تہران/نیویارک: مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بادل گہرے ہوتے ہی ایران نے اپنے سٹریٹجک اثاثوں کو بچانے کے لیے 'تاریخی قلعہ بندی' کا آغاز کر دیا ہے۔ عالمی میڈیا کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر نے ایران کے خفیہ دفاعی منصوبوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے، جس کے مطابق تہران اپنے میزائل اڈوں اور ایٹمی پلانٹس کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے انہیں پہاڑوں کے اندر دفن کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے حالیہ ہفتوں میں اپنے دفاعی ڈھانچے میں درج ذیل انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔
نطنز اور اصفہان کا 'آہنی حصار': ایران نے اپنے سب سے اہم جوہری مراکز کے گرد سرنگوں کے جال بچھا دیے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرنگوں کے پرانے داخلی راستوں کو مٹی اور کنکریٹ سے دفن کر کے نئے، زیادہ مضبوط اور خفیہ راستے تعمیر کیے گئے ہیں۔
پارچین کمپلیکس کی ازسرِ نو تعمیر: تہران کے قریب واقع حساس ترین فوجی مرکز پارچین میں بھاری کنکریٹ کے بنکرز بنائے جا رہے ہیں تاکہ اسے کسی بھی ممکنہ میزائل حملے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
میزائل بیسز کی 'انڈر گراؤنڈ' منتقلی: شیراز اور قم کے میزائل اڈوں پر ایسی نئی چھتیں اور حفاظتی دیواریں دیکھی گئی ہیں جو جدید ترین بنکر بسٹر بموں کے اثر کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ قدم واضح کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی براہِ راست فوجی ٹکراؤ کو ناگزیر سمجھ رہا ہے۔ ایران کی کوشش ہے کہ وہ اپنے یورینیم ذخائر اور بیلسٹک میزائل لانچر ایسی جگہوں پر منتقل کر دے جہاں کوئی بھی روایتی فضائی حملہ اثر نہ کر سکے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تمام تعمیراتی کام انتہائی تیز رفتاری سے جاری ہے، جو خطے میں کسی بڑے طوفان سے پہلے کی خاموشی اور تیاری کا پیش خیمہ معلوم ہوتا ہے۔
ایران کا 'آپریشن بنکر': امریکی حملے سے بچنے کے لیے حساس ایٹمی و میزائل مراکز زمین دوز کرنے کا انکشاف
03:40 PM, 19 Feb, 2026