تہران :ایران نے آپریشن "وعدہ صادق سوم" کے تحت اسرائیل پر 11ویں بار میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں پہلی بار طاقتور "سجیل" بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ میزائل پاسداران انقلاب نے فائر کیا، جو دو مرحلوں پر مشتمل، ٹھوس ایندھن والا میزائل ہے اور 2000 سے 2500 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
اسرائیلی عسکری ذرائع کے مطابق "سجیل" میزائل غیر معمولی طور پر وزنی اور تباہ کن تھا، اور جس میزائل نے اسرائیلی علاقے ڈین بلاک کو نشانہ بنایا، اس میں 500 کلوگرام سے زیادہ دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ اسرائیلی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے اس نوعیت کے میزائل محدود تعداد میں فائر کیے ہیں، لیکن ان کی شدت زیادہ ہے۔
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایران کے میزائل حملے دشمن کو زیرِ زمین بنکرز سے باہر نہیں آنے دیں گے، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے صہیونیوں کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے ہیں۔"
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف باضابطہ جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب صہیونی ریاست کے لیے نرمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، اور سخت جواب دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" (سابقہ ٹوئٹر) پر خامنہ ای نے اپنے پیغامات میں کہا، "جنگ شروع ہو چکی ہے، اور صہیونی ریاست پر رحم نہیں کیا جائے گا۔" ان کے ایک پیغام کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی گئی، جس میں ایک شخص تلوار لے کر قلعے میں داخل ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تصویر خیبر کے قلعے کی تاریخی فتح کی طرف اشارہ ہے، جس سے اس تنازعے کو ایک مذہبی اور تاریخی رنگ بھی مل گیا ہے۔