فتنہ الہندوستان کی پروردہ کالعدم دہشتگرد تنظیمیں طویل عرصے سے بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کےلئے دہشتگردی پھیلارہی ہیں۔ ان تنظیموں کی تمام تر سرگرمیوں کا مقصد ایک ہی رہا ہے بلوچستان کو عدم استحکام کا شکار رکھنا تاکہ بیرونی آقا¶ں کے مفادات پورے کیے جا سکیں۔ 15 جنوری 2026 کو ضلع خاران میں ہونے والی دہشتگردی کی کوشش اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جو سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مو¿ثر کارروائی کے باعث مکمل طور پر ناکام بنا دی گئی۔ 15 جنوری کو فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 15 سے 20 مسلح دہشتگردوں نے خاران شہر میں ایک دہشتگردانہ حملے کی کوشش کی۔ دہشتگردوں کا واضح ہدف مختلف بینک تھے جن کو لوٹنا مالی مفادات اور بیرون ملک بیٹھے آقا¶ں کی عیاشیوں کےلئے رقم کے حصول کی ایک ناکام کوشش تھی۔ تاہم خاران میں تعینات سکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت، جرا¿ت اور بروقت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کے منصوبے کو ابتدا ہی میں ناکام بنا دیا۔ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں ابتدائی جھڑپ کے دوران چار دہشتگرد موقع پر ہی جہنم واصل کر دئیے گئے۔ بعد ازاں فرار کی کوشش کے دوران مزید پانچ دہشتگردوں کو گھیرے میں لے کر جہنم رسید کیا گیا جبکہ تعاقب اور کلیئرنس آپریشن کے دوران مزید پانچ دہشتگردوں کو بھی انجام تک پہنچایا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر 14 دہشتگردوں کو ہلاک کر کے دشمن کے مذموم عزائم کو مکمل طور پر خاک میں ملا دیا گیا۔ دہشتگرد پولیس سٹیشن پر یرغمالی صورتحال پیدا کرنے میں بھی ناکام رہے اور اپنے جہنم رسید ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے، جو ان کی ذلت آمیز شکست کا ثبوت ہے۔ واضح رہے کہ ان دہشتگردوں نے اپنی مکمل ناکامی کے بعد دانستہ طور پر سول آبادی کو نشانہ بنایا۔ اس بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں ایک بلوچ خاتون اور دو معصوم بچے زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ یہ کالعدم تنظیمیں بلوچ عوام کی نمائندہ ہیں اور نہ ہی ان کے نام نہاد دعوے کسی اخلاقی یا سیاسی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ عورتوں اور معصوم بچوں کوظلم وبربریت کا نشانہ بنانا دہشتگردی کی بدترین شکل ہے اور یہی ان گروہوں کی اصل پہچان ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں امن دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کےلئے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز اس عزم کے ساتھ متحرک ہیں کہ کسی بھی دہشتگرد کو دوبارہ منظم ہونے یا فرار ہونے کا موقع نہ دیا جائے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی اپیکس کمیٹی سے منظور شدہ ویژن ”عزم استحکام“ کے مطابق غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کےخلاف کارروائیاں پوری شدت اور تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور مستقبل میں بھی رہیں گی۔ خاران واقعے کے فوراً بعد فتنہ الہندوستان کے سہولت کاروں نے حسب روایت سوشل میڈیا پر من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن پراپیگنڈا مہم شروع کر دی۔ کہیں بینک لوٹنے کے جھوٹے دعوے کیے گئے، کہیں پولیس سٹیشن پر قبضے کی افواہیں پھیلائی گئیں اور کہیں ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا بیانیہ گھڑا گیا۔ یہ تمام اوچھے ہتھکنڈے اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہیں کہ دہشتگرد اپنے ناپاک عزائم میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ بیرونی آقا¶ں کو خوش کرنے اور مزید فنڈنگ حاصل کرنے کےلئے جھوٹ پر مبنی بلند بانگ دعوے کرنا ان کالعدم تنظیموں کا پرانا وتیرہ ہے۔ تاہم اب یہ بیانیہ نہ صرف اپنی کشش کھو چکا ہے بلکہ باشعور بلوچ عوام اسے یکسر مسترد کر چکے ہیں۔ بلوچ عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ نام نہاد آزادی کے یہ دعویدار دراصل ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں، جو صرف خون، خوف اور بدامنی کے سوا کچھ نہیں دے سکتے۔ یہ حقیقت بھی اب واضح ہو چکی ہے کہ ان نام نہاد بلوچ آزادی پسند تنظیموں کی جدو جہد کوئی سیاسی یا نظریاتی نہیں، بلکہ ان کی سرگرمیاں بینک ڈکیتیوں، عام نہتے شہریوں پر حملے، مقامی ٹھیکیداروں اور تاجروں سے بزور اسلحہ بھتہ وصولی، اغوا برائے تاوان، خواتین کی نازیبا ویڈیو بنا کر انہیں خودکش بمبار بنانے اور دہشتگردی تک محدود ہو چکی ہیں۔ یہ گروہ بلوچ عوام کے مسائل کے حل کے بجائے بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل میں مصروف ہیں اور اپنی بقا کےلئے مسلسل جھوٹ اور تشدد کا سہارا لے رہے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ جن بینکوں کو لوٹنے کی کوشش کی گئی ان میں تو بلوچ عوام کا پیسہ تھا۔ یہ کیسی بلوچ آزادی اور حقوق کی لڑائی ہے کہ جس میں بلوچوں کو ہی لوٹا جا رہا ہے، روز بروز ترقیاتی منصوبوں اور مواصلاتی نظام کو نقصان پہنچا کر بلوچ عوام کو ترقی اور خوشحالی سے محروم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ایسا کرنے کی وجہ پسماندگی اور محرومیوں کے چورن کو بیچ کر دشمن کے ایجنڈے کو فروغ دینا اور بلوچ نوجوانوں کو ریاست کےخلاف بغاوت پر اکسانا ہے۔ خاران میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی نہ صرف ایک دہشتگردانہ حملے کی ناکامی ہے بلکہ یہ ریاستی عزم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور واضح پالیسی کا اظہار بھی ہے۔ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست دہشتگردی کےخلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بلوچستان کے امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ خاران میں دہشتگردوں کا حملہ ہر لحاظ سے ناکام رہا۔ سکیورٹی فورسز نے دشمن کے مذموم مقاصد کو خاک میں ملا دیا، جس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں خاران حملے میں عوام کے جان ومال کے تحفظ اور دہشتگردوں کےخلاف کامیاب آپریشن پر بالخصوص ایف سی بلوچستان (ساﺅتھ) کو خراج تحسین پیش کیا، جبکہ دوسری طرف دہشت گرد اپنی ذلت آمیز شکست کے بعد جھوٹے پراپیگنڈے کے سہارے حقیقت سے فرار کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم حقائق واضح ہیں فتنہ الہندوستان اور اس کی کالعدم تنظیمیں ناکام، بے نقاب اور عوام میں مسترد ہو چکی ہیں، جبکہ ریاستی ادارے پوری قوت کے ساتھ امن کے قیام کےلئے پُرعزم ہیں۔ اس وقت عوام اپنی ریاست اور اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، دشمن کا بیانیہ زمین بوس ہو چکا اور بلوچستان تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔
خاران میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد وں کا حملہ ناکام
09:04 AM, 19 Jan, 2026