گزشتہ کالم میں جو نکتہ اٹھایا گیا ہے، وہ نہایت اہم اور قومی معیشت کے استحکام سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ابھی دو دن پہلے وزیر اعظم نے کہا کہ کاروباری برادری ،سرمایہ کاروں اور تاجروں کو ہراساں کرنا ناقابل قبول ہے۔محترم وزیر اعظم کا یہ کہنا خوش آئند لیکن عمل کی کسوٹی بتاتی ہے کہ سرمایہ کار و کاروباری برادری شہروں کے غنڈوں اور سرکاری محکموں میں بیٹھے کچھ کاروبار دشمن افراد کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔
مجھے یاد ہے جب میں ہیلی کالج میں پڑھتا تھا، داکٹر انیس احمد پرنسپل تھے،میں کم عمری میں ہیلے نیوز کا ایڈیٹر بن گیا۔ہم نے دیکھا کہ کالج میں چھ ہزار کے قریب طلبا تھے لیکن سات آٹھ لوگ امن وامان کی فضا خراب کئے ہوئے تھی۔میٹنگ ہوئی تو میں نے ان گنتی کے لوگوں کو نکالنے کی تجویز دی لیکن یہ لوگ ایک طاقتور جماعت کی سرپرستی کے باعث غالب تھے اور پرنسپل بے بس۔ملک میں 99.99 لوگ امن پسند اور اچھے ہیں لیکن جو تھوڑے سے منفی کردار ہیں وہ کسی نہ کسی سرپرستی کی وجہ سے اکثریت پر بھاری ہیں۔بلوچستان،کے پی کے، کراچی اور پنجاب تک کے بعض علاقے نو گو ایریاز ہیں۔ایس ایچ او علاقے کا انچارج ہوتا ہے ،اس کے بنا کوئی کام نہیں ہوتا۔ایس ایچ او سے کام لیا جائے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں معاشی استحکام کا خواب اْس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک ملک کے اندر موجود ایسے عناصر پر قابو نہ پایا جائے جو کاروباری فضا کو مسموم کرتے ہیں۔ مختلف رپورٹوں اور انٹیلی جنس اداروں کے جائزوں کے مطابق ملک بھر میں کم و بیش 2500 افراد ایسے ہیں جو دانستہ طور پر کاروباری افراد، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ ان میں کچھ جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے وابستہ ہیں، جبکہ بعض مخصوص سرکاری عہدے دار ایسے رویے اپنا کر ملک کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ عناصر بظاہر پاکستانی شہری ہیں، مگر ان کے رویے کسی دشمن ملک کے ایجنڈے سے کم نہیں۔ ان کی کارگزاریوں میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، بلیک میلنگ اور سرکاری دفاتر میں رشوت کے مطالبات شامل ہیں۔ کسی صنعتکار یا بیرونی سرمایہ کار کے لیے جب ان جرائم سے بچنا مشکل ہو جائے تو وہ اپنا سرمایہ کسی اور ملک کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب معیشت کی نبض ڈوبنے لگتی ہے، فیکٹریاں بند ہوتی ہیں، اور روزگار کے مواقع کم ہوتے جاتے ہیں۔
ایسے میں اگر کوئی ریاستی اقدام سامنے آتا ہے تو وہ ایک امید کی کرن ثابت ہوتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سربراہی میں جو مثبت اقدامات کیے گئے، ان میں سب سے اہم اقدام "سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC)" کا قیام ہے۔ اس کونسل کا مقصد ہی یہی ہے کہ سرمایہ کاری کے تمام مراحل کو آسان بنایا جائے، سرمایہ کاروں کو تحفظ دیا جائے، اور ان کے سامنے کھڑی کی جانے والی غیر ضروری بیوروکریٹک دیواریں گرا دی جائیں۔ SIFC نے تھوڑے عرصے میں جن اقدامات کا آغاز کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہیں۔ ملک بھر سے سرمایہ کاری سے متعلق شکایات جمع کی گئیں، جن میں سب سے زیادہ شکایات درج ذیل محکموں کے خلاف تھیں:
لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ، ایکسائز و ٹیکسیشن، پولیس و امن و امان سے متعلق ادارے، بلدیاتی نظام اور بعض کیسز میں ایف بی آر۔
ان محکموں کے چنداہلکاروں کا رویہ نہ صرف کرپٹ تھا بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے مستقل اذیت کا باعث بنتا جا رہا تھا۔ SIFC نے ان شکایات کی چھان بین کر کے فوری فیصلے کرنے شروع کیے، بعض افسران کو معطل بھی کیا گیا، اور کچھ مقامات پر سرمایہ کاروں کے لیے "ون ونڈو آپریشنز" کا نظام نافذ کیا گیا۔ لیکن ان غیر سرکاری گروہوں ،گینگز یا افراد کا کیا کیا جائے جو ہر جگہ کاروباری افراد کو ڈرا رہے ہیں۔
عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 2023 میں بیرونی سرمایہ کاری کی شرح صرف 1.2 فیصد تھی، جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح 2.8 فیصد اور ویتنام میں 4.7 فیصد تھی۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ملک میں سرمایہ کار دوست ماحول مہیا کیا جائے تو پاکستان بھی خطے کے دوسرے ممالک کی طرح سرمایہ کاری کا مرکز بن سکتا ہے۔
ایک معروف بین الاقوامی انویسٹمنٹ کنسلٹنسی فرم "Mercer & McLennan" کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی سٹیل، ٹیکسٹائل، زراعت اور آئی ٹی سیکٹر میں اتنی صلاحیت ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں اگر سالانہ 5 ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہو، تو ملک کی GDP میں 2.5 فیصد کا اضافہ ممکن ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ یہ مخصوص 2500 افراد جو سرمایہ کاروں کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، کیا واقعی صرف مالی مفادات کے لیے ایسا کر رہے ہیں؟ یا کہیں یہ کسی دشمن ملک کی پراکسی کارروائی کا حصہ ہیں؟ ماضی میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جہاں دشمن ممالک نے سوشل میڈیا، غیر سرکاری تنظیموں، یا مقامی کارندوں کے ذریعے معیشت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔اس پہلو کو کبھی غور و فکر کے قابل نہیں سمجھا گیا،کراچی میں ایسے شواہد سامنے آئے تھے تو مسلم لیگ ن کی حکومت نے جنرل راحیل شریف کی مدد سے ایک آپریشن کیا تھا۔ملک کے دوسرے شہروں میں بھی ایسا آپریشن ہونا چاہئے،اب بھی مسلم لیگ ن کی حکومت ہے۔
ریاست کو ان کاروبار دشمن افراد کی شناخت کے بعد ان پر دہشت گردی یا قومی سلامتی کے قوانین کے تحت مقدمات قائم کرنے چاہئیں۔ کیونکہ سرمایہ کار صرف ایک فرد نہیں ہوتا، وہ معیشت کی ایک شریان ہوتا ہے۔ اسے نقصان پہنچانا دراصل ریاست کے خلیوں کو زہر دینا ہے۔
آگے کا راستہ کیا ہوسکتا ہے اس کے لئے میں چند تجاویز پیش کرتا ہوں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ: ان 2500 افراد کی ایک مرکزی فہرست مرتب کی جائے۔ ہر ضلعی سطح پر ایک ریپڈ رسپانس کمیٹی قائم ہو جو سرمایہ کاروں کی فوری شکایات کو سنے اور حل کرے۔ ایف آئی اے، آئی بی، اور ملٹری انٹیلیجنس کے ذریعے ان عناصر کے روابط اور مالی ذرائع کی مکمل چھان بین کی جائے۔ ایسے افسران جو ان عناصر کو پسِ پردہ سپورٹ کرتے ہیں، ان کے خلاف مثالی کارروائی کی جائے۔
معاشی ترقی صرف مالیاتی پالیسیوں سے ممکن نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک مکمل ریاستی بیانیے، انتظامی رویے، اور عوامی شعور سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک معاشی طور پر خود مختار پاکستان کا خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں ان معاشی دہشت گردوں کے خلاف متحد ہونا ہو گا۔ ہر شہری کو اس قومی مہم کا حصہ بننا ہو گا تاکہ ہمارا ملک ترقی کی اْس شاہراہ پر گامزن ہو جس کی منزل خوشحال پاکستان ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کوئی ایسا آرڈر جاری کر دیں جو کاروبار دشمن عناصر کو ختم کردے،ان کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
فیلڈ مارشل اور معاشی امن کے پچیس سو دشمن
09:53 AM, 19 Jun, 2025