بھٹو…زرداری وراثت کی نئی جہت

09:12 AM, 19 Dec, 2025

پاکستان کی سیاسی تاریخ کو بھٹو خاندان کی قربانیوں کے بغیر مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو اور پھر آصف علی زرداری تک، اس خاندان نے جمہوریت کی خاطر قید و بند، جلاوطنی، مسلسل سیاسی انتقام اور بالآخر شہادت تک ایک غیر معمولی قیمت ادا کی ہے۔ بھٹو… زرداری وراثت محض اقتدار حاصل کرنے یا انتخابات جیتنے کا نام نہیں، بلکہ ذاتی دکھ اور مصیبت کو اجتماعی سیاسی مقصد میں ڈھالنے کی ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ 1971 کے سانحے کے بعد، جب ملک جغرافیائی، نفسیاتی اور سیاسی طور پر شکست خوردہ تھا، بھٹو نے ایک بکھرے ہوئے پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے قوم کو نیا حوصلہ دیا، 1973 کا متفقہ آئین دیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور عام آدمی کو سیاست کے مرکز میں لا کر طاقت کے توازن کو بدل دیا۔ خودمختاری، سماجی انصاف اور عوامی شمولیت پر ان کا زور پاکستان کی سیاسی سوچ میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوا۔ تاہم، ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی مقبولیت اور آزاد خارجہ و داخلی پالیسی نے آمرانہ قوتوں کو بے چین کر دیا۔ ان کا سول بالادستی پر اصرار اور غیر منتخب طاقتوں کو چیلنج کرنا ناقابلِ قبول سمجھا گیا۔ 1977 میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے بعد بھٹو کو قید کیا گیا، ایک متنازع عدالتی مقدمے میں پھانسی کی سزا دی گئی اور بالآخر انہیں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ جیل کے دنوں میں بھٹو نے وقار، فکری مزاحمت اور تاریخ پر یقین کے ساتھ آمریت کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے سمجھوتے کے بجائے قربانی کو چْنا اور یوں ان کی شہادت پاکستان میں جمہوریت کی علامت بن گئی۔
محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے والد کی سیاست کے ساتھ ساتھ ان کی آزمائشیں بھی وراثت میں پائیں۔ وزیر اعظم بننے سے بہت پہلے وہ ایک سیاسی قیدی تھیں۔ والد کی پھانسی کے بعد انہوں نے تنہائی کی کوٹھڑی، سخت جیل اور مسلسل نگرانی برداشت کی۔ مگر یہ مظالم ان کے حوصلے کو توڑ نہ سکے۔ قید و بند نے انہیں ایک مضبوط، باشعور اور اصولی رہنما بنا دیا جو آمریت کے اصل چہرے سے بخوبی واقف تھیں۔
ضیاء الحق کی آمریت اور بعد ازاں سول و عسکری کشمکش کے ادوار میں، بینظیر بھٹو نے جمہوریت کی جنگ کی قیادت کی… کبھی وطن میں اور کبھی جلاوطنی میں۔ دو بار وزیر اعظم بننے کے باوجود انہیں دونوں بار برطرف کیا گیا، ان کی حکومتوں کو غیر مستحکم کیا گیا اور ان کی منظم کردار کشی کی گئی۔ اس کے باوجود، انہوں نے ہمیشہ مفاہمت، ادارہ جاتی توازن اور پارلیمانی بالادستی کی بات کی۔ ان کی سیاست انتقام کے بجائے اس یقین پر مبنی تھی کہ پاکستان میں جمہوریت مکالمے اور شمولیت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔
27 دسمبر 2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت صرف ایک زیرک سیاسی رہنما کا نقصان ہی نہیں تھا، بلکہ یہ انتہاپسندی اور آمریت کے خلاف ایک طاقتور آواز کا وقتی طور پر خاموش ہو جانا بھی تھا۔ وقتی طور پر اس لیے کہ بلاول بھٹو زرداری والدہ کی شہادت کی وقت کم عمر تھے .جب انہوں نے میدان سیاست میں عملی قدم رکھا تو وہ ایک بار پھر اپنی والدہ کی توانا جمہوری آواز بن کر ابھرے. اپنی جان دے کر بینظیر بھٹو نے بھٹو وراثت کے اس اصول کو مزید مضبوط کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کی قیمت اکثر جان دے کر ادا کرنا پڑتی ہے۔ محترمہ کی شہادت نے قوم کو یہ احساس دلایا کہ جمہوری جدوجہد محض نعروں سے نہیں، قربانی سے آگے بڑھتی ہے۔ محترمہ کی شہادت کے بعد جب ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی تو آصف زرداری صاحب نے ’’پاکستان کھپے‘‘ کا لازوال نعرہ لگا کر ملک میں لگی آگ کو بجھانے میں اپنا جمہوری اور سیاسی کردار ادا کیا. زرداری صاحب کے ’’پاکستان کھپے‘‘ کے نعرے کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا.
آصف علی زرداری کی سیاسی زندگی اس وراثت کا ایک اور منفرد پہلو ہے… بغیر نفرت کے صبر و برداشت۔ انہوں نے مختلف ادوار میں حوصلہ مندی, ثابت قدمی اور جرأت کے ساتھ تقریباً گیارہ سال قید کاٹی، مگر ایک بھی مقدمے میں جرم ثابت نہ ہو سکا۔ شدید تنہائی، بیماری اور خاندان سے طویل جدائی کے باوجود وہ ثابت قدم رہے۔ ان کی قید کا مقصد احتساب نہیں بلکہ سیاسی انتقام تھا۔ آصف علی زرداری نے دوران قید جس برداشت، استقامت اور بلند حوصلے کا مظاہرہ کیا اسی کی وجہ سے ہی جہاں دیدہ صحافی اور دانشور مرحوم مجید نظامی صاحب نے زرداری صاحب کو ’’مرد حر‘‘ کا خطاب دیا تھا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری جیل سے انتقام کے جذبے کے بغیر نکلے۔ قید و بند نے انہیں یہ سکھایا کہ ایک منقسم معاشرے میں مفاہمت ہی اصل طاقت ہے۔ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب وہ صدر بنے تو بہت سوں کو تصادم کی توقع تھی، مگر انہوں نے مصالحت کا راستہ اپنایا۔ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے انہوں نے صدارتی اختیارات پارلیمان کو واپس کیے، صوبوں کو مضبوط کیا اور وفاقی ڈھانچے کو متوازن بنایا۔ سیاسی انتقام کی روایت رکھنے والے معاشرے میں، یہ رویہ ایک نایاب جمہوری مثال ہے۔
بھٹو…زرداری خاندان کی نئی نسل کو اقتدار ہی نہیں ذمہ داری بھی وراثت میں ملی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے بچپن ہی سے جیلوں، عدالتوں اور شہادتوں کی سیاست دیکھی ہے۔ آصف علی زرداری بارہا کہہ چکے ہیں کہ بھٹو ہونا استحقاق نہیں بلکہ عوام کے سامنے جوابدہی کا نام ہے۔ بلاول اپنے نانا کی نظریاتی وضاحت اور والد اور والدہ کی متانت و جمہوری سوچ کے وارث ہیں، جبکہ آصفہ میں بینظیر بھٹو کا وقار اور خاموش حوصلہ جھلکتا ہے۔یوں بھٹو…زرداری وراثت محض خاندانی سیاست کی کہانی نہیں، بلکہ آمریت کے خلاف مزاحمت اور جمہوریت کی بقا کی جدوجہد ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، بینظیر بھٹو کی شہادت اور آصف علی زرداری کی طویل قید…یہ سب ایک ہی جمہوری داستان کے مختلف ابواب ہیں۔
آج جب پاکستان ایک نئے سیاسی موڑ پر کھڑا ہے، پیپلز پارٹی کی جمہوری اور مفاہمانہ سیاسی میراث کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بھٹو سیاست میں کب تک رہیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا قربانی، مفاہمت اور جمہوری ذمہ داری کے اصول آئندہ نسلوں میں زندہ رہیں گے یا نہیں۔ پاکستان کی جمہوریت کو بھٹو خاندان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اور آصف علی زرداری نے حوصلہ مندی اور باوقار انداز سے طویل قید کاٹ کر ایک نئی جہت دی ہے…اور ممکن ہے کہ پاکستان کا مستقبل بھی بھٹو زرداری وراثت کے دانشمندانہ ارتقا پر منحصر ہو، نہ کہ صرف قربانیوں اور یادوں کے سہارے۔

مزیدخبریں