ملاوٹ خور: قوم کے اصل قاتل

09:07 AM, 19 Feb, 2026

کسی بھی قوم کی اصل دولت اس کے شہری ہوتے ہیں اور شہریوں کی صحت اس ملک کا سرمایہ۔ اگر آپ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا یا سعودی عرب کے اعداد و شمار دیکھیں تو وہاں اوسط عمر عموماً 80 سے 84 برس کے درمیان ہے۔ بعض یورپی ممالک میں یہ حد 82 سے اوپر جا چکی ہے۔ ان ریاستوں میں نیا وزیرِ صحت آتا ہے تو اس کا ہدف بیماریوں پر قابو پانا اور اوسط عمر میں مزید دو تین ماہکا اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ وہاں نظام ’’ایس او پی‘‘ (معیاری طریقہ کار) کے مطابق چلتا ہے۔ قانون نافذ ہوتا ہے، ہڑتالیں نہیں ہوتیں اور صحت کو سیاست پر ترجیح دی جاتی ہے۔گوروں کو ہر چھ ماہ میں اپنا ٹیسٹ کرانا ہوتا ہے، اس کی وجہ ہے کہ انہیں آگاہی مل جاتی ہے۔ ہم ہر چیز اللہ پر ڈال کر کہ یہی لکھا تھا کہ فوت ہو جاتا، یہ کہہ کر چپ ہو جاتے ہیں حالانکہ اللہ کریم نے علم حاصل کرنے کا کہا ہے۔ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے، ہمیں سوچنا ہوگا کہ بیماریاں ہمارے ہاں جگہ جگہ کیوں جنم لے رہی ہیں۔
پاکستان میں صورتِ حال مختلف ہے۔ ہماری اوسط عمر مردوں کی 68 اور خواتین کی 66 برس کے قریب ہے، یعنی ترقی یافتہ دنیا سے کم از کم 14 سے 16 برس پیچھے۔ یہ فرق صرف ادویات یا ہسپتالوں کا نہیں، خوراک اور معیار کا بھی ہے۔ جب بھی ملاوٹ کے خلاف کارروائی شروع ہوتی ہے، کچھ تاجر ہڑتال کی دھمکی دے دیتے ہیں۔ رمضان المبارک کی آمد ہے ۔اس ماہ مبارک میں عارضی بازار سجتے ہیں، سیل لگتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسی جذبے سے خوراک کی پاکیزگی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں جس جذبے سے ہم دنیا میں ہونے والے واقعات پر جلوس نکالتے ہیں؟دنیا کی کسی مارکیٹ میں جائیں پیکٹ پر مال کا جو معیار لکھا ہوتا ہے وہ برآمد نہ ہو تو دکان اور کارخانہ سیل ہوجاتے ہیں۔کاروبار کریں لیکن ایمانداری کے ساتھ۔ایک دو قاتلوں کو ختم کردیں سارا معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔
مجھے 2013 میں آسٹریلیا جانے کا اتفاق ہوا۔ اْس وقت لاہور چیمبر کے صدر مرحوم عرفان قیصر شیخ تھے اور میں بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل تھا۔ نائب صدر محمود غزنوی بھی ہمراہ تھے۔ وہاں شاپنگ مالز میں ایسے پمفلٹ تقسیم ہوتے دیکھے کہ ’’پیٹ میں درد ہو تو اس نمبر پر فون کریں۔ ڈاکٹر گھر آ کر معائنہ کرے گا‘‘ ۔ میں نے اپنے میزبان چوہدری خالد مقصود سے پوچھا کہ یہ ڈاکٹروں کی تعداد زیادہ ہونے ، مسابقت ہے یا کوئی اور حکمت؟ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں بنیادی صحت کی سہولت حکومت کی ذمہ داری ہے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مریض کی سستی، تاخیر بیماری کو سنگین بنا سکتی ہے، اس لیے ڈاکٹر خود مریض کے پاس آتے ہیں۔ آپ صرف ایک فارم پر دستخط کرتے ہیں، باقی خرچ ریاست اٹھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں 85 برس کی عمر تک صحت مند زندگی عام ہے اور سو سال، ایک سو بیس سال کے بزرگ پارکوں میں قہقہے لگاتے مل جاتے ہیں۔
یہاں سوال یہ ہے کہ ہم پیچھے کیوں ہیں؟ پاکستان میں ہر سال ہزاروں کیس ایسے سامنے آتے ہیں جن کی جڑ غیر معیاری خوراک، آلودہ پانی یا جعلی ادویات ہوتی ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مختلف کارروائیوں میں بعض اوقات ایک سال میں 15 سے 20 ہزار تک انسپکشنز ہوئیں، ہزاروں یونٹس سیل ہوئے، لاکھوں روپے جرمانہ ہوا،مگر مسئلہ جڑ سے ختم نہیں ہوا۔ وجہ سادہ ہے کہ قانون کی گرفت وقتی ہے، مگر منافع کی حرص مستقل۔
مجھے یاد ہے جب غلام حیدر وائیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب تھے تو ملاوٹ کے خلاف مہم چلی۔ چند دنوں میں دکانیں بند، احتجاج شروع اور حکومت دباؤ میں آ گئی۔ آج اگر حکومت کے پاس سیاسی عزم ہو اور قیادت کو اداروں کی مکمل تائید حاصل ہو،جیسے موجودہ حالات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حمایت بھر پور طور پر حکومت کو حاصل ہے تو یہ مہم نتیجہ خیز ہو سکتی ہے، بشرطیکہ مستقل مزاجی ہو اور سمجھوتا نہ کیا جائے۔
پنجاب کی ایک ہول سیل مارکیٹ کی مثال لیجیے۔یہاں شیمپو، کریمیں، صابن، مسالے،ڈبے بیرونِ ملک سے تیار ہو کر آتے ہیں، لیبل اصل جیسا، مگر اندر بھرائی یہاں کسی گمنام گودام میں۔ صارف پہچان نہیں پاتا۔ یہی اشیا جلدی امراض، الرجی، معدے کے مسائل حتیٰ کہ گردوں کے عوارض کا سبب بنتی ہیں۔ اگر ایک اندازے کے مطابق شہری آبادی کا 30 فیصد حصہ کسی نہ کسی جلدی یا معدے کے مسئلے سے دوچار ہے، تو اس میں ملاوٹ کا حصہ کم نہیں۔
معیشت کا نقصان الگ ہے۔ جب غیر معیاری مصنوعات بازار میں پھیلتی ہیں تو معیاری صنعت کار بھی متاثر ہوتا ہے۔ ٹیکس چوری بڑھتی ہے، برآمدات کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور صحت پر سرکاری اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر حکومت صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ قابلِ علاج بیماریوں پر خرچ کرنے کے بجائے احتیاطی اقدامات پر صرف کرے تو طویل المدت فائدہ کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی جی ڈی پی کا 9 سے 12 فیصد صحت پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ شرح عموماً 2 فیصد کے آس پاس رہتی ہے۔ جب سرمایہ کاری کم اور نگرانی کمزور ہو تو خلا ملاوٹ خور پْر کرتے ہیں۔
اصل سوال قیادت کا ہے۔ قوم کا ہیرو وہ نہیں جو وقتی نعروں سے داد سمیٹے۔ اصل ہیرو وہ ہوگا جو تعلیم، صحت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری بڑھائے، خوراک کی سپلائی چین کو ملاوٹ سے پاک بنائے، لیبارٹری ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دے اور مجرم کو عبرت کی مثال بنائے۔ اگر جعلی دوا بنانے والا یا زہریلا تیل بیچنے والا سخت سزا پاتا ہے تو چند برسوں میں رویے بدل سکتے ہیں۔ چین اور یورپ میں فوڈ سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر ملین ڈالر جرمانے اور طویل سزائیں دی جاتی ہیں،اسی لیے نظام چلتا ہے۔ رمضان المبارک ہو یا عام دن، ایمان کا تقاضا ہے کہ ناپ تول میں کمی نہ ہو اور رزق میں خیانت نہ کی جائے۔ ملاوٹ خور دراصل خاموش قاتل ہیں۔ٹھیک ہے وہ بندوق نہیں چلاتے مگر قوم کی اوسط عمر 20 سے 25 سال کم کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ بنیادی خرابی درست نہ کی تو ہسپتال بڑھتے رہیں گے، صحت ٹھیک نہیں ہو گی۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت، تاجر اور عوام،تینوں مل کر فیصلہ کریں کہ کیا ہم موجودہ اوسط عمر کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں یا معیاری خوراک اور مضبوط نظام کے ذریعے اپنی آئندہ نسلوں کو طویل اور صحت مند زندگی دیں گے؟ مظلوم عوام ایسے ہیرو کی تلاش میں ہیں جو ملاوٹ کے اس اندھیرے کو ختم کر کے قوم کو زندگی کی روشنی لوٹا دے۔
 اس وقت وزیر اعلیٰ مریم نواز اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا طریقہ کار مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے کا ہے۔ انہوں نے تجاوزات ، غنڈہ گردی کو جڑ سے ختم کیا، اب قبضہ مافیا کو ختم کر رہے ہیں۔جعلی ادویات کو بھی جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔ ملاوٹ کے خلاف بھی پہلے معاملات کی طرح کریک ڈاون ہوگا تو بہتری آئے گی۔

مزیدخبریں