واشنگٹن : وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کو پاکستان کا اولین مشن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مستقل استحکام کے لیے ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کی تشکیل ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے واشنگٹن میں منعقدہ "بورڈ آف پیس" کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے امن کے حوالے سے اہم عالمی تناظر پیش کیے۔وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے حوالے سے آج کے دن کو "تاریخ کا سنہری باب" قرار دیا اور واضح کیا کہ غزہ میں پائیدار امن کا قیام ہی ہمارا اصل مشن اور ترجیح ہے۔
شہباز شریف نے بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جرات مندانہ مداخلت کی تعریف کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت اور موثر مداخلت کی بدولت ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ کا خطرہ ٹلا۔ اس جنگ بندی سے نہ صرف خطہ بڑی تباہی سے بچا بلکہ ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن ہوا۔
وزیراعظم نے بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی کو باعثِ افتخار قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ عالمی قیادت کو اب الفاظ سے آگے بڑھ کر جنگوں کی روک تھام اور انسانیت کی بقا کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ فورم عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر: وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن میں "بورڈ آف پیس" سے خطاب
09:56 PM, 19 Feb, 2026