عاصمہ جہانگیر کانفرنس اور ریاستی بیانیے کا تصادم

09:11 AM, 19 Feb, 2026

پاکستان جیسے حساس جغرافیائی محل وقوع رکھنے والے ملک میں ہر عوامی مکالمہ محض رائے کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ قومی سلامتی، ریاستی استحکام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ بن جاتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس، جو بظاہر انسانی حقوق اور جمہوریت کے فروغ کا ایک نمایاں پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہے، گزشتہ چند برسوں میں ایک ایسے مباحثی مرکز میں تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے جس کے بیانیے اور ترجیحات نے وسیع تر قومی حلقوں میں سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ مسئلہ اختلافِ رائے کا نہیں، بلکہ اس اختلاف کے رخ اور اس کے ممکنہ نتائج کا ہے۔
انسانی حقوق کی جدوجہد کسی بھی مہذب معاشرے کا لازمی جزو ہے۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی قانونی اور سماجی خدمات اپنی جگہ ایک تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر فورم وقت کے ساتھ اپنی سمت اور ترجیحات کے باعث جانچا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ہونے والی گفتگو اکثر ریاستی اداروں، خصوصاً سیکیورٹی اسٹرکچر، کو ہدف تنقید بناتی ہے جبکہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور بیرونی مداخلت کے پہلو نسبتاً کم توجہ حاصل کرتے ہیں۔ یوں ایک ایسا تاثر ابھرتا ہے کہ احتساب یکطرفہ ہے اور ذمہ داری کا معیار غیر متوازن۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خون آشام جنگ سے گزر چکا ہے۔ ستر ہزار سے زائد شہری اور سیکیورٹی اہلکار جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ معاشی نقصان اربوں ڈالر تک پہنچا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فتن الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتن الہندوستان (بی ایل اے) جیسے گروہوں کی کارروائیاں مسلسل ریاستی رٹ کو چیلنج کرتی رہی ہیں۔ ان گروہوں کے بارے میں سرکاری مؤقف یہ رہا ہے کہ انہیں بیرونی سرپرستی اور معاونت حاصل رہی۔ ایسے تناظر میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ انسانی حقوق کے کسی بھی بڑے فورم پر دہشت گردی کی دوٹوک مذمت اور شہداء کے ساتھ واضح یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پہلو اکثر مرکزی بحث کا حصہ نہیں بنتا۔
آزادی اظہار کی بحث بھی کانفرنس کا ایک اہم محور رہی ہے۔ بلاشبہ، آئینِ پاکستان ہر شہری کو اظہار رائے کا حق دیتا ہے، مگر یہ حق مکمل طور پر غیر مشروط نہیں۔ قومی سلامتی، عوامی نظم اور اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے اظہار کی آزادی ایک ذمہ دارانہ عمل ہے۔ جب آزادی اظہار کے نام پر ایسے بیانیوں کو جگہ ملے جو وفاقی وحدت پر سوال اٹھائیں یا ریاستی اداروں کی قانونی حیثیت کو مشکوک بنائیں تو یہ معاملہ صرف نظریاتی نہیں رہتا بلکہ آئینی اور قومی مفاد سے جڑ جاتا ہے۔ اختلاف رائے اور انتشار کے مابین فرق کو برقرار رکھنا ہر سنجیدہ فورم کی ذمہ داری ہے۔
کانفرنس سے جڑے بعض مباحث میں متنازع شخصیات اور گروہوں کو ایک مظلوم یا مزاحمتی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر تنظیموں کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں ریاستی پالیسیوں پر شدید تنقید تو سامنے آتی ہے، مگر ان علاقوں میں سرگرم دہشت گرد گروہوں یا بیرونی مداخلت کے عناصر پر اتنی شدت سے بات نہیں کی جاتی۔ یہی عدم توازن ناقدین کو یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں بیانیہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ریاستی بیانیے کے برعکس تو نہیں کھڑا ہو رہا۔
خواتین کے حقوق کے موضوع پر بھی کانفرنس کا مؤقف نمایاں رہا ہے۔ پاکستان میں صنفی عدم مساوات ایک حقیقی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے قانون سازی اور سماجی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق کے نام پر ایسے نظریات کو فروغ دیا جاتا ہے جو معاشرتی اقدار اور مذہبی حساسیتوں سے ٹکراؤ پیدا کرتے ہیں۔ عورت مارچ جیسے پلیٹ فارمز کے نعروں اور مطالبات پر ہونے والی بحث اسی تناظر میں سامنے آتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ خواتین کو حقوق ملنے چاہئیں یا نہیں—یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے—بلکہ یہ ہے کہ کیا ان حقوق کی جدوجہد قومی ہم آہنگی کے ساتھ ہم قدم ہے یا اس میں محاذ آرائی کا عنصر غالب ہے۔
عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر کانفرنس کا طرزِ عمل بھی زیر بحث آتا رہا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور فلسطین میں حالیہ برسوں کی خونریز صورتحال عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ چکی ہیں۔ ہزاروں معصوم جانیں ضائع ہوئیں، بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ ان موضوعات پر مباحث منعقد کیے گئے، لیکن براہ راست اور سخت الفاظ میں ذمہ دار ریاستوں کی مذمت کم سنائی دی۔ اس کے برعکس پاکستان کے داخلی اقدامات، مثلاً غیر قانونی مہاجرین کی واپسی یا سیکیورٹی آپریشنز پر واضح اور شدید تنقید سامنے آئی۔ یہ تضاد ناقدین کے لیے ایک اہم سوال بن گیا ہے۔
اپریل 2024 میں ایک تقریب کے دوران جب ایک نوجوان نے غزہ کے مسئلے پر سوال اٹھایا تو مبینہ طور پر اسے خاموش کرایا گیا، جس پر سوشل میڈیا اور قومی سطح پر ردعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں 2026 میں بھی آزادی اظہار کے موضوع پر منعقدہ ایک سیشن میں ایک شرکاء کو ہٹانے کی خبر نے بحث کو ہوا دی۔ اگر یہ واقعات درست ہیں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا آزادی اظہار کا اصول ہر رائے کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول ہے یا اس کی حدود بھی مخصوص نظریاتی دائرے تک محدود ہیں؟
مالی شفافیت کا معاملہ بھی اہم ہے۔ ایک ایسے دور میں جب اطلاعاتی جنگ اور بیرونی اثرورسوخ عالمی سیاست کا حصہ بن چکے ہیں، کسی بھی بڑے قومی فورم کی فنڈنگ کے ذرائع کا واضح اور آڈٹ شدہ ہونا عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔ اگر شفافیت نہ ہو تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، خواہ وہ درست ہوں یا نہ ہوں۔ اعتماد کی بنیاد شفافیت ہی ہوتی ہے، اور یہی اصول ہر ادارے اور فورم پر لاگو ہوتا ہے۔
تنازع اس وقت مزید گہرا ہوا جب بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک سیاسی رہنما نے کانفرنس کے پلیٹ فارم سے علیحدگی سے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔ پاکستان کا آئین وفاق کی وحدت کو بنیادی ستون قرار دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی علیحدگی پسندی کو قانونی طور پر چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ایسے بیانات کا کسی قومی فورم پر سامنے آنا اور ان پر فوری وضاحت یا مذمت کا نہ ہونا، ریاستی حلقوں اور عوامی سطح پر بے چینی کا باعث بنا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بیانات کو آزادی اظہار کے دائرے میں رکھا جا سکتا ہے یا انہیں آئینی حدود کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا؟
سول سوسائٹی کا کردار ریاستی نظام میں توازن پیدا کرنا، کمزور طبقات کی آواز بننا اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنا ہے مگر اگر یہ کردار ریاستی ڈھانچے کو مسلسل مشکوک بنانے یا علیحدگی پسند بیانیے کو جواز فراہم کرنے میں تبدیل ہو جائے تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں بیرونی قوتیں داخلی اختلافات کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں داخلی فورمز کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ تنقید کو تعمیری اور قومی مفاد کے ساتھ ہم آہنگ رکھیں۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ قانون کی عملداری سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ اگر کسی اور صوبے میں کوئی اجتماع وفاق سے علیحدگی کی بات کرے تو کیا اسے بھی وہی گنجائش دی جائے گی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر معیار یکساں کیوں نہیں؟ آئینی حدود کسی فرد یا گروہ کی شناخت کے مطابق تبدیل نہیں ہوتیں۔
پاکستان کی خودمختاری، آئینی بالادستی اور قومی وحدت ناقابل تنسیخ اصول ہیں۔ انسانی حقوق کی جدوجہد اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب وہ متوازن، شفاف اور غیر جانب دار ہو۔ اگر کسی فورم پر ہونے والی گفتگو ریاستی استحکام کے خلاف تاثر پیدا کرے تو اس پر تنقید جمہوری حق ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ریاستی بقا اس کی بنیاد ہے۔
آج پاکستان کو داخلی اتحاد، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور دہشت گردی کے خلاف واضح موقف کی ضرورت ہے۔ مکالمہ ضرور ہو، تنقید بھی ہو، مگر آئین اور خودمختاری کی سرحدوں کے اندر۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سمیت ہر قومی فورم کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ آزادی اور استحکام ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ اگر توازن برقرار رہے تو مکالمہ اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے، اور اگر توازن بگڑ جائے تو وہ عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ پاکستان کی بقا اسی شعوری توازن میں مضمر ہے۔

مزیدخبریں