دنیا چند روز میں کتنی بدل گئی؟؟؟

09:08 AM, 19 Dec, 2025

نئے دور میں سب سے بڑا چیلنج تبدیلی کی تیز ترین رفتار ہے۔ پلک جھپکنے میں سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہم ایک منظر کو سمجھنے لگتے ہیں کہ سارا منظر نامہ ہے بدل جاتا ہے۔ بمشکل ایک ماحول کے عادی ہوتے کہ پھر سارا ماحول تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک طرح کی تبدیلی کو اپناتے ہیں اور تھوڑے وقت بعد نئی تبدیلیاں دروازے پر دستک دیتی ہیں۔ اس قدر تیز رفتار تبدیلی ماضی میں کبھی انسانی زندگی کا حصہ نہیں رہیں۔ یا کم از کم یوں کہا جا سکتا ہے کہ معلوم تاریخ میں کبھی اتنی تیزی سے تبدیلیاں وقوع پذیر نہیں ہوتی تھیں۔ 
یہ صورت حال پیشہ ورانہ زندگی میں بھی بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔ کئی طرح کی صلاحیتیں اور مہارتیں اب مارکیٹ کی ضرورت نہیں رہیں۔ کئی شعبے غیر ضروری قرار دیئے جا چکے ہیں اور ان کی جگہ نئے شعبوں نے لے لی ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ نئے شعبے بھی کتنی لمبی عمر جئیں گے۔ نئی ٹیکنالوجی نے ملازمتوں میں بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ پوری دنیا کا معاشرتی اور معاشی ڈھانچہ بظاہر بدل رہا ہے۔ دنیا کی رجعت پسند ثقافتوں نے اپنے حلیوں کو تبدیل کیا ہے۔ تہذیبوں نے اپنے خدو خال تبدیل کیے ہیں۔ مذہبی تصورات میں جدت دیکھی گئی ہے۔ ہم نے اپنے بچپن میں جو سختی ٹیلی ویژن، کیمرے، تصویر، کیبل اور ڈش انٹینے کے حوالے سے دیکھی تھی وہ اب کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ تصویر پہلے شناختی کارڈ پر جائز قرار پائی تھی۔ اب فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیائی پلیٹ فارمز پر قبولِ عام کی سند حاصل کر چکی ہے۔ اب ٹی وی، سینما یا ڈش انٹینے کے غلط یا صحیح ہونے کی بحثیں بھی دم توڑ چکی ہیں۔ سمارٹ فون نے ان سب چیزوں کو نارملائز کر دیا ہے۔ مرد و زن کا رابطہ، رسمی یا غیر رسمی گفتگو اب معمول کی بات ہے۔ پینٹ شرٹ نہ صرف حلال تصور کی جانے لگی ہے بلکہ بہت سے لوگوں نے اس کی لمبائی چوڑائی میں ذرا سی تبدیلی کر کے اپنے معتدل مزاج ہونے کا اظہار کیا ہے۔ دنیا میں اتنا کچھ تبدیل ہونے کے بعد بھی یہ دنیا مجموعی طور پر بالکل نہیں بدلی۔
اس میں ظالم اور مظلوم ویسے ہی ہیں۔ حاکم اور محکوم ویسے ہی ہیں۔ مفاد کے دسترخوان پر ہڈیوں کا گودا چاٹنے والے کردار، دولت اور اقتدار کے پیچھے دوڑنے والے اور مفاد کی پرستش کرنے والے بے ضمیر لوگوں کے جھنڈ ویسے ہی ہیں جیسے ہمیشہ تھے۔ پوری دنیا پر قابض مٹھی بھر سرمایہ دار، قوموں کی تقدیر لکھنے والے چند من چلے اور ہانپتے سینوں میں محرومیاں تقسیم کرنے والے چھوٹے بڑے فرعون، شداد اور نمرود اپنی اپنی کہانیوں سے نکل کر دنیا میں ویسے ہی چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ 
اتنی بڑی سطح پر مادی ترقی کے باجود غیر محفوظ انسان شب و روز جان مال کے لٹ جانے کے غم میں گھلا جا رہا ہے۔ جنگلوں کی وحشت سے نکل کر ایٹمی ہتھیاروں کی دہشت میں سانس لیتا جدید دور کا انسان، جس نے کبھی شام، نائجیریا، عراق، افغانستان، کشمیر، یمن، فلسطین اور سوڈان میں قبرستانوں کے پیٹ بھرے ہیں، کہیں سمندروں کا پانی سرخ کیا ہے اور کہیں پینے لائق دو گھونٹ پانی پر بھی بند باندھ کر روک لیا ہے۔ 
ہم نے اپنی بستیوں میں ترقی کی کہانی اتنی دیکھی ہے کہ کچھ پرانی چیزیں دے کر نئی چیزیں لے لی ہیں۔ مثلاً موٹی اور سخت بان والی چارپائی دے کر نرم گدے اور فوم کے ایسے بستر لے لیے ہیں جن پر چین کی نیند نہیں آتی۔
پیدل چلنے کی عادت کو جدید آرام دہ سواری سے بدل لیا ہے لیکن ساتھ رنگ برنگی بیماریاں بھی اٹھا کر لائے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیمیائی اعتبار سے سب سے سخت شے انسانی رویہ ثابت ہوا ہے یا پھر اس کی وہ جبلت جو صدیوں کی تربیت اور عبرت کے باوجود کسی مہذب سانچے میں نہ ڈھل سکی۔ میرے خیال میں صرف مادی ترقی قطعاً انسانی فلاح کی علامت نہیں ہے۔ اگر آپ تاریخ پر غور کریں تو سب سے زیادہ حیرت انگیز ایجادات دنیا کی سرد و گرم جنگوں میں دیکھنے کو ملیں گی۔ حیرت انگیز سائنسی اور مشینی کارنامے عالمی جنگوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن ان کو قطعاً انسانی فلاح و بہبود کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
سوال یہ ہے کہ ہم انسانی رویے میں چند بنیادی تبدیلیاں کرنے میں صدیوں بعد بھی کیوں ناکام رہے ہیں؟ ہم خود ہر آن بدلتی دنیا میں اپنے مرکزی کردار نہیں بدل پا رہے۔ مسائل جوں کے توں ہیں؛ ہمارے معاملات نہیں بدلتے۔ تبدیلی اتنی آتی ہے کہ ایک مظلوم کی جگہ دوسرا سامنے آ جاتا ہے ظالم کا کردار نبھانے کو کئی اور تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر نے فلسطین پر گریہ کیا اور بجا کیا۔ اس عالمی طاغوتی رویے کی جنگ کو کفر اور اسلام کی جنگ کی صورت میں سمجھا۔ چند مہینوں میں سوڈان کا میدان سج گیا۔ اب یارانِ جہاں کوش پریشان ہیں کہ یو اے ای سمیت سوڈان کی اندرونی طاقتوں کو کیسے اور کس زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے۔ 
چلیے مان لیتے ہیں کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ہم ترقی یافتہ دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن یہ ترقی بطور فیشن کے سامنے آرہی ہے۔ آپ مادی ترقی کے جملہ عناصر پر غور کریں گھوم پھر کر ہر ایک کا مرکز کوئی فیشن یا اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل ہوگا۔ یہی بک رہا ہے یا بیچا جا رہا ہے۔ ہمیں انسان کے عالمی تصور کو ترقی دینا ہو گی۔ عالمی سطح پر انسان کو تربیت یافتہ بنانا اس دنیا کی بقا اور استحکام کے لیے ضروری ہو چکا ہے ورنہ دنیا کے وسائل پر قابض قوتیں اس زمین کو عنقریب نا قابل رہائش بنا دیں گی۔

مزیدخبریں