کامیاب بیرونی محاذ، اب اندرونی معیشت سنبھالیں

09:05 AM, 19 Jun, 2026

تاریخ کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی دراصل اس کی داخلی صورتحال کا عکس ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات ایسے تاریخی مواقع بھی آتے ہیں جب کوئی ملک اپنے اندرونی مسائل اور معاشی چیلنجز کے باوجود عالمی سطح پر ایسا شاندار اور مدبرانہ کردار ادا کرتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ اس وقت پاکستان بالکل اسی نوعیت کے ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف عالمی سفارتی افق پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے وہ کر دکھایا ہے جس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی، تو دوسری طرف ملکی سرحدوں کے اندر عام آدمی مہنگائی کے ایسے چنگل میں پھنس چکا ہے جہاں اس کا سانس لینا بھی محال ہو گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جس انقلابی عزم کے ساتھ عالمی محاذوں پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے گئے ہیں، اسی غیر معمولی جذبے اور صلاحیت کو ملکی عوام کو معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔
سب سے پہلے ہمیں عالمی سطح پر حاصل ہونے والی اس عظیم ترین سفارتی کامیابی کا اعتراف کرنا ہوگا جس نے دنیا بھر میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان معاہدے کے لئے پاکستان نے جو کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے، وہ ہماری خارجہ پالیسی کا سنہرا باب بن چکا ہے۔ لیکن اس شاندار سفارتی کامیابی کے سکے کا دوسرا رخ انتہائی تشویشناک ہے۔ عالمی سطح پر واہ واہ سمیٹنے والی قیادت کو اب اپنے گھر کے اندر لگی معاشی آگ کی طرف دیکھنا ہوگا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس وقت سفارتی ایوانوں میں کامیابی کے جشن منائے جا رہے ہیں، اسی وقت پاکستان کے کروڑوں غریب اور متوسط طبقے کے گھروں میں ابلتے ہوئے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ 
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا براہِ راست تعلق ملک کی مجموعی مہنگائی سے ہوتا ہے۔ جب بھی پٹرول کی قیمت میں چند روپے کا اضافہ کیا جاتا ہے، تو ٹرانسپورٹ کے کرائے سے لے کر سبزیوں، دالوں، دودھ اور ادویات تک ہر بنیادی ضرورت کی چیز کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ غریب دیہاڑی دار مزدور، نجی اداروں کے کم تنخواہ دار ملازمین اور مڈل کلاس طبقہ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ اس بوجھ کو مزید برداشت کر سکے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایل پی جی (LPG) کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب کے متبادل ایندھن کو بھی اس سے چھین لیا ہے۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کی وجہ سے سلنڈر بھروانا اب ایک عیاشی بن چکا ہے، جب بنیادی ایندھن ہی عوام کی پہنچ سے دور ہو جائے، تو ریاست کی بقا اور عوامی خوشحالی کے تمام دعوے کھوکھلے نظر آنے لگتے ہیں۔
پاکستان کے غریب عوام نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں، انہوں نے سخت سے سخت معاشی حالات کو بھی جھیلا ہے، لیکن اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ عوام اب اپنی قیادت سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ہماری حکومت اور عسکری قیادت دنیا کی دو بڑی اور ضدی طاقتوں (امریکہ اور ایران) کو ہلا کر ان کے درمیان امن قائم کروا سکتی ہے، تو وہ ملک کے اندر ذخیرہ اندوزوں، مہنگائی مافیا اور پٹرولیم و گیس کے بحران پر قابو کیوں نہیں پا سکتی؟۔ اس صورتحال میں حکومت کو اب روایتی بیانات اور وقتی لالی پاپ دینے کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر انقلابی اور غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جس طرح امریکہ اور ایران کے معاملے پر دن رات ایک کر کے ایک متفقہ حکمتِ عملی تیار کی گئی، بالکل اسی طرح اب ملک کے اندر "معاشی ایمرجنسی" نافذ کر کے عوام کو فوری ریلیف دینے کا پلان بنانا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں اور لیوی میں فوری طور پر نمایاں کمی کرے تاکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نیچے آئیں اور اس کا فائدہ براہِ راست عام صارف تک پہنچے۔ اسی طرح ایل پی جی مافیا کے خلاف سخت ترین کریک ڈاو¿ن کی ضرورت ہے تاکہ گیس سلنڈرز کی قیمتوں کو غریب کی قوتِ خرید کے مطابق لایا جا سکے۔
پاکستانی عوام نے موجودہ قیادت کو ہمیشہ اس کی انتظامی صلاحیتوں کی بنیاد پر پرکھا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو اپنی "شہباز اسپیڈ" اور عسکری قیادت کو اپنے مضبوط انتظامی کنٹرول کو اب اندرونی معاشی اصلاحات کے لیے وقف کرنا ہوگا۔ اگر حکومت اگلے چند ہفتوں میں پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں واضح اور بڑا رلیف دینے میں ناکام رہی، تو عالمی سفارتکاری کے یہ تمام جھنڈے عوامی مایوسی کے اندھیروں میں دب جائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اب "عالمی سفارتکاری کی فتح" کو "داخلی معاشی ریلیف کی فتح" میں بدلا جائے تاکہ پاکستان کا غریب شہری بھی سکھ کا سانس لے سکے اور فخر سے کہہ سکے کہ اس کی قیادت واقعی عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مزیدخبریں