بنیان مرصوص آپریشن اوروعدہ صادق سوم

09:54 AM, 19 Jun, 2025

بھیڑیا نما بے حس انسان،عالمی دہشت گرد،جواریا،دروغ گوئی کا ماہر،رسہ گیر،ڈکیت گینگ کا سرغنہ،مطلب پرست، امن کا دشمن،مکروہ چہرے کا حامل ٹرمپ جب اقتدار میں آیا تو اعلان کیا کہ نئی جنگوں کا راستہ روکا جائے گا غزہ جنگ بند،یوکرین روس تنازع حل کرایا جائے گا لیکن دنیا نے دیکھا کہ ٹرمپ نے کیسے گرگٹ کی طرح رنگ بدلا اور روس کو مات دینے کیلئے یوکرین کے صدر کوامریکہ بلوایا بے عزت کیا دھمکیاں دیں غزہ میں نسل کشی روکنا تو کیا مذمت تک نہ کی بدمعاش اسرائیل کا کھلے عام ساتھ دیا جا رہا ہے امریکہ کا ناجائز بچہ دنیا کا امن تہس نہس کر رہا ہے اس نے اب ایران پر چڑھائی کردی ہے اسی طرح جیسے بھارت نے مئی میں پہلگام ڈرامہ کی آڑ میں چڑھائی کی تھی جب بھارت پاکستان پر ڈرون مار کر بندے شہید کر رہا تھا تو امریکہ سمیت دنیا خاموش تھی لیکن جب اللہ کی مدد سے پاکستان نے ٹھوکا تو مودی کو وختہ پڑ گیا اور اپنے ناجائز باپ امریکہ سے مدد مانگ لی اور پھر سعودیہ کو فون کڈ مارااب جب امریکہ کی شہ پر اسرائیل ایران پرچڑھ دوڑا ہے اور یہ بھول کر کہ اندازے غلط لگا کر نیتن یاہو کو ’’فانا‘‘ٹھوکا تو ٹرمپ کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور سعودیہ روس سمیت دیگر ممالک کو فون کھڑ کا نے لگا اور اگر ایران کو مار پڑ رہی ہوتی تو مغرب خاموش رہتا لیکن اللہ نے مدد کی اورلڑا دے ممولے کو شہباز سے کے مصداق اسرائیل کی منجھی ٹھو ک دی ایران ایک ذمہ دار ملک ہے لڑنا نہیں چاہتا لیکن جب کوئی جارحیت کرے تووہ دشمن کی ڈگڈگی بجا نا جانتا ہے جیسے وہ اسرائیل کی بجا رہا ہے جبکہ جنگیں رکوانے کے نام نہاد دعویدار ٹرمپ نے ناجائز بچے اسرائیل کو بچانے کیلئے طیارہ بردار بحری جہاز جنوبی چین کے پانیوں سے مشرق وسطیٰ روانہ کردیا،شپ ٹریکنگ ڈیٹا کا کہنا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ کی طرف گامزن ہے دوسری طرف 
ایران کے منہ توڑ جواب پر اسرائیلی دفاعی نظام پربھی سوالات اُٹھنے لگے ہیں جس پر نیتن کو بہت غرور تھا، دونوں ممالک ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات، فوجی مراکز کو ڈرونز اور میزائل سے نشانہ بنا رہے ہیں، اجتماعی طور پر ہلاکتوں کی شرح زیادہ ہے لیکن اسرائیلی میڈیا ہلاکتوں کو چھپا رہا ہے ، بیک وقت غزہ اور ایران میں موت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ،امریکہ اندھا بہرہ او رگونگا ہے اسی لئے 76 برس سے مسئلہ کشمیر کی طرف سے آنکھ اور کان بند کیے ہوئے ہیں، اب ایران اسرائیل تنازع، غزہ اسرائیل تنازع، پاکستان اور بھارت میں جنگ کے آثار کے بعد اب براہ راست ایران اور امریکا میں چونچیں ٹکرانے کا بھی خطرہ سامنے آرہا ہے، ایرانی فوج نے امریکی بغل بچے برطانوی بحریہ کے ڈسٹرائبیر کی خلیج فارس میںداخلے کی کوشش ناکام بنا دی ، برطانوی بحریہ کے جہاز کو بحر ہند میں داخلے کے وقت سے مانیٹر کر رہے تھے، اس کا مقصد اسرائیلی میزائلوں کی رہنمائی کرنا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے امریکہ کے حواری کس طرح اسلام دشمنی میں اندھے ہو کر ایران پر ٹوٹنا چاہتے ہیں ایران ڈٹا ہو ا ہے اور ڈٹا رہے گا کیونکہ جب انڈیا نے جارحیت کی تھی تو پاکستان نے قرآن سے رہنمائی حاصل کرکے بنیان مرصوص آپریشن شروع کرکے مودی کو ٹرمپ سے مدد مانگنے پر مجبور کردیا تھا اب جب بھارت کے یار خاص اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا ہے تو ایران نے روضہ رسول ﷺ کی جالیوں پرلکھی آیت سے وعدہ صادق سوم کے نام سے جوابی وار کرکے طاغوت کو بھاگنے پر مجبور کردیا ہے دوسری جانب، عالمی امن کو تباہ کرنے کے لیے سب سے زیادہ منفی کردار ادا کرنے والے امریکا نے واضح الفاظ میں ایران کو کہا ہے کہ اگر ایرانی قیادت نے کسی بھی امریکی شہری، فوجی اڈے یا اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو اس کے سنگین اور دور رس نتائج برآمد ہوں گے اسرائیل نے یمن اور فلسطین کے بعد ایران کو ٹارگٹ بنا یا ہے مسلم امہ کو موجودہ حالات میں متحد ہونا پڑے گا لیکن اگر مسلم امہ متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی،یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دہشت گرد صہیونی ریاست عالمی امن کے لیے خطرہ ہے جوکسی قاعدے قانون کو نہیں مانتا اور اسے اپنے مذموم عزائم کے لیے امریکا اور برطانیہ سمیت بہت سے مغربی ممالک کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے، صاف نظر آ رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت کوئی بھی عالمی یا بین الاقوامی ادارہ دہشت گرد اسرائیل کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پیچھے امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک کھڑے ہیں،خوش آئند بات یہ ہے کہ زیادہ تر مسلم ممالک کھل کر ایران کی حمایت کر رہے ہیں لیکن یہ حمایت صرف زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ تمام مسلم ممالک کو عملی طور پر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ امریکا اور برطانیہ کو یہ واضح پیغام دیا جاسکے کہ ان کی پشت پناہی سے مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل دہشت گردی کرنے والے صہیونیوں کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، یہود و ہنود کا بڑھتا ہوا اتحاد خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے جب کہ ایران پر اسرائیلی حملہ دراصل یہود و ہنود سازش کا شاخسانہ ہے تمام مسلم ممالک اپنے ہر قسم کے آپسی اختلافات کو بھلا کر ظالم اسرائیلی ریاست کے خلاف ایران کی بھرپور حمایت کریں، مذمتوں سے کام نہیں چلے گااقوام متحدہ اور دیگر اقوام عالم سے ثالثی کی امیدیں لگانا بے معنی ہیں،ان کا کردار مظلوم کشمیری ،مظلوم فلسطینی اور دیگر مواقع پر مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے دوران انتہائی مایوس کن اور منفی رہا ہے،امت مسلمہ کے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ بھرپور انداز میں اسرائیل ایران جنگ میں مظلوموں کا ساتھ دیتے ہوئے ایران کی بھرپور حمایت اور تعاون کا اعلان کریں۔

مزیدخبریں