ڈاکٹر کرن خورشید: انتظامی بصیرت اور عوامی ذمہ داری

09:08 AM, 19 Feb, 2026

معاشرہ صرف قانون سے نہیں سنبھلتا، نہ ہی محض نعروں سے بدلتا ہے۔ معاشرے کو اصل قوت ثقافت دیتی ہے… وہ ثقافت جس میں موسیقی کی لے ہو، تھیٹر کی سوچ ہو، ادب کی روشنی ہو اور فنونِ لطیفہ کی وسعت ہو۔ انتہا پسندی ہمیشہ تنگ ذہنوں میں جنم لیتی ہے، اور ثقافت ذہنوں کو کشادہ کرنے کا نام ہے۔ جب نوجوان کے ہاتھ میں گٹار آ جائے، قلم آ جائے یا سٹیج آ جائے تو اس کے ہاتھ سے نفرت کا پتھر خود بخود گر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ریاستیں ثقافتی سرگرمیوں کو محض تفریح نہیں سمجھتیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کا ہتھیار تصور کرتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو بسنت ہو، ادبی میلہ ہو یا فوڈ فیسٹیول… یہ سب دراصل معاشرے میں مکالمے، رواداری اور باہمی احترام کے دروازے کھولتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے حالیہ برسوں میں جس انداز سے ثقافتی اور عوامی سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے، وہ قابلِ توجہ ہے۔ خصوصاً وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر عوامی فلاح کے ساتھ ثقافتی رنگوں کو یکجا کرنے کی جو روایت ڈالی گئی ہے، وہ محض انتظامی قدم نہیں بلکہ ایک سماجی بیانیہ ہے… یہ بیانیہ کہ خوشحال اور مربوط معاشرہ ہی شدت پسندی کا توڑ ہے۔
رمضان بچت فیسٹیول: ریلیف بھی، ثقافت بھی اسی تسلسل میں لاہور کے تاریخی جیلانی پارک میں تین روزہ رمضان بچت فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ اس فیسٹیول کا افتتاح معاونِ خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب سلمیٰ بٹ اور سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید نے کیا، جبکہ صوبائی وزیر ہاوسنگ بلال یاسین ،چیئرمین سہولت بازار اتھارٹی افضل کھوکھر مشیر وزیر اعلی پنجان ذیشان ملک بھی اس موقع پر موجود تھے۔ یہ فیسٹیول صرف سستی اشیائے خوردونوش کی فراہمی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں سماجی ہم آہنگی کا پیغام بھی شامل تھا۔ لاہوریوں کے لیے آٹا، گھی، دالیں، چینی، چاول، پھل اور سبزیاں رعایتی نرخوں پر فراہم کی گئیں۔ تقریباً 150 سے زائد اسٹالز لگائے گئے جہاں 
روزمرہ ضروریات کی اشیاء دستیاب تھیں اور 20 فیصد سے زائد رعایت دی جا رہی تھی۔
سلمیٰ بٹ نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر یہ فیسٹیول 15 فروری تک جاری رہے گا اور اس کا مقصد غریب، نادار اور کم آمدن والے طبقات کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔ بلاشبہ مہنگائی کے اس دور میں ایسا اقدام محض نمائشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک عملی ریلیف ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈاکٹر کرن خورشید کی گفتگو محض رسمی بیانات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ایک منظم حکمتِ عملی جھلک رہی تھی۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ فیسٹیول میں فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کے ذیلی ادارے… پنجاب ایگریکلچر مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی، پنجاب سہولت بازار اتھارٹی اور فوڈ اتھارٹی… مشترکہ طور پر انتظامی امور کو دیکھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر کرن خورشید کا انداز یہ ظاہر کر رہا تھا کہ ریاستی نگرانی صرف قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ معیار پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں مسلسل مانیٹرنگ کرتی رہتی ہیں تاکہ اشیائے خورونوش کی کوالٹی برقرار رہے اور صارفین کو معیاری سامان میسر آئے۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ رمضان بچت فیسٹیول میں مختلف مکتبہ فکر کے افراد کو شرکت کا موقع دیا گیا ہے اور رمضان المبارک کے حوالے سے مذہبی رواداری کو فروغ دینے کے لیے خصوصی پروگرامز کا انعقاد کیا گیا۔ یہ نقطہ قابلِ تحسین ہے، کیونکہ جب ریاست مذہبی ہم آہنگی کو ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑ دیتی ہے تو معاشرہ تقسیم کے بجائے یکجہتی کی طرف بڑھتا ہے۔ فیسٹیول میں صرف سستے داموں اشیاء ہی نہیں تھیں بلکہ مقامی ثقافت اور علاقائی رنگ بھی نمایاں تھا۔ پنجاب کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے پروگرام ترتیب دئے گئے جس میں دیگر فنکاروں سمیت معروف لوک فنکار عارف لوہار اور تحسین سکینہ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یہ محفل محض موسیقی نہیں تھی بلکہ روح کی تازگی کا سامان تھی۔ جب صوفیانہ کلام کی لے فضا میں گونجتی ہے تو دلوں کی گرہیں کھلتی ہیں۔ ایسے مواقع نوجوان نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہماری پہچان نفرت نہیں، ثقافت ہے؛ ہماری شناخت شدت نہیں، روایت ہے۔
رمضان بچت فیسٹیول میں فیملیز کے لیے محفوظ اور خوشگوار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ بچوں کے لیے تفریحی سرگرمیاں، بڑوں کے لیے انٹرٹینمنٹ اور خریداری کی سہولت… یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اگر چاہے تو عوامی تقریبات کو باوقار اور بااعتماد بنا سکتی ہے۔یہاں سوال یہ نہیں کہ ایک فیسٹیول سے مہنگائی ختم ہو جائے گی یا تمام سماجی مسائل حل ہو جائیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم معاشرے کو مایوسی سے نکال کر امید کی طرف لے جا رہے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ سرگرمیاں درست سمت میں قدم ہیں۔ انتہا پسندی صرف بندوق سے نہیں رکتی، اسے فکر سے روکنا پڑتا ہے۔ جب نوجوان کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے، جب اسے اظہار کا موقع دیا جائے، جب اسے اپنی ثقافت پر فخر کرنا سکھایا جائے… تب شدت پسندانہ بیانیہ کمزور پڑتا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت جیسے ثقافتی تہواروں اور رمضان بچت فیسٹیول جیسے عوامی ریلیف پروگرامز کا انعقاد دراصل ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے… وہ حکمتِ عملی جس میں معیشت، ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کو ایک ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر کرن خورشید جیسے وژنری منتظمین اگر معیار، شفافیت اور صارف کے حق کو مقدم رکھیں، اور پالیسی سطح پر ایسے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں، تو یقیناً یہ صرف فیسٹیول نہیں رہیں گے بلکہ سماجی استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
آخر میں، سوال ہم سب کے لیے ہے: کیا ہم نفرت کے بیانیے کو فروغ دیں گے یا ثقافت کے چراغ جلائیں گے؟ اگر ہم نے دوسرا راستہ اختیار کر لیا تو یقین جانیے، شدت پسندی خود بخود پسپا ہو جائے گی۔
کیونکہ معاشرہ وہاں زندہ رہتا ہے جہاں موسیقی گونجتی ہے، جہاں بازار آباد ہوتے ہیں، اور جہاں ریاست اور عوام ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

مزیدخبریں