یقین کے فقدان میں بکھرتی انسانیت

09:04 AM, 19 Jan, 2026

انسان کی فطرت میں نیکی اور برائی، محبت اور حسد، بھلائی اور خود غرضی ہر دور میں ہمہ گیر بنیادیں رکھتی ہیں۔ ایسے میں یقین اور اعتماد انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو رشتوں کو زندہ رکھتی ہے دلوں کو جوڑتی ہے اور تعلقات کوایک مضبوط ستون فراہم کرتی ہے۔ لیکن آج ہمارے سماج میں یہ روشنی مدھم پڑ چکی ہے شک، بداعتمادی اور خوف نے دلوں کے اندر خلا پیدا کر دیا ہے۔ وہ تعلقات جو کبھی سکون اور محبت کا گھر تھے اب خالی ڈھانچوں میں بدل گئے ہیں۔ یہ فقدان صرف فرد تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔ ہم نے شادی کو ایک مقدس رشتہ، دل کی قربت اور ایک باہمی وعدہ سمجھنا چھوڑ دیا۔ اب اسے محض مجبوری یا رسم و رواج کی قید میں نبھایا جاتا ہے۔ انسان کی فطرت میں سب سے بنیادی ضرورت یقین ہے، وہ بھوک، پیاس، محرومی اور تکلیف سے سمجھوتا کر لیتا ہے مگر بے یقینی کے ساتھ زندگی گزارنا اس کے لیے سب سے کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ اسی یقین نے انسان کو تعلقات کی طرف مائل کیا، خاندان کی بنیاد رکھی اور نکاح جیسے رشتے کو محض سماجی بندھن نہیں بلکہ اعتماد کی علامت بنایا۔ یہ اعتماد ہی وہ خاموش عہد ہے جس پر ہر انسانی معاشرہ کھڑا ہے۔ لیکن جب یہی عہد کمزور پڑنے لگے تو رشتے ٹوٹنے سے پہلے ہی اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ آج ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں تعلقات بظاہر قائم ہیں مگر اندر سے خوف، شک اور بدگمانی کی گرفت میں ہیں۔ یقین نے آہستہ آہستہ اپنی جگہ احتیاط کو دی، احتیاط شک میں بدل گیا اور شک نے بدگمانی کی صورت اختیار کر لی۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں رشتہ موجود ہوتے ہوئے بھی اپنی روح کو کھو دیتا ہے۔ ازدواجی زندگی جو کبھی اعتماد، برداشت اور باہمی تحفظ کی علامت سمجھی جاتی تھی اب مسلسل نگرانی اور ذہنی دفاع کی کیفیت میں بدل چکی ہے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھی کم اور رویوں کے محتسب زیادہ بن گئے ہیں۔ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح محض قانونی مسئلہ نہیں یہ سماجی ذہن کی شکست کا اعلان ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے رشتوں کو نبھانے کے اخلاقی ہنر کھو دئیے ہیں۔ آج اختلاف کو برداشت کے بجائے خطرہ سمجھا جانے لگا ہے خاموشی کو راز اور فاصلے کو خیانت گردانا جاتا ہے۔ ان تبدیلیوں کی وجوہات محض ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہیں۔ سوشل میڈیا نے انسان کو مسلسل تقابل کے عمل میں دھکیل دیا۔ ہر رشتہ اب کسی اور رشتے سے ناپا جاتا ہے، ہر زندگی کسی اور زندگی سے کم محسوس ہوتی ہے۔ معاشی اور نفسیاتی دباﺅ کے باعث محبت و اخلاص کی جگہ ضرورت اور مفاد نے لے لی اور یہی خوف بدگمانی کی سب سے بڑی وجہ بن گیا نتیجتاً اطمینان ختم ہو گیا اوراس کی جگہ شکوک نے جنم لے لیا۔ معاشرتی دباﺅ، معاشی عدم تحفظ اور جذباتی تربیت کی کمی نے اس عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا۔ ہمارا سماج سوال کرنے کے بجائے الزام لگانے کا عادی ہو چکا ہے ہم بات کرنے اور سننے سے پہلے ہی نتیجہ نکال لیتے ہیں۔ برداشت جو کسی بھی رشتے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے آہستہ آہستہ ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ہم اب یہ بھول چکے ہیں کہ اختلاف بددیانتی نہیں ہوتا اور خاموشی ہمیشہ ہی کسی سازش کا حصہ نہیں ہوتی ہے۔ رشتے انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں یہ صرف تعلقات نہیں بلکہ انسانی وجود کے عمیق حصے ہیں جن کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ ان رشتوں میں موجود یقین نہ صرف تعلقات کو مضبوط کرتا ہے بلکہ انسان کی روح کو بھی روشن رکھتا ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے، طوفان میں سہارا دیتی ہے اور دل کو سکون پہنچاتی ہے۔ 
معاشرہ جب اجتماعی سطح پر یقین کھو دے تو اس کے اثرات صرف گھروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندانی نظام کمزور ہوتا ہے، برداشت ختم، سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے، اختلاف تصادم میں بدل جاتا ہے اور فرد تنہا ہوتے ہوئے بھی ہجوم میں گھرا رہتا ہے۔ ادارے، تعلقات اور اقدار سب مشکوک ٹھہرنے لگتے ہیں، قانون موجود ہوتا ہے مگر اخلاقی ربط ٹوٹ چکا ہوتا ہے اور یہی خلا معاشی عدم استحکام کو جنم دیتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم آج ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں لوگ ساتھ تو رہتے ہیں مگر ایک دوسرے سے ہی خوفزدہ ہیں۔ آج ہر رشتہ محتاط ہے، ہر قربت اب پُرسکون نہیں رہی، ہر ساتھ اب خوف اور شک کی زنجیروں میں قید ہے۔ اس کا سب سے گہرا اثر آنے والی نسل پر پڑ رہا ہے، ایسے گھروں میں پلنے والے بچے جہاں رشتے اعتماد کے بجائے بدگمانی کے اصول پر قائم ہوں جذباتی طور پر محفوظ نہیںہوتے بلکہ خوفزدہ رہتے ہیں۔ وہ یہی سیکھتے ہیں کہ تعلق سکون نہیں بلکہ خطرہ ہے اور قربت ذمہ داری کے بجائے خدشہ۔ یہ بچے بڑے ہو کر یا تو رشتوں سے فرار اختیار کرتے ہیں یا انہیں شک، کنٹرول اور دفاعی رویوں کے ذریعے نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں عدم اعتماد ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی رشتہ انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا ہر تعلق دوسروں کی نیتوں، احساسات اور رویوں کا مرکب ہوتا ہے۔ کسی بھی رشتے کو زندہ رکھنے کے لیے سب سے پہلی شرط اعتماد ہے۔ وہ اعتماد جو شعوری طور پر قائم کیا جاتا ہے جو ہر شک کے بعد دوبارہ منتخب کیا جاتا ہے۔ رشتے کبھی خودبخود محفوظ نہیں رہتے ہیں انہیں سنبھالنا پڑتا ہے دکھاوا وقتی قبولیت تو دے سکتا ہے مگر دائمی تعلق کبھی نہیں دے سکتا۔ اصل رشتہ وہی ہے جہاں انسان خود کو ثابت کرنے کے بجائے خودکو قبول کرا سکے۔ جہاں سوال پر سزا اور اختلاف پر رشتہ خطرے میں نہ پڑ جائے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ہمارے رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم انہیں بچانے کے لیے کتنا بولنے، کتنا سننے اور کتنا اعتماد کرنے پر تیار ہیں۔ جب تک بدگمانی کو عقل، شک کو حکمت اور دکھاوے کو سماجی ضرورت سمجھا جاتا رہے گا رشتے یونہی دم توڑتے رہیںگے۔ اصل دانش تو یہ ہے کہ ہم بولنے کا حوصلہ پیدا کریں، سننے کی عادت ڈالیں اور اعتماد کو خطرے کے بجائے ضرورت سمجھیں۔ اب وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ہم رشتوں کو عدالت کے کٹہرے سے نکال کر واپس دل میں جگہ دیں ورنہ اندیشہ ہے کہ ہم ایسے معاشرے میں زندہ رہ جائیں گے جہاں تعلقات تو ہوں گے مگر تعلق نہیں ہو گا۔

مزیدخبریں