صنعتی بجلی پر کراس سبسڈی معیشت کے لیے نقصان دہ، ایس ایم تنویر

08:05 PM, 19 Jan, 2026

لاہور: ایف پی سی سی آئی کے رہنما اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے صنعتی بجلی کے نرخوں میں شامل 131 ارب روپے کی کراس سبسڈی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایس  ایم تنویر نے حکومت اور وزیرِ توانائی سے اپیل کی  ہے کہ صنعتی بجلی کے نرخوں سے کراس سبسڈی ختم کر کے صنعت دوست پالیسی اپنائی جائے کیونکہ صنعت کا تحفظ ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت صنعت پر فی یونٹ 4.5 سے 7 روپے اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جس کے باعث بجلی کی قیمت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق مہنگی بجلی کے باعث کئی صنعتی یونٹس بند ہونے یا اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہیں۔

ایس ایم تنویر نے کہا کہ محفوظ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم انہیں سہولت دینے کے لیے مالی وسائل استعمال کرنے کے بجائے حکومت یہ بوجھ صنعت پر منتقل کر رہی ہے، جو نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ معاشی طور پر بھی نقصان دہ ہے۔

انہوں نے پاور سیکٹر میں بہتری کے حکومتی دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی شعبے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے تو صنعت کو 9 سینٹ فی یونٹ کے مسابقتی نرخ کیوں فراہم نہیں کیے گئے۔انہوں نے واضح کیا کہ برآمدات میں اضافہ اور آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کے لیے مضبوط صنعت ناگزیر ہے۔ صنعت کو کمزور کر کے معاشی ترقی ممکن نہیں۔

مزیدخبریں