ملکی سلامتی کو چیلنج کرنے والی جماعت نے ایک مرتبہ پھر ملک میں ہیجان انگیزی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اڈیالہ جیل کے باہر ایک بار پھر پاکستان تحریکِ انصاف کی سرگرمیوں نے سیاسی ماحول میں تناؤ پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر اس بار منظرنامہ پہلے سے مختلف اور نتائج پہلے سے زیادہ واضح دکھائی دیئے۔ علیمہ خان کی قیادت میں ہونے والا یہ احتجاج ایسے وقت میں کیا گیا جب دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا مقصد عوامی سلامتی، امن و امان اور کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکنا تھا۔ اس کے باوجود دھرنا دیا گیا، نعرے بازی کی گئی اور وہی پرانا بیانیہ دہرانے کی کوشش کی گئی جو گزشتہ کئی مہینوں سے عوام سن رہے ہیں۔ تاہم ریاستی اداروں کا ردِعمل اس پورے معاملے میں نہایت محتاط، ذمہ دار اور قانونی حدود کے اندر رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست تصادم نہیں بلکہ نظم و ضبط کو ترجیح دے رہی ہے۔
یہ حقیقت اب نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پی ٹی آئی کو ماضی میں بارہا قانون شکنی کے باوجود وہ رعایت دی گئی جو شاید کسی اور سیاسی جماعت کو نصیب نہیں ہوئی۔ جلسے جلوس، دھرنے، حساس مقامات پر احتجاج اور اشتعال انگیز تقاریر کے باوجود ریاست نے زیادہ تر تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے برعکس، ایک روز قبل بھی جب احتجاج کے دوران فضا کشیدہ ہوئی اور ہجوم بے قابو ہونے لگا تو طاقت کے بے جا استعمال کے بجائے عالمی سطح پر رائج غیر مہلک ذرائع، جن میں واٹر کینن شامل ہے، کا استعمال کیا گیا تاکہ جانی نقصان کے بغیر صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔ یہ طرزِ عمل اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ ریاست کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو دبانا نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہے۔پی ٹی آئی کا احتجاجی انداز اب کسی حد تک پیش گوئی کے قابل ہو چکا ہے۔ اشتعال انگیزی، پولیس کو ردِعمل پر مجبور کرنے کی کوشش، اور پھر ریاستی اداروں پر الزامات کا ایک طے شدہ سلسلہ، ہر بار دہرایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمتِ عملی اب بھی مؤثر ہے؟ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے باہر بار بار دہرائے جانے والے ان احتجاجی مناظر نے نہ صرف عوام کو تھکا دیا ہے بلکہ خود پارٹی کارکنوں میں بھی مایوسی اور یکسانیت کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ وہ جوش و جذبہ جو کبھی پی ٹی آئی کی پہچان سمجھا جاتا تھا، اب بتدریج کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ قیادت کی سمت کا واضح نہ ہونا ہے۔ پارٹی کے اندر کوئی جامع سیاسی حکمتِ عملی، کوئی طویل المدتی وژن یا کوئی ایسا بیانیہ نظر نہیں آتا جو عوام کو قائل کر سکے۔ احتجاج ہی واحد راستہ بنا لیا گیا ہے، جبکہ سیاست محض احتجاج کا نام نہیں بلکہ مفاہمت، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جدوجہد اور عوامی مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل منصوبوں کا تقاضا کرتی ہے۔ جب سیاست صرف تصادم اور دباؤ کی بنیاد پر کی جائے تو اس کا نتیجہ بالآخر تھکن اور بے اثری کی صورت میں نکلتا ہے، جو آج پی ٹی آئی کے معاملے میں واضح ہو رہا ہے۔دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بیانیے کو تقویت دینے کے لیے پی ٹی آئی نے پہلے بھارتی گودی میڈیا کے بعض حلقوں سے قربت اختیار کی اور اب مغربی میڈیا کی متنازع شخصیت یلدا حکیم کے ذریعے اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یلدا حکیم کو بعض تجزیہ کار مغربی میڈیا میں ارنب گھوسوامی کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں، اور ان کی پاکستان مخالف اور بھارت نواز جھکاؤ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان پلیٹ فارمز کے ذریعے حاصل کی جانے والی توجہ واقعی پاکستان کے عوام میں مقبولیت بڑھا سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بیرونی میڈیا پر انحصار، خاص طور پر ایسے چہروں کے ساتھ جو متنازع سمجھے جاتے ہوں، داخلی سیاست میں ساکھ کو مزید نقصان پہنچاتا ہے۔عوام اب پہلے سے زیادہ باشعور ہیں۔ وہ محض نعروں، الزامات اور جذباتی اپیلوں سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ عملی سیاست، نتائج اور ذمہ دارانہ رویے کو اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کا بیانیہ، جو کبھی خود کو واحد سچ کے طور پر پیش کرتا تھا، اب اپنی کشش کھوتا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس ریاست کا مؤقف، جو قانون، صبر اور تدبر پر مبنی دکھائی دیتا ہے، دن بہ دن زیادہ معقول اور قابلِ قبول بنتا جا رہا ہے۔ ریاستی اداروں کی جانب سے غیر ضروری طاقت کے استعمال سے گریز اور معاملات کو قانونی دائرے میں حل کرنے کی کوشش نے عوامی سطح پر اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی جمہوری نظام میں احتجاج ایک بنیادی حق ہے، مگر یہ حق قانون اور نظم و ضبط کے تابع ہوتا ہے۔ جب احتجاج قانون کی خلاف ورزی کی شکل اختیار کر لے تو ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ مداخلت کرے۔ اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے واقعات میں یہی توازن نظر آیا، جہاں ریاست نے آخری حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا اور صرف اسی وقت کارروائی کی جب حالات قابو سے باہر ہونے لگے۔ اس رویے نے یہ پیغام دیا کہ ریاست کمزور ہے اور نہ ہی غیر ذمہ دار، بلکہ وہ آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ قیادت کے فیصلے، احتجاجی سیاست پر حد سے زیادہ انحصار، اور بیرونی سہاروں کی تلاش نے پارٹی کے بیانیے کو کمزور کر دیا ہے۔ دوسری جانب ریاست کا تدبر، برداشت اور قانونی طرزِ عمل ایک واضح فرق پیدا کر رہا ہے جو اب عوامی شعور کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اگر پی ٹی آئی نے اپنی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی نہ کی تو خدشہ ہے کہ یہ سیاسی سفر مزید سکڑتا چلا جائے گا، جبکہ ریاست کا مؤقف اپنی معقولیت اور قبولیت کے باعث مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ یہی فرق آج کی سیاست میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
انتشار اور ملکی سلامتی سے کھلواڑ کا بیانیہ
09:07 AM, 19 Dec, 2025