گزشتہ صدی تک محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز سمجھا جاتا تھا مگر اب نہیں۔ نئی صدی میں محبت کے انداز بدلنے کے ساتھ جنگ کے انداز بھی بدل چکے ہیں۔ محبوب ملنے کا وقت دے اور عین وقت پیغام آجائے کہ سوری آج نہیں کبھی پھر سہی یہ ممکن ہے لیکن کشیدگی انتہاﺅں کو چھو رہی ہے۔ بمبار طیارہ دس ٹن میزائل اور تباہ کن بم لاد کر دشمن کے ٹھکانے کی طرف پرواز کر چکا ہو تو پھر واپس نہیں بلایا جاتا کہ آج نہیں کبھی پھر سہی۔ امریکی صدر نے ایران پر حملے کے حوالے سے یہی کیا ہے۔ آپ اعتبار کرنا چاہیں تو کر لیں لیکن عربی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اگر ایسا نہ تھا تو پھر کیا تھا۔ یہ ایک فیک کال سٹوری تھی اس کے سوا کچھ نہ تھا۔
ہر شخص کا اپنا ہیرو اپنا ولن ہوتا ہے۔ اپنا چور اپنا سپاہی ہوتا ہے۔ جنگ ملتوی ہونے کا کریڈٹ ایک سے زائد شخصیات کا ہے۔ اس حوالے سے تمام شخصیات قابل احترام ہیں۔ سعودی عرب،قطر، اومان، ترکی، روس، چین اور پاکستان کے سربراہان نے اپنا اپنا کردار ادا کیا لیکن کیا امریکی صدر کو سب نے مل کر جو سمجھایا وہ سمجھ گئے اور انہوں نے ایران پر حملے کا منصوبہ ملتوی کر دیا ، تو ایسا بھی نہیں ہے، کہانی کچھ اور تھی۔
دو ہفتے قبل دو رپورٹس میڈیا پر موضوع بحث تھیں۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہ امریکی فوج، سی آئی اے اور بعض دیگر اداروں نے تیار کی ہیں اور امریکی صدر کو پیش کی گئی ہیں جنہیں بغور پڑھنے اور تازہ ترین بریفنگ حاصل کرنے کے بعد امریکی صدر نے ایران پر حملے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ رپورٹیں تیار کرنے سے قبل امریکی صدر نے مبینہ طور پر اپنے اداروں سے کیا پوچھا تھا یہ بہت اہم تھا۔
پہلا سوال تھا امریکہ نے گزشتہ برس ایران پر جو حملہ کیا اس نے ایران کو کس قدر متاثر کیا۔ بتایا گیا کچھ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوئے بعض جگہ بم گرنے سے پانی نکل آیا، کچھ عمارتیں کچھ گاڑیاں تباہ ہوئیں ، بعض افراد نے جام شہادت نوش کیا لیکن ایران کا جوہری پروگرام محفوظ رہا۔ وہ بروقت اپنا یورینیم نکال کر کسی محفوظ مقام یا ملک تک منتقل کر چکے تھے۔ ایرانی نیوکلیئر سامان تیار کرنے والے آلات، پلانٹ کسی ایک جگہ پر نہیں بلکہ مختلف حصوں میں مختلف جگہوں پر کام کر رہا تھا لہٰذا محفوظ رہا۔ پوچھا گیا ایران پر حملہ کریں تو وہ کتنا عرصہ مقابلہ کر سکتا ہے۔ جواب تھا ایران بہ آسانی چھ ماہ تک مقابلہ کر سکتا ہے لیکن ابتدائی پندرہ روز میں وہ مختلف اسلامی ممالک میں امریکی اڈوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو مکمل تباہ کر سکتا ہے۔ تیسرے ہفتے میں دیگر اسلامی اور بعض غیر اسلامی ممالک اعلانیہ کچھ غیراعلانیہ ایران کی مدد کو آجائیں گے جبکہ روس اور چین جنگ شروع ہونے سے قبل ہی اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ وہاں موجود ہیں۔
اہم سوال یہ تھا کہ ایرانی حملے سے اسرائیل کو کتنا نقصان ہو گا۔ بتایا گیا اسرائیل مکمل تباہ ہو سکتا ہے۔ آج غزہ جس طرح کھنڈر بن چکا ہے، اسرائیل کے پانچ بڑے شہروں میں یہی منظر ہو گا۔
پوچھا گیا ہم اسرائیل کو کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں یا اس کے نقصان کو کس طرح کم کر سکتے ہیں تو واضح کہا گیا ایران ”آل آﺅٹ وار“ پر جائے گا، وہ آئندہ کے لئے کچھ ادھار نہیں رکھے گا لہٰذا اسرائیل کو نقصانات اور تباہی سے بچانا ممکن نہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ محمد رضا شاہ پہلوی کو ایرانی قوم قبول کرے گی تو واضح کہا گیا ہرگز نہیں۔ اول تو محمد رضا شاہ کو وہاں فٹ کرنا مشکل ہے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو بھی گئے تو اسے ایرانی فوج، پاسداران انقلاب یا کوئی عام شہری قتل کر دے گا کیونکہ ایرانیوں نے موجودہ نظام کو قائم کرنے اور بادشاہت کو اکھاڑ پھینکنے میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ اس نظام کی جڑیں بہت مضبوط ہو چکی ہیں، اس کی آبیاری لہو سے کی گئی ہے۔
اہم سوالوں میں سے ایک سوال یہ تھا کہ ہم آبنائے ہرمز کو بند ہونے سے کیسے بچا سکتے ہیں تو اس کا جواب تھا امریکہ تنہا یہ نہیں کر سکتا، اسے اور ملکوں کی نیوی کی ضرورت ہو گی۔ ایران کے معاملے پر پہلے مختلف ممالک کی پوزیشن اور تھی، اب وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد سوچ میں تبدیلی ہے جو امریکہ کے حق میں نہیں۔ اہم ترین سوال یہ تھا کہ ہم امیر معظم ایرانی سپریم لیڈر جناب علی خامنہ ای کو نکولس مادورو کی طرح اغوا کر کے لا سکتے ہیں تو اس کے جواب میں بتایا گیا اس کا علم تو حملے کے بعد ہو گا لیکن کامیابی کا امکان کم ہے۔ جگ ہنسائی کا زیادہ ہے۔ امریکی اداروں کی رپورٹیں فائنل بریفنگ کے بعد ٹرمپ کا منہ لٹک گیا کیونکہ انہیں ہر سوال کا جواب منفی ملا۔ ہر قدم پر ناکامی کے واضح امکانات دیکھ کر انہوں نے اسی وقت حملے کا فیصلہ ملتوی کر دیا لیکن اپنی اور امریکہ کی ساکھ بچانے کے لئے بڑھکیں مارتے رہے، ان کی ہدایت پر ہی ایران پر حملے کی فیک خبر لیک کی گئی اور امریکی سرپرستی میں اس کی خوب تشہیر کی گئی۔ ہر رپورٹر اسی خبر کو ”بریکنگ“ کے طور پر نشر کر رہا تھا اور موضوع گفتگو ایران پر حملہ ہی تھا۔ یہی رپورٹ اسرائیلی وزیراعظم اور اسرائیلی اداروں کو بھجوائی گئی۔ نیتن یاہو نے یہ رپورٹ پڑھی اور اپنی ایجنسی سے پوچھا تو انہوں نے اس بات کی تائید کی کہ رپورٹ حقائق پر مبنی ہے جس کے بعد نیتن یاہو کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے، ان کے چہرے کا گلابی رنگ پیلا پڑگیا۔ انہوں نے عجلت میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو فون کیا اور مدد طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حملہ میں ان کا یا اسرائیل کا کوئی ہاتھ نہیں ہو گا۔ یہ اب امریکہ اور ایران کا معاملہ ہے۔ براہ مہربانی ہماری طرف سے ایران کو یقین دلا دیں کہ ہم ان پر پہلے حملہ نہیں کریں گے۔ پیوٹن نے نیتن یاہو کے خیالات ایرانی قیادت تک پہنچائے تو ادھر سے بھی کہا گیا کہ ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں رہیں گے۔ ہم پہلے حملے پر یقین نہیں رکھتے، ہم نے ماضی میں بھی پہل نہیں کی۔
دوسری طرف بعض طاقتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ رجیم چینج کے لئے نئی منصوبہ بندی کریں۔ اس حوالے سے امریکی طرزعمل کے مطابق کنٹریکٹرز سے رابطے کئے جا رہے ہیں اور انہیں اپنا کام تیز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں آپ کئی ریمنڈ ڈیوس ان ایکشن دیکھیں گے، جنہیں اب سزائے موت کا خوف نہیں ہو گا۔ وہ زیادہ سے زیادہ رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں گے لیکن امریکہ انہیں ماضی کی طرح موت کے منہ سے بچا لے جائے گا۔ امریکی اور یورپی دباﺅ پر نصف دنیا نے سزائے موت ختم کر دی ہے۔ اس کا فائدہ امریکی اسرائیلی اور بھارتی ایجنٹ اٹھائیں گے۔ بعض اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے اداروں کو نئی منصوبہ بندی کرنے کا حکم دیا ہے۔ گمان ہے وہ آٹھ روز سے پندرہ روزہ ایڈونچر میں اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں بتایا گیا ہے ایران غیرت مندوں، بہادروں اور جنگجوﺅں کی سرزمین اور ہزاروں سالہ پرانی تہذیب ہے جو کبھی غلام نہیں رہی۔ انہوں نے کبھی ہتھیار نہیں ڈالے، وہ مرتے رہیں گے لیکن لڑتے رہیں گے۔
نئی امریکی منصوبہ بندی
09:04 AM, 19 Jan, 2026