مولاناتاج محمود ایک مذہبی و سماجی راہ نما،معلم، نویسندہ اور جریدہ نگارتھے ،قومی اور مذہبی تحریکوں میں سرگرم حصہ لینے کے ساتھ ساتھ وہ تعلیمی اداروں کے قیام،ہفتہ وار خطبات اور اپنی تحریری کا وشوں کے ذریعے اصلاح معاشرہ کا فریضہ انجام دیتے رہے ۔ ملی وقومی جذبات کے اظہار اورقارئین کی درست سمت میں راہ نمائی کے لیے انہوںنے ۱۹۶۴ءمیں ایک ہفتہ وار رسالہ جاری کیا۔اس زمانے میں جہازی سائز کے رسائل کا رواج تھا جسے آپ آج کل کے اخباری سائز کا نصف کہہ سکتے ہیں یہی سائز تھا جس پر اس زمانے میں شورش کاشمیری کا” چٹان“ اور شیرمحمداختر کا ”قندیل“ اورسبط حسن کا”لیل ونہار“ نکلاکرتے تھے ۔اب اس سائز پر نکلنے والے چندہی رسائل رہ گئے ہیں باقی رسالوں کا سائز سکڑتے سکڑتے موبائل کی سکرین تک محدود ہوچکاہے ۔مولاناکی شخصیت کا بنیادی رنگ مذہبی تھا، انہوںنے اپنے رسالے کے لیے” لولاک“ کانام منتخب کیا۔طباعت کی دنیامیں اب جس قدر ترقی ہوچکی ہے اس سے مستفیدہونے والے اندازہ نہیں کر سکتے کہ پہلے چار رنگی طباعت کے لیے کتنااہتمام کرنا پڑتاتھا ۔ بلاک کی پرنٹنگ کے طریقے سے ہررنگ کاالگ جستی بلاک بنوایاجاتاتھا اور ہررنگ کی الگ الگ طباعت ہوتی تھی ۔ عام طورسے اس مقصد کے لیے ٹریڈل مشینیں استعمال کی جاتی تھیں۔ پہلے یہ مشینیں بھی دستی تھیں، بعدمیں ان میںبھی موٹریں لگ گئیں۔ مولانانے بڑے اہتمام سے پہلے شمارے کا سرورق اس طریق طباعت سے چار رنگوں میں شائع کیااور اس پر بڑی خوبصورت کتابت کے ساتھ یہ شعربہ طورشعار درج کیا گیا
گرارض وسماکی محفل میں لَولاکَ لَما کا شورنہ ہو
یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں، یہ نور نہ ہوسیاروں میں
یہ مولاناظفرعلی خان کامشہور شعر ہے جو ان کی ایک نعت میں شامل ہے ۔یہ نعت مولانا کے اوّلین شعری مجموعے حبسیات کی طبع اول (۱۹۲۶ئ)میں بعنوان ”شمع حرا“شامل ہے ۔ بعدازاں بہ اختلاف عنوان یہ ان کے ایک دوسرے مجموعے خیالستان میں بھی شامل کی گئی ،یہاں اس کا عنوان تبدیل کرکے ”صلّوعلیہ وآلہ “(ص۲۸)کردیا گیا دونوںاندراجات میں عنوان ہی کا فرق نہیںمتنی اختلافات بھی ہیں تاہم محولہ بالا شعر کے متن میں کوئی اختلاف نہیں۔
اس شعر کا ماخذ مشہور حدیث قدسی لولاک لماخلقت الافلاکہے جس کا مطلب ہے کہ اگرآپ کو پیدانہ کیاجاتاتو افلاک کو پیدانہ کیاجاتا۔یہ روایت دنیائے شعرمیں رواج پاجانے کے سبب مذہبی تقدس اختیارکرگئی جس کے تسلسل میں مولاناظفرعلی خان نے بھی اسے اختیارکرلیا۔ مولاناظفرعلی خان ہی پر کیاموقوف، مولاناروم کے ہاں ”مثنوی معنوی “کے دفترپنجم میں بھی یہ روایت دکھائی دیتی ہے
با محمد بود عشق پاک جفت
بہرعشق اورا خدا لولاک گفت
شیخ فریدالدین عطارنے بھی” منطق الطیر“میں اس مضمون کو برنگ دگر”آفرینش را جزاومقصودنیست“کے الفاظ میں بیان کیاہے ۔ہمارے میرصاحب نے البتہ اس سے ایک نیااور نہایت خیال انگیزمضمون نکالاہے
انسان ہوجو کچھ ہے ادراک سرلولاک
ناداں زمیں زماں سے مطلوب آدمی ہے
غالب کی نعت کایہ بے مثل شعر اہل علم سے مخفی نہیں
غالب ثنائی خواجہ بہ یزدان گزاشتیم
کان ذات پاک مرتبہ دان محمداست
مولاناتاج محمودکے ممدوح مولاناسیدعطاءاللہ شاہ بخاری صاحب نے اسی زمین میں ایک یادگارنعت کہی تھی جو ان کے مجموعہ کلام ”سواطع الالہام“ میں شامل ہے ،نعت کا مطلع ہے
لولاک ذرئہ زجہان ِمحمد است
سبحان من یراہ چہ شانِ محمداست
یہ شعر یااس کا مصرع اولیٰ بھی ہفت روزہ لولاک کی پیشانی پر لکھاگیا لیکن بعدکے زمانے میں ،مولاناظفرعلی خان اور سیدعطاءاللہ شاہ بخاری کے یہ دونوں اشعار ہفتہ وار ”لولاک “کی پیشانی سے غائب ہوگئے۔
مولاناحالی کے بہ قول شاعرانہ صداقت کا خارج میں موجودہونا ضروری نہیں، یہ محض شاعر کے عندیے میں بھی ہوسکتی ہے ۔ جب شاعر انہ صداقت کی وسعتوں کا یہ عالم ہواور شاعر، مذہبی معاملات میں اپنے تخیل کی پروازکو بروئے کار لانے پرمصرہوتو نتیجہ ویساہی نکل سکتاہے جیساکہ محولہ بالا روایت کے شعری اظہارات کا نکلا ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت قرآن کے اس تصورسے میل کھاتی دکھائی نہیں دیتی، جس میں انسانوں اور جنوں کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت کو قراردیاگیاہے۔
ازروئے قرآن رسولوں میں کوئی تفریق نہیںالبتہ ان کے مراتب میں تفضیل ایک حقیقت ہے ۔جسے سورئہ بقرہ میں صراحت کے ساتھ بیان کردیاگیاہے کہ کسی رسول سے اللہ خودہم کلام ہوا،کسی کی روح القدس کے ذریعے تائیدکی گئی ۔صحیح مسلم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیائے ماقبل پر اپنی فضیلت کی وضاحت کرتے ہوئے چھ امورکی نشان دہی فرمائی۔ آپ کو جوامع الکلم عطاکیے گئے،رعب خاص کے ذریعے آپ کو نصرت الٰہی ملی،آپ کے لیے مال غنیمت کو حلال کیاگیا،آپ کی شریعت میں تمام زمین کو پاکیزہ اورمسجدبنادیاگیا،آپ کو تمام دنیاکے لیے مبعوث کیاگیا اورآپ پر نبوت ختم کردی گئی ۔ (رقم ۱۱۶۷)
مولاناتاج محمودمرحوم کی شخصیت میں مذہبی جذبے اور اس میں بھی محبت رسول کوکلیدی حیثیت حاصل تھی ۔انہوںنے حضور کی ختم نبوت کے تحفظ کےلئے زندگی بھراپنی تمام توانائیاں اور صلاحیتیں صرف کیں ۔وہ عمربھرمحبت رسول سے سرشاررہے۔ رسالت مآب کے ذکرپر ان کی آنکھیں نم ہو جایا کرتیں اور لب و لہجہ مرتعش۔ انہوںنے جب اپنا رسالہ نکالاتو اس کےلئے نام کاانتخاب کرتے ہوئے بھی ان کے اسی جذبے نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مولانا ایک عالم اور حب رسول میں ڈوبے ہوئے مذہبی راہ نماتھے۔ ان کی شخصیت میں توازن کا یہ عالم تھاکہ وہ رائج تصورات وافکارپر تنقیدبھی کرسکتے تھے ۔عام زندگی میں بھی وہ لوگوں کے ان رویوں کو نشانہ تنقیدبنایاکرتے تھے جو اپنے افکارپرنظرثانی کےلئے آمادہ نہیں ہوتے جس کے نتیجے میں وہ کاٹھ کے کرداربن کر رہ جاتے ہیں ۔ آغازمیں انہوںنے اپنے رسالے کےلئے جو شعربہ طور شعارمنتخب کیااورجو اس کی پیشانی پر بہ طورشعارلکھاجاتارہا بعدکے مطالعے کے نتیجے میں انہوںنے اسے ترک کردیا اور ترک کرنے کے بعد پھرکبھی اس کا اعادہ نہیں فرمایا۔ یہ رویہ ظاہرکرتاہے کہ لولاک لماخلقت الافلاک کاجوجملہ بہ طورحدیث قدسی نقل ہوتاآیاہے اس حوالے سے مولاناکے خیالات میں تبدیلی آگئی تھی۔
لولاک اور مولاناتاج محمود
09:03 AM, 19 Jan, 2026