سہیل لون سے میری دوستی کب اورکیسے ہوئی یہ کہانی بڑی عجیب و غریب ہے ۔ وہ اپنی شاعری کی کتاب کی اصلاح کیلئے کوئی بہتر شاعرڈھونڈ رہا تھا اور میں اُن دنوں ایک میڈیا ہائوس میں تخلیقی سربراہ (Creative Head)کی طور پر خدمات سرانجام دے رہاتھا ۔ فلسفہ ٗ شاعر ی ٗموسیقی ٗ مذاہب عالم اور اساطیر میرے ذوق ِ مطالعہ کا حصہ ہیں جس کی خبر میرے دوستوں کو بھی ہے۔ سو ایک کولیگ نوید صدیقی نے اطلاع دی کہ ایک صاحب آپ سے مل کر اپنی شاعری کی اصلاح کرانا چاہتے ہیں۔ میں ٹھہرا تیسرے درجے کا لا پروا شخص اکثر ضرور ی کام بھول جاتا ہوں سومیرے انکارکے باوجود نوید صدیقی اگلے دن خلیل نامی ایک شخص کو میرے آفس میں لے آیا جو کسی صورت بھی حلیے سے تو شاعر دکھائی نہیں دیتا تھا ٗ لیکن جب اُس نے بتایا کہ ’’میرا ایک دوست برطانیہ میں رہتا ہے اور اپنی شاعری کی کتاب اصلاح کے بعد چھپوانا چاہتا ہے۔ میں نے مصروفیت کا عذر پیش کیا لیکن وہ بضد تھے اور پھر میںنے انہیں ٹالنے کیلئے بھاری معاوضہ طلب کر لیا جس پر انہوں نے دوسری بات نہیں کی اورمجھے حیران چھوڑ گئے ۔ وہ مسودہ دے کرچلے گئے اور کہاباقی باتیں سہیل لون خود آپ سے کرلیں گے ۔خلیل صاحب چلے گئے اور میں روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہو گیا ۔ مسودہ تقریباً دوہفتوں تک آفس میں پڑا رہا اور میں نے اُسے کھول کر بھی نہیں دیکھا اور پھر ایک دن اچانک سہیل لون کی کال موصول ہو گئی۔ گفتگو سے انتہائی معقول لاہوریہ محسوس ہوا جو کہ ازاں بعد ثابت بھی ہو گیا ۔ مجھے انتہائی شرمندگی ہوئی کہ وعدے کے بعد مجھے ایسانہیں کرنا چاہیے تھا لیکن اب تو جو ہونا تھا ہو چکا تھا ۔ فون کا سلسلہ منقطع ہوا تو میں نے فوراً اپنی میز کے دراز سے کتاب نکال لی اور شاعری کا طائرانہ جائز ہ لینا شرو ع کردیا ۔ شاعری اچھی اور قابل ِ اشاعت بھی تھی البتہ کہیں کہیں اوزان اور تلازمے کا مسئلہ تھا جو میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ کتاب کو بغور دیکھنے کے بعد میں نے سہیل لون کو فون کیا تو انہوں نے اسے چھپوانے کیلئے بھی مجھے ہی کہہ دیا ۔ اب یہ میرے امتحان کا وقت تھا میں نے برادرم جاوید قاسم مرحوم سے کتاب کی اشاعت کیلئے درخواست کی اورمسئلہ حل ہو گیا ۔ شعری مجموعہ ’’خواب آنکھوں میں ٹوٹ جاتے ہیں‘‘ کے نام سے چھپ گیا اورمیں نے تمام کتب برطانیہ روانہ کردیں ۔
سہیل لون سے تعلقات دن بہ دن بڑھتے چلے گئے تو میں نے انہیں نثر لکھنے کی طرف راغب کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اُن کے کالم پاکستان سمیت برطانیہ کے اخبارات میں بھی چھپنا شروع ہوگئے ۔ سہیل نے پاکستان کے ایک حساس ادارے میں ملازمت کی اور پھر وزارت ِدفاع کے ایک ریسرچ سینٹرکے تکنیکی شعبے میں پانچ برس خدمات دیتے رہے ۔ایک پرائیویٹ ادارے میں ریاضی کے استاد بھی رہے ۔ پنجاب یونیورسٹی سے جرنلزم میں گریجوایشن بھی کی اور پاکستان فلم انڈسٹری میں ایک فلم کی پروڈکشن ٹیم کا حصہ بھی رہے۔ خواجہ آصف کے چچا خواجہ سرفراز مرحوم کی بنائی فلم دوستی کی پروڈکشن ٹیم کا حصہ رہے یہ وہی خواجہ سرفراز ہیں جنہوں نے اداکار حبیب کو فلم دیوداس میں متعارف کرایا تھا۔ پاکستان آرمی ویلفیئر ٹرسٹ میںچار برس کام کیا ۔ اسی سلسلے میں سرکاری خرچے پر تربیتی کورس کیلئے چین بھی گئے ۔شمالی لاہور میں پیدا ہونے والے سہیل لون نے کمپری ہنسو ہائی سکول گھوڑے شاہ سے 1985ء میں میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا ۔ پاکستان کو خدمات دیں اور پھر جرمنی روانہ ہوگیا ۔ 12برس جرمنی میں گزارے جہاں مکینیکل کی تعلیم حاصل کی ۔جرمن زبان سیکھی اورجرمن زبان میں شاعری کی ٗ مضامین لکھے اور انٹرنیشنل میگزین میں چھپتے رہے۔وہ اب 18 برسوں سے برطانیہ میں مقیم ہیںجہاں جرنلزم میں گریجویشن اور فلم میکنگ میں ماسٹر مکمل کیا اور اب سول سروسز جوائن کرکے برطانیہ کی منسٹری آف جسٹس میں سرکاری ذمہ داریاںنبھا رہے ہیں ۔تین زبانوں میں پانچ اعلیٰ ڈگریاں ٗ دو کتابوں کا مصنف ٗ14برس کی کالم نگاری اور شاعر ی اورخداجانے کیا کیا کچھ اس نوجوان نے کیا ہے جس نے ابھی جنوری میں 56سال کا ہونا ہے اب تک وہ دنیا کے 45سے زائد ممالک کا وزٹ کرچکا ہے اور چاہتاہے کہ 60سال کا ہونے سے پہلے 60ممالک بھی دیکھ لے ۔ وہ ان ممالک کواپنے مشاہداتی علم سے دیکھتا ہے اوروہاں کے نت نئے نظام سے مجھے بھی متعارف کراتا رہتا ہے یقینا وہ اس پر بھی ایک کتاب لکھے گا جو ہمیںعنقریب پڑھنے کوملے گی ۔ ایک ذہین پاکستانی جو پاکستان چھوڑ کر برطانیہ میں مستقل مقیم ہو گیا ۔ایک برین ہمارے بُرے نظام اورعدمِ تحفظ کی وجہ سے ڈرین ہو گیا ۔ ہم نے نہ جانے اپنے کتنے سہیل اسی طرح دوسرے ممالک میں روانہ کردئیے ہیں جن کی پاکستان کو بہت ضرورت تھی ۔اب تو آئے روز کشتیوں میں ڈوب کر اچھی معیشت کی آس میں ہمارے جوان اور خوبرو بیٹے رزق بحر ہو رہے ہیں ۔سہیل لون پاکستان آتا رہا اُس سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں اور تعلقا ت بڑھتے بھی چلے گئے ۔ ایک دن سہیل مال روڈ پرمجھے ایک وکیل کے پاس لے گیا جس نے کسی کیس میں فیس تووصول کررکھی تھی لیکن کیس نہیں کیا تھا ۔ جب میں
اُن کے ساتھ گیا تووکیل صاحب واقف کار نکل آئے لیکن کوئی شرمندگی اُس کے چہرے پرنہیں تھی ۔ میں نے آفس سے نکلتے ہوئے سہیل سے کہا کہ’’ آپ کو آئندہ وکیل کی ضرورت ہو تومجھے بتا دیجیے گا اپنے بہت سے بچے وکالت کررہے ہیں ۔‘‘میر ی قسمت بری کہ میں نے ایسا کہا اور چند ماہ بعد سہیل کو ایک وکیل کی ضرورت بھی پڑ گئی اُس نے مجھ سے رابطہ کیا تو میں نے ایک بہت پیارے برخودار کو پیش کردیا ۔ سہیل پاکستان آیا وکیل سے ملا ۔ معاملات طے ہوئے ٗسہیل نے تمام ضروری کاغذات حوالے کیے اور چل دیا لیکن وہ دن جائے اورآج کا دن آئے سہیل کا کیس ہی دائر نہیں ہوا ۔ میں نے بیسیوں بار مقدمے کی بابت وکیل صاحب سے سوال جواب کیے لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا ۔ میں سمجھ گیا کہ غلطی ہو چکی ہے ۔ بہرحال وکیل صاحب آج بھی میرے عزیز ہیں اور میں جانتا ہوں کہ اب اس سارے معاملے کا ذمہ دار بھی میں ہوں لیکن اس سارے کھیل میں سہیل کااخلاقی طور پر نقصان بہت ہو گیاجس کیلئے میں آج بھی اُس سے شرمندہ ہوں ۔سہیل ایک ذہین پاکستانی ہے جس نے اپنی محنت سے اپنا او ر اپنے خاندان کا نام بھی بنایا اور پاکستان کو بھی باوقار کیا یہی وہ اوورسیز پاکستانی ہیں جو اپنی ذہانت اور اعلیٰ خدمات کے بل بوتے پر پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں ۔ ویل ڈن سہیل۔
سہیل لون: ایک برین جو ڈرین ہو گیا
09:07 AM, 19 Dec, 2025