وطنی سیاست کا حال، ”گھری ہوئی ہے.... تماش بینوں میں“ کوئی انقلاب نہ تبدیلی صرف ذہنی فتور، پھلجھڑیاں چھوڑنے کا سلسلہ بدستور جاری، سیاسی ٹمپریچر تیزی سے بڑھ رہا ہے، طاقتوروں کا پارہ ہائی ہچکولے کھاتی صورتحال پر برہم لیکن ضبط و تحمل کا اظہار، بڑے فیصلے متوقع جن سے بیانئے بنانے والے مزید مشکلات میں پھنسیں گے۔ دم بدم رنگ بدلتی سیاست، باہر مزاحمت، اڈیالہ روڈ شو، اندر مفاہمت، میثاق جمہوریت کیلئے منت سماجت، ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ دوسرے میں آگ، خان کی پارٹی مزاحمتی اور مفاہمتی دھڑوں میں بٹ کر رہ گئی۔ ایسے میں اصلی تے وڈے کالم نگار محترم حفیظ اللہ نیازی کو کسی دیدہ ور کی تلاش ستانے لگی ہے۔ نرگس 77 سال سے روئے چلی جا رہی ہے۔ دیدوں کی روشنی اندھیروں میں ڈوب چلی، لگتا ہے قوم کی کوکھ بانجھ ہوچکی، مایوسیوں نے دلوں میں گھر کر لیا۔ طیب اردوان جیسا ”در“ نہ مل سکا، جس کی روشن آنکھوں میں ملکی ترقی کے دیپ جلتے نظر آئیں، نیازی صاحب مزید انتظار کرلیں شاید ان کی امید بر آئے ویسے وہ خان سے حد درجہ مایوس ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی ساری سیاست ایک شخص کے دماغ میں محفوظ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ملکی حالات خراب نہ کیے تو یہ لوگ مجھے رہا نہیں کریں گے، اسی لیے وہ تواتر سے کالز دیتا رہتا ہے لیکن چالیس پینتالیس جلسوں اور بیسیوں کالز کے باوجود چالیس پچاس لاکھ عوام سڑکوں پر نہ لا سکا، وہ اپنے آپ کو ہی پی ٹی آئی سمجھتا ہے، اس لیے جس دن منظر سے ہٹا پوری پارٹی لپیٹ لے جائے گا۔ شاید اسی لیے وہ کسی دور اندیش لیڈر کو جانشینی سونپنے سے گھبراتا ہے۔ ان ریمارکس میں اضافہ کرلیجئے کہ خان صاحب مردم شناس نہیں، عثمان بزدار کو وسیم اکرم پلس قرار دے کر پنجاب پر مسلط کیا جس سے بذات خود لیجنڈ بالر شرمندہ ہوئے۔ خیبرپختونخوا صوبہ کے لیے بڑھک باز، زبان دراز اور دراز زلف ہی مل سکے چوتھا وزیر اعلیٰ بھی انڈر 19 کھلاڑی ہی نکلا، آئی ایس او کا جذباتی صدر وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو صوبہ کی حالت سدھارنے اور دہشت گردی کے خاتمے میں وفاقی حکومت اور مسلح افواج سے تعاون کی بجائے دہشت گردی کے ثبوت مانگنے لگا۔ صوبے پر دن رات خوارج کے حملے، افغان لیڈروں کے بھارت کے دورے، جوانوں اور پولیس اہلکاروں کی شہادتیں کیا صوبے میں جن بھوت دندناتے پھرتے ہیں، سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ”بے خبر“ وزیر اعلیٰ کی پول کھول دی۔ ممتاز تجزیہ کار اور سینئر صحافی انصار برنی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان سر زمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ واضح دستاویزی ثبوت موجود ہیں، ٹی ٹی پی صوبہ میں دہشت گردی کرتی ہے۔ آنکھیں بند، دماغ سن، مذاکرات کے کتنے دور ہوئے۔ قطر، ترکیہ اور سعودی عرب نے سمجھایا تحریری امن معاہدے سے انکاری، اور کیا ثبوت چاہیے خان کی رہائی کا ایجنڈا لے کر چلے کراچی پہنچتے پہنچتے ملک دشمنی پر اتر آئے۔ لاکھوں کے گراﺅنڈ میں 5 ہزار کا جلسہ، بندے کم تھے تو کیٹرک ہال بک کرالیتے ۔ لاہور اور کراچی سے اپنی گرفتاری کا سامان لے کر لوٹے، 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور جلانے والوں میں نام نکل آیا۔ 30 گھنٹوں کا رومانس، 40 گھنٹوں کی رسوائی، ذرائع کے مطابق خان صاحب انڈر 19 کھلاڑی کی بری پرفارمنس سے مایوس کہ اس نے مقتدرہ سے رہے سہے روابط بھی ختم کرا دئیے۔ ”خود تو ڈوبے ہیں صنم ہم کو بھی لے ڈوبیں گے“ علیمہ باجی کا منگل شو موضوع بحث ملاقاتیں دو ماہ سے بند، نئے سپرنٹنڈنٹ جیل کا بات سننے سے انکار، بشریٰ بی بی کی شوہر سے ملاقات لیکن سرپر سنتری مسلط بقول حبیب جالب ”حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی“ بہنوں تک رسائی نہیں۔ علیمہ باجی دس ہزار جانثاروں کے انتظار میں ارکان پارلیمنٹ کا رجسٹر کھولے اڈیالہ روڈ پر بیٹھی رہیں۔ 13 ارکان دھرنے میں آئے اور حاضری لگا کر چلے گئے۔ گنتی کے سو ڈیڑھ سو جانثار بھی سر شام گھروں کو لوٹ گئے۔ رات گئے پولیس نے ڈنڈے گھمائے تو انقلاب سر پر پاﺅں رکھ کر بھاگا، غالب محفل خاص سے اٹھائے جانے پر اسی طرح مایوس ہوئے تھے۔ ”سن کے ستم ظریف نے ہم کو اٹھا دیا کہ یوں“ پارٹی ہائی جیک
انڈر 19 کھلاڑیوں اور بیانیوں نے سیاسی جدوجہد کو غتر بود کردیا۔ واضح تاثر مل رہا ہے کہ پارٹی میں تقسیم اور دراڑیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ سیاسی دوڑ میں نظریاتی لیڈر غائب ہوگئے یہی پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ پارٹی کے تابوت میں آخری کیل 16 جنوری 2026ءملکی تاریخ کی انوکھی تقریر، اکلوتی نشست رکھنے والے محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے آزاد ارکان کے دستخطوں سے لیڈر آف اپوزیشن مقرر کردئیے گئے۔ کیا پارٹی کا کوئی امیدوار دستیاب نہیں تھا۔ سپیکر نے دو مہینے انتظار کیا۔ سب خان کے حکم کے تابع، صرف اکبر ایس بابر نے اس تقرری کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ کیا کرے گا قاضی، پارٹی بانجھ ہوگئی، گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے۔ ڈمی امیدوار سامنے لانا پڑے۔ افغانستان اور پشتونستان کا درد دل میں سمائے شخص کو اپوزیشن لیڈر بنانا پڑا۔ قحط الرجال اسی کو کہا جاتا ہے۔ محترم سہیل وڑائچ نے کہانی سنائی کہ 1993ءسے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد تک میاں نواز شریف کے ساتھ رہے۔ الیکشن کے بعد محبت عمران میں ایسے گرفتار ہوئے کہ ساری محبتیں بھلا بیٹھے۔ تقرری کے راستے میں فوج مخالف بیانات رکاوٹ بنے تو میاں صاحب یاد آئے۔ وفد لاہور پہنچا میاں صاحب نے ملنے سے انکار کردیا تو ایک ہرکارہ بھیجا گیا جس نے یقین دہانیاں کرائیں کہ آئندہ بیانات میں احتیاط برتی جائے گی۔ بعض ذرائع نے میاں صاحب کی ”انٹری“ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پس پردہ کہانی چند روز میں منظر عام پر آئے گی۔ سپیکر قومی اسمبلی کی عنایت فروانہ کے بعد سینٹ میں حضرت علامہ کی لاٹری نکل آئی وہ بھی سنگل نشست کے باوجود اپوزیشن لیڈر بن جائیں گے۔ ادھار کی سیاست مستعار لیڈر، پرانی تاریخ بھول جائیں نئی کو یاد رکھیں، نئے اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعظم کے برابر کرسی ملتے ہی اپنا رنگ دکھانا شروع کردیا۔ خان سے ملاقات کا مطالبہ چار ماہ میں عام انتخابات کرائے جائیں سب سے مقبول لیڈر کو رہا کیا جائے، افغانستان کی محبت میں علامہ اقبالؒ کے اشعار سنائے کہ ایشیا کا امن افغانستان سے مشروط ہے۔ منہ بھر کے حکومت کو گھر جانے کا بھی الٹی میٹم دے دیا۔ کئی سوال اٹھ گئے۔ کیا مقتدرہ اس تقرری پر ناراض ہے کیا حکومت کا کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع ہوگیا؟ کچھ نہیں ہوا، کچھ نہیں ہوگا، انقلاب، تبدیلی نہ رہائی، زمینی حقائق واضح، 2029ءتک یہی کمپنی چلے گی۔
نیا اپوزیشن لیڈر، دیدہ ور کی تلاش، ٹمپریچر ہائی
09:04 AM, 19 Jan, 2026