امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنائی آسان ہدف ہیں، ہمیں معلوم ہے وہ کہاں چھپے ہوئے ہیں، فی الحال ایرانی لیڈر کو قتل کرنے نہیں جا رہے ہیں، ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، ہم صرف جنگ بندی نہیں، ایران تنازع کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ ایران، اسرائیل جنگ کا یہی پہلو سب سے خطرناک ہے کہ موساد کا نیٹ ورک غیر معمولی طور پر متحرک ہے، اسرائیلی حملے کے آغاز پر ہی جس طرح سے ایران کی فوجی قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور آج تک بنایا جا رہا ہے وہ صرف سیٹلائٹ سے حاصل کردہ معلومات پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ ہیومن انٹیلی جنس کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ واضح ہو چکا ہے کہ ایران پر حملہ امریکہ کے اشارے پر کیا گیا جو اسے ایٹمی اثاثوں سے محروم کرنے تک جاری رہے گا۔ اس تمام کارروائی میں رجیم چینج کے امکانات بھی بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس حملے سے پہلے ایک فضا بنائی گئی جب ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ ایران شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس کے بعد جی 7 ممالک کے حال ہی میں ہونے والے اجلاس میں اسرائیل کی حمایت کی گئی ہے اور ایران کو عدم استحکام کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں جہاں مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر کشیدگی میں کمی پر زور دیا گیا ہے وہیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، جی سیون ممالک کے واضح انداز میں اسرائیل کی جانب جھکاؤ کے ساتھ یہ حقیت بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر روس، چین حتیٰ کہ مسلم ممالک بھی نہیں چاہتے کہ ایران ایٹمی طاقت بنے، زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ایرانی حکام بار بار دعوے کرتے تھے کہ بیروت، بغداد، دمشق اور صنعا ان کے کنٹرول میں آ چکے اب آگے بڑھ رہے ہیں۔ مسلم ممالک میں مداخلت کرنے کا سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ ملائیشیا، انڈونیشیا اور افریقی حکومتوں سے تعلقات میں کشیدگی آ گئی۔ سعودی عرب کو معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے چین کو بیچ میں ڈال کر ایران سے صلح کرنا پڑی، ایرانی فوج نے ایک مرتبہ پاکستان پر بھی میزائل چلا دئیے تاہم فوری اور مؤثر جواب سے حساب چکا دیا گیا۔ اس سب کے باوجود آج کوئی بھی مسلم ملک نہیں چاہتا کہ ایران کو شکست ہو۔ حالیہ لڑائی میں ایرانی میزائلوں نے جس طرح سے اسرائیل میں تباہی مچائی، اس سے فلسطینوں کے ساتھ پوری مسلم دنیا بھی اطمینان کی لہر دوڑ گئی، غزہ کو جہنم بنانے کا دعویٰ کرنے والوں کے اپنے علاقے جہنم بن گئے۔ دوسری طرف یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسرائیل نے اپنے سے 75 گنا بڑے ملک پر ٹارگٹ منتخب کر کے حملے کیے اور ہر حصے میں کیے مگر ایران کی زیادہ تر ایٹمی تنصیبات پہاڑوں کے نیچے انتہائی گہرائی میں ہونے کے سبب پوری طرح تباہ کرنے میں ناکام رہا۔ اسی لیے اب کسی بھی وقت امریکہ اس جنگ میں براہ راست شامل ہونے والا ہے۔ اس دوران یورپ سمیت جتنے بھی ممالک کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کی جا رہی ہے اس میں بنیادی مطالبہ ایٹمی پروگرام سے دستبرداری کا ہی ہو گا۔ رہ گیا جنگ کی مدت اور رجیم چینج کا معاملہ تو اس کے بارے میں حتمی طور پر کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، سات اکتوبر 2023 ء میں حماس کے اسرائیل پر حملے اور جوابی کارروائی کے بارے میں کون کہہ سکتا تھا یہ لڑائی آج بھی چل رہی ہو گی، اگرچہ فلسطینیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، رقبہ چھینا جا رہا ہے لیکن شعلے کہاں تک پھیل گئے۔ ایران، اسرائیل جنگ بھی اسی لڑائی کا ایک اگلا مرحلہ ہے۔ جنگوں کے دوران بڑے اور علاقائی ممالک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ حملہ آور طاقت اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا کو معاون پائے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ اپنی جنگ بھی اس وقت تک خود ہی لڑنا پڑتی ہے جب تک اس کی حدت کسی دوسرے ملک کے دفاعی مفادات یا سالمیت کو تپش پہنچانا شروع نہ کر دے۔ افغانستان میں روسی جارحیت کے بعد چند ممالک کو چھوڑ کر پوری دنیا ایک ہو کر حملہ آور ہوئی، دوسری مرتبہ نائن الیون کے بعد نیٹو ممالک ٹوٹ پڑے۔ مفادات مختلف ہوں تو حلیف ممالک بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں جاتے۔ ایران کی جغرافیائی سالمیت اور رجیم چینج کے معاملے پر ممکن ہے امریکہ، اسرائیل اور ان کے دوست ممالک ایک پیج پر نہ رہیں۔ چین، روس اور خطے کے ممالک بھی اپنے ماحول اور مستقبل کو مد نظر رکھ کر اپنے کردار اور امداد کا تعین کریں گے۔ جنگ زیادہ دیر تک چلی تو یقینا خطے کے ممالک زیادہ متاثر ہوں گے، جہاں تک لڑائی پھیلنے یا تیسری جنگ عظیم چھڑنے کی بات ہے تو ایسا کہنا قبل از وقت ہے۔ مکرر عرض ہے کہ جب تک کسی دوسرے ملک کی سالمیت یا دفاع براہ راست داؤ پر نہیں لگتا وہ کھل کر جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔ سنسنی پھیلا کر روزی کمانے والے جو ’’دانشور‘‘ تاثر دے رہے کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے وہ بھی جانتے ہیں جس طرح سے ایران فلسطین نہیں ہے، اسی طرح سے پاکستان، ایران نہیں۔ پاکستان اور نئی سپر پاور چین کے کئی مفادات یکساں ہیں۔ بھارت کے ساتھ جنگ ترکیہ اور آذربائجان بھی کھل کر ساتھ کھڑے رہے، پاک افواج نے دشمن کو دھول چٹا کر پوری دنیا کو جو پیغام دیا وہ اسے سمجھ چکی ہے۔ امریکہ کے لیے بھی ہماری اہمیت کم نہیں، ٹرمپ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں ظہرانہ جہاں پاکستان کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے وہیں دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعمیری تعلقات کی نئی راہیں کھول رہا ہے، ہاں مگر اتنا ضرور ہے کہ ہمیں بھی اندر کے دشمنوں، غداروں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔
جنگ کا اصل ہدف
09:56 AM, 19 Jun, 2025