اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ کے اس حالیہ بیان کو "سیاسی افسانہ" قرار دے دیا ہے جس میں انہوں نے بانی پی ٹی آئی کو دو مرتبہ ڈیل آفر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک تیکھے ردعمل میں فیصل واوڈا نے رانا ثناء اللہ سے تین بنیادی سوالات پوچھ لیے: کب؟ کہاں؟ اور کیسے؟ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر ایسی کوئی ڈیل حقیقت تھی تو اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں، ورنہ محض ہوا میں تیر چلانے سے پرہیز کیا جائے۔ فیصل واوڈا نے رانا ثناء اللہ کو مشورہ دیا کہ "سیاسی باریک وارداتیں" اب پرانی اور فرسودہ ہو چکی ہیں، عوام اب اتنے نادان نہیں رہے، اس لیے کچھ نیا سوچنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر واوڈا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آپ لوگ دراصل "خوش قسمت" ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے آپ کی مبینہ ڈیل نہیں مانی۔ اگر وہ اسے قبول کر لیتے تو انہوں نے باہر آ کر آپ لوگوں کو معاف نہیں کرنا تھا بلکہ دوبارہ آپ ہی کے پیچھے آنا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان کا اختتام اس جملے پر کیا کہ "انسان کی عادت بدلی جا سکتی ہے، مگر فطرت نہیں"، جس کا واضح اشارہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے مخالفین کے خلاف سمجھوتہ نہ کرنے والے رویے کی طرف تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فیصل واوڈا کا یہ بیان اس سیاسی بے چینی کو ظاہر کرتا ہے جو "ڈیل اور ڈھیل" کی افواہوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ رانا ثناء اللہ کے دعوے نے جہاں ن لیگ کے بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی، وہیں واوڈا کے جوابی حملے نے اس دعوے کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
رانا صاحب! خیالی پلائوبنانا چھوڑیں: فیصل واوڈا کا تیکھا رد عمل
09:30 PM, 19 Feb, 2026