بے مثال کردار سے سوال ،کیوں بھئی پولیس ۔۔!! 

09:04 AM, 19 Jan, 2026

جہاں کام ہوتا نظر آتا ہے مسئلے بھی وہاں بیان کرنے کا حوصلہ بڑھتا ہے جی ہاں صوبہ پنجاب میں ایسی بڑی بڑی تبدیلیاں پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں مل سکیں ،پہلے ادوار میں تبدیلیاں سیاسی مفاد کے لئے ہوتی تھیں لیکن موجودہ دور میںتبدیلیاں عوامی مفاد کومد نظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر کی گئیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے دور میں ایک بڑی اور مثبت تبدیلی یہ ہے کہ جو گینگسٹر،کریمینلز ،منشیات کے سوداگر ،ڈاکو، چور، فراڈ ئیے، بھتہ خور اور اسلحہ کی تشہیر کرتے سڑکوں اور گلی محلوں میں ٹولوں کی صورت میں نظر آتے وہ اب نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ جو اکا دکا نظر آ رہے وہ کرپٹ پولیس افسران کی وجہ سے حالیہ دنوں میں عوام خود کو محفوظ سمجھنا شروع ہوئی ہے لیکن کرپٹ پولیس افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائیاں نہ کرنا یہ یقینا معاشرے میں خوف پیدا کرتا ہے ۔طویل سفر قلیل وقت میں طے کرنا جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کریڈٹ ہے ۔وہیں کرپٹ پولیس افسران کے خلاف کارروائیاں نہ ہونا بھی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے مستقل مزاجی سے جاری اچھے اور مثبت اقدامات میں ناکامی کا سبب بن رہا ہے۔
کچھ ایسے مسائل بھی عوام کو درپیش ہیں جن پر نظر ڈالنا اور اس کا فوری حل نکالنا بھی ناگزیر ہوچکا ہے ۔اگر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے محکمہ کی بہتری کے لئے بہت کچھ بدلا ہے تو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اعتماد کا صلہ ہے ۔محکمہ پولیس میں تبدیلی کا بڑا نام آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور ہے اور ہاں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے سی سی ڈی کا قیام عمل میں لانے سے جہاں علاقے ،شہر بلکہ صوبے بھر میں جرائم میں واضح کمی ہوئی اس کے پیچھے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کا ویژن ہے اور اس ویژن کو پورا کرنے والے آفیسر کا نام سہیل ظفر چٹھہ ہے ۔ ایک بات جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ کرپٹ پولیس افسران سی سی ڈی لاہور پولیس بلکہ صوبے بھر میں کسی نہ کسی پولیس یونٹ میں سر چھپائے بیٹھے ہیں ان کریمینل پولیس افسران اور ملازمین کے خلاف جرائم پیشہ افراد کا سہارا اور آشیربادکرنے پر سخت محکمانہ اور قانونی کارروائیاں کرنے کا وقت ہوا جاتا ہے ۔آج جو تیزی سے صوبے کے حالات بدل رہے ہیں اس کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے محترم والد میاں نواز شریف نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو پیغام ہے کہ جرائم کی روک تھام، امن و امان کے قیام پر کام ہو رہا ہے ،لیکن یہ وہ بنیادی ذمہ داریاں ہیں جو کسی بھی پولیس فورس کے وجود کا جواز بنتی ہیں جبکہ ایف آئی آر کا اندراج اور شفاف تفتیش بدقسمتی سے پنجاب میں پولیس کا عملی کردار ان سنہرے اصولوں سے کوسوں دور نظر آتا ہے۔ قانون کی کتابوں اور سرکاری بیانات میں جو پولیس دکھائی دیتی ہے، وہ ہمیں تھانوں، گلی محلوں بلکہ کہیں انصاف دیتی نظر نہیں آتی۔
سب سے پہلا مرحلہ ایف آئی آر کا ہے، جو شہری کے لیے انصاف کے سفر کا دروازہ ہوتی ہے مگر پنجاب میں یہی دروازہ سب سے زیادہ بند، زنگ آلود اور رشوت کی کنجی سے کھلنے والا بن چکا ہے۔پرچہ نہ دینے پر ایسے زور لگایا جاتا ہے کہ متاثرہ شہری خود ان پر مقدمہ درج کرا رہا ہو۔ مقدمہ صرف ڈکیتی ،چوری اور چھینا چھپٹی ،جس پر پولیس پرچہ درج کرنے سے کتراتی ہے اور ہاں باقی دیگر مقدمات یقینا باقاعدہ جانچ پڑتال کے بعد دینا مقصود ہوتا ہے جیسے کے ریپ ،زیادتی ،بدفعلی اورچیک دس آنر اور فراڈ سمیت دیگر جرائم میں تفتیش لازم جزو ہے مگر ہوتا یہ ان مقدمات کے اندراج کے لئے پیسوں سے پرچہ ہونا ہوا بھی عام ہے ،جس سے جھوٹے مقدمات درج ہونے سے عزت دار اور مظلوم شہری کی عزتوں پر حملہ کیا جاتا ہے اس کے پیچھے بھی ہماری پنجاب پولیس کے کرپٹ افسران اور ملازمین ہیں ۔ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کو رپورٹ طلب کرنے وقت ہے کیونکہ آئی جی پنجاب نے جس طرح پولیس افسران و ملازمین کے مسائل حل کئے ہیں اس کے بدلے اگر یہی پولیس افسران خود میں بدلاو¿ لانے میں تیار نہیں تو ایسے افسران اور ملازمان سے عوام کے تحفظ کی ذمہ داری واپس لی جائے ۔
 متاثرہ شہری تھانے کے چکر لگاتا ہے، منت سماجت کرتا ہے، لیکن پولیس اہلکار مختلف حیلوں بہانوں سے ایف آئی آر درج کرنے سے کتراتے رہتے ہیں۔ کبھی ”اوپر سے اجازت نہیں“، کبھی”یہ ہمارا دائرہ اختیار نہیں “، اور کبھی سیدھا خاموش اشارہ کہ بغیر نذرانے کے بات آگے نہیں بڑھے گی۔
جرائم کی روک تھام کا حال اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ پولیس کا کردار وقوعہ سے پہلے ہونا چاہیے، مگر ہمارے ہاں پولیس ہمیشہ وقوعہ کے بعد جاگتی ہے وہ بھی تب جب میڈیا یا سوشل میڈیا دباو¿ ڈال دے۔ سٹریٹ کرائم، ڈکیتیاں، منشیات فروشی اور قبضہ مافیا دن دیہاڑے سرگرم ہیں، مگر پولیس اکثر یا تو بے خبر ہوتی ہے یا دانستہ آنکھیں بند رکھتی ہے۔
جہاں تک تفتیش کا تعلق ہے، تو یہ مرحلہ پنجاب پولیس کی سب سے بڑی کمزوری بن چکا ہے۔ ناقص تفتیش، جھوٹے گواہ، کمزور چالان اور سیاسی دباو¿ کے تحت کیسز کو دفن کرنا معمول بن گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں اور متاثرہ شہری انصاف سے ہمیشہ کے لیے محروم رہتا ہے۔
امن و امان برقرار رکھنا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر پنجاب میں امن اکثر طاقتور کے لیے مخصوص ہے۔ عام شہری کے لیے جان محفوظ ہے نہ عزت۔ احتجاج ہو تو لاٹھی، آنسو گیس اور گرفتاری جبکہ بااثر طبقہ قانون سے بالاتر نظر آتا ہے۔ یہی دوہرا معیار عوام کے دلوں میں پولیس کے لیے نفرت اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں بنتا کہ پولیس کے پاس وسائل ہیں یا نہیں، صوبے بھر کے تھانوں اور دفاتر کی شکلیں بدل گئیں لیکن پولیس کی حرکتیں بدل سکیں۔ سوال یہ ہے کہ نیت، احتساب اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ کب ہوگا؟ جب تک پولیس کو واقعی عوام کا محافظ بنانے کے بجائے حکمرانوں کا ذاتی محافظ رکھا جائے گا، تب تک یہ ادارہ اپنی اصل ذمہ داریاں نبھانے سے کتراتا ہی رہے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب جو بدل گیا ہے اس کوپورا بدلنے کے لئے بھی آپ کی طرف عوام نے نظریں جمائی ہوئی ہیں۔ فی امان اللہ

مزیدخبریں