلی گئی، آسٹریلیا کی وہ شہری تھی حالانکہ باپ دادا کا جنم اس دھرتی کا تھا، اس کے باجود وہاں کا وزیر اعظم اسکی موت پربے تاب ہوا، اس نے نہ صرف اس کا نوٹس لیا بلکہ صاف شفاف انکوائری سے ملزمان کا تعین کرنے کا حکم صادر فرمایا ، یہی وجہ ہے کہ نسل نو یہاں کے فرسودہ نظام سے تنگ آکر یہاں سے بھاگ جانا چاہتی ہے ، کہ کم از کم وہاں انسان کی کوئی قدرو قیمت تو ہے ہر سال نسل نو کا لاکھوں کی تعداد میں دیار غیر چلے جانا ریاست کی گوورننس پر بھی اہم سوال ہے۔
کاش! قومی سطح پر کوئی ایسا کمیشن بنتا جو سائنسی بنیادوں پر ڈیٹا اکٹھا کرکے ان حقائق کا جائزہ لیتا کہ سماج کا پڑھالکھا طبقہ باہر کیوں سدھار رہا ہے، غیر قانونی طور پر عام اصطلاح میں ” ڈنکی “ لگا کر باہر جانے والوں کی کیا مجبوریاں ہیں،ان وجوہات کو جانتا، ایجنٹوں کی وجہ سے سمندر کا رزق بننے والے بچوں کے والدین کی اشکی شکوئی کے لئے ریاست تاوان ادا کرتی، ان ایجنٹوں کی جائدادیں بیچ کر متاثرین کی داد رسی کی جاتی،بھٹو مرحوم نے عرب ممالک میں جائدادیں نہیں بنائیں بلکہ انہوں وہاںہنر اور نیم ہنر مند افراد کے لئے روزگار کا بندوبست کیا تھا،قانونی طور پر ان کے جانے کا اہتمام کیا تاکہ بے روزگاری کم ہو سکے۔ پنجاب میں جو بسر روزگار ہیں ان سے امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے، آپکی مفاہمتی پالیسی نے پنجاب کے ملازمین اور پنشنرز کی زندگی سے رعنائی چھین لی ہے، پنشن میں بھاری بھر کٹوتی وفاق سے کم اضافہ امتیازی سلوک کی نشاندہی کرتا ہے،دوسری جانب ایلیٹ کلاس ریاست کے وہ ملازمین بھی ہیں جنہیں ہر سہولت سرکار کی جانب سے میسر ہے،کیا آئین پاکستان اس امتیازی سلوک کی اجازت دیتا ہے؟۔
سوشل میڈیا پر احتجاج کرتے ہوئے بزرگ وفاقی ملازمین دکھائے گئے، جن کی تنخواہ سے رقم اس وعدہ پر کاٹ لی گئی کہ انہیں گھر یا پلاٹ دیں گے،پندرہ سال سے رقم ادا کرنے والے سراپا احتجاج تھے، یہی معاملہ پنجاب میں گورنمنٹ سرونٹس ہاوسنگ فاونڈیشن کا ہے، 2004 سے اپنی تنخواہوں سے رقم منہا کرانے والے ملازمین بھی پلاٹ یا مکان سے محروم ہیں،لیکن اس ریاست میں ایسے شہری بھی ہیں جن کو بغیر معاوضہ اچھی ترین لوکیشن پر جمبو سائز کے پلاٹ الاٹ کئے گئے ،یہی ناا نصافی مایوسی پیدا کرتی ہے،جب والدین ایسا ماحول دیکھتے ہیں تو بچوں کی خواہشات کے آگے سرنڈر کر تے ہیں، ان کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہوتا اور بادل نخواستہ غیر قانونی طور انہیں بیرون ملک بھجوانے پرآمادہ ہو جاتے ہیں، ممکن ہے خو شحالی ان کا بھی مقدر بن جائے اگر یہاں روزگار میسر ہو، انکے والدین کو مکمل مالی ،سماجی مراعات ،تمام آئینی حقوق ملیںتو کس ماں کا دل کرتا ہے کہ وہ اپنے جگر گوشے کو سمندر کی لہروں کے حوالہ کردے۔
کیا ریاست اس ماںکے اس نقصان کی تلافی کر سکتی ہے؟آسٹریلوی وزیر اعظم کی طرف سے انکوائری کا مطالبہ پڑھ کر کم مائیگی کا احساس ہوا مرنے والی بچی کوشہری ہونے کا حق دیا گیا اس کو رعایا سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا گیا،ماﺅں کے مرنے والے بچوںکو اگر شہری سمجھا جاتا تو پھر ان کے روزگار کا یہاں اہتمام ہوتا، بیروز گاری پر وظیفہ ملتا۔
جناب صدر محترم! وہ وقت آخر کب آئے گا، جب اس ریاست کے کسان، تاجر، طالب علم،صنعت کار ،استاد، سرکاری ملازم،ریڑھی بان،مزدور ،قانون دان، صحافی کو رعایا کی بجائے شہری سمجھا جائے گا، اس کے حقوق کا تحفط ہوگا، اس کو فیصلہ جات میں شریک کیا جائے گا؟۔
محترم صدر مملکت۔رعایا شہری کب بنے گی
09:06 AM, 19 Jun, 2026