احتجاج، ابہام اور قومی نقصان

09:11 AM, 19 Feb, 2026

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بحران کوئی نئی چیز نہیں، مگر حالیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکمت عملی نے جس درجے کا ابہام پیدا کیا ہے، وہ نہ صرف سیاسی کارکنوں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی ایک معمہ بن چکا ہے۔ بانی چیئرمین کی صحت، قانونی معاملات، احتجاجی کالز اور مختلف بیانات نے ایک ایسی فضا پیدا کی ہے جس میں واضح سمت کا فقدان نمایاں ہے۔ بیماری کا کا علاج اہم بنیادی انسانی حقوق ہے اس میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے لیکن علاج کے عمل کے دوران ایسے بیانات سامنے آئے جنہوں نے خود پارٹی کے بیانیے کو کمزور کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سڑکوں کی بندش اور احتجاجی سرگرمیوں نے عوامی مشکلات میں اضافہ کیا، مگر ان اقدامات کے پیچھے کوئی واضح اور متفقہ سیاسی حکمتِ عملی سامنے نہیں آ سکی۔
یہ صورتحال پاکستان کی سیاست میں پہلی بار نہیں دیکھی جا رہی۔ ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی اسی طرح کے بحران سے گزری ہے۔ 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما کیس کے فیصلے میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا۔ اس فیصلے کے بعد پارٹی قیادت نے ایک واضح قانونی اور سیاسی حکمتِ عملی دینے کے بجائے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ تو دیا، مگر عملی طور پر کارکنوں اور عوام کو غیر یقینی کی کیفیت میں رکھا۔
جولائی 2018 میں نواز شریف کی گرفتاری کے وقت بھی پارٹی کے اندر سے مختلف بیانات آئے، کسی نے مفاہمت کی بات کی، کسی نے مزاحمت کا اعلان کیا، مگر کوئی ایک واضح راستہ سامنے نہ آ سکا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کارکن جذباتی تو رہے، مگر عملی طور پر کوئی مؤثر اور منظم تحریک سامنے نہیں آئی۔اسی طرح موجودہ حالات میں تحریک انصاف کے اندر بھی مختلف گروپس کی موجودگی اور متضاد بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پارٹی ایک واضح اور متفقہ حکمتِ عملی دینے میں ناکام رہی ہے۔ ایک طرف احتجاج کی کال دی جاتی ہے، دوسری طرف اس احتجاج کے اہداف اور نتائج کے بارے میں کوئی واضح روڈ میپ سامنے نہیں آتا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لیے تین عناصر ضروری ہوتے ہیں واضح قیادت، متفقہ بیانیہ اور مسلسل حکمتِ عملی۔ جب یہ تینوں عناصر موجود نہ ہوں، تو تحریک جذباتی تو ہو سکتی ہے، مگر مؤثر نہیں ہوتی۔
پاکستان کی تاریخ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی ایسے بحران دیکھے ہیں، خاص طور پر 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بعد ازاں بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی کے دوران، مگر ان ادوار میں پارٹی نے ایک واضح سیاسی موقف اور طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کی، جس نے کارکنوں کو ایک سمت دی۔ اس کے برعکس، جب بھی کسی جماعت نے ابہام اور تضادات کا راستہ اختیار کیا، اس کا نقصان نہ صرف پارٹی کو بلکہ ملک کے جمہوری نظام کو بھی ہوا۔
یہاں اصل مسئلہ صرف ایک جماعت کا نہیں، بلکہ پاکستان کی مجموعی سیاسی ثقافت کا ہے۔ جب قیادت واضح سمت دینے میں ناکام ہو جائے، تو کارکن جذباتی فیصلے کرتے ہیں، احتجاج بے مقصد ہو جاتا ہے اور ریاستی نظام دبائو کا شکار ہوتا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق، 2023 اور 2024 کے دوران سیاسی ہنگامہ آرائی کے باعث بڑے شہروں میں کاروباری سرگرمیوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اس نقصان کا بوجھ کسی ایک جماعت پر نہیں، بلکہ پوری قوم پر پڑتا ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ جس طرح ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی مبہم حکمتِ عملی قابلِ تنقید تھی، اسی طرح آج تحریک انصاف کی غیر واضح سمت بھی قابلِ مذمت ہے۔ سیاسی جماعتوں کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ عوام کو واضح اور ذمہ دارانہ قیادت فراہم کریں، نہ کہ انہیں جذباتی نعروں اور غیر یقینی صورتحال میں چھوڑ دیں۔ احتجاج ایک جمہوری حق ہے، مگر اس حق کا استعمال ذمہ داری اور حکمت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ پاکستان اس وقت معاشی، سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ابہام، تضادات اور غیر واضح حکمتِ عملی نہ صرف جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہے بلکہ ریاست کی سالمیت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ تاریخ نے بار بار ثابت کیا ہے کہ وہی قیادت کامیاب ہوتی ہے جو مشکل وقت میں واضح سمت، مضبوط اعصاب اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، چاہے وہ تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلز پارٹی، جذباتی سیاست کے بجائے ذمہ دارانہ اور واضح سیاسی حکمتِ عملی اختیار کریں۔ قوم کو نعروں نہیں، سمت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب قیادت ابہام کا شکار ہو جائے، تو صرف سیاست نہیں، پوری قوم غیر یقینی کے اندھیرے میں کھو جاتی ہے۔ لیکن تمام جماعتوں کو تمام چیزوں سے مبرا ہو کر سوچنا ہوگا کہ پاکستان ہے تو ان کا وجود ہے خدانخواستہ مملکت کو کمزور کرنے والے عناصر کے منفی پروپیگنڈے کو تقویت ملے، اللہ پاکستان کو تمام بیرونی، اندرونی خطرات سے محفوظ رکھے، سیاست کرنے ہے تو پارلیمنٹ میں کریں سڑکوں پہ سیاست کرنا ملک کیلئے نقصان تو ہو سکتا فائدہ نہیں، اور یہ جو سیاسی جماعت بھی کرتی ہے اس کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔

مزیدخبریں