قیدی کا علاج انسانی حق ہے، اسے سیاست کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے

09:22 AM, 20 Aug, 2026

کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالف، قیدی اور کمزور انسان کے ساتھ کس قدر انسانی اور قانونی رویہ اختیار کرتا ہے۔ جیل میں موجود کوئی شخص، خواہ وہ عام شہری ہو، سیاسی کارکن ہو یا سابق وزیرِاعظم، بیماری کی صورت میں علاج کا حق رکھتا ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر انسانی صحت اور زندگی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ پاکستان کی سیاست میں سیاسی لیڈر کا جیل جانا شائد ایک وقت میں ضروری ہوتا ہے یا تو حکومت میں آنے سے قبل یا حکومت جانے کے بعد جیل میںجاکر گو کہ اسے جیل سے باہر کی دنیا کے کئی فیصد سہولیات میسر ہوتی ہیں مگر پھر بھی اسے تنہائی محسوس ہوتی ہے اسکی جماعت باہر اپنے قید ی لیڈر پر نام نہاد ظلم و ستم کی کہانیاںگھڑنا شروع کر دیتے ہیں تاکہ عوام میں انکے لیڈر کیلئے ہمدردیاں پیدا ہو سکیں، نیز حزب اختلاف کا بندہ ہی قید ہوتا ہے اسلئے حزب اختلاف کے ایجنڈے میں حکومت کے خلا ف جائز یا ناجائز پروپیگنڈہ کرنا بھی شامل ہوتا ہے ۔ سیاسی لیڈران اورانکی جماعت کا پروپیگنڈہ اپنی جگہ۔ مجھے یا د ہے کہ ”آزادی صحافت“ کی تحریک 1978 ءمیں خود بھی دیگر صحافیوںکے ہمراہ کئی ماہ جیل میںتھا، ہمیں جیل میں B کلاس ہونے کی وجہ سے ، کراچی ، حیدرآباد ، خیر پور جیل میں اسوقت کی مارشل لاءحکومت نے ” خدمت گار“ بھی فراہم کئے ہوئے تھے ، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہم نے جیل میں ہی بھوک ہڑتال کی جس کا دورانیہ بیس دن تھا، بیس دن یعنی 480 گھنٹے بھوک ہڑتال کی جو واقعی بھوک ہڑتال تھی، معزز دنیا میںبہت شور ہوا چونکہ صحافی جیل میں تھے جسے معیوب تصور کیا جاتا ہے، باہر صحافی اور اخباری کارکنوں کی تنظیمیں، طلباءتنظیمیں، مزدور تنظیمیں مستقل، قید صحافیوںکے لیے شور مچا رہی تھیں کہ بھوک ہڑتالی صحافی پر غشی کے دوررے پڑ رہے ہیں، بھوک ہڑتال اور ظلم کی وجہ سے وہ بے ہوش پڑے ہیں وغیرہ وغیرہ، یہ باتیں ہم پر رہائی کے بعد اسوقت کے اخبارات دیکھ کر معلوم ہوئیں جبکہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے کمزوری اور وزن کم ہوا تھا غشی کے دورے نہیں پڑ رہے تھے نہ ہی بے ہوش ہو رہے تھے۔ یہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان سمیت کسی بھی قیدی کی بیماری پر حکومت آنکھ بند نہیںکرتی بقول وزیر داخلہ محسن نقوی اگر کسی کو جیل میں پریشان کرنا ہو تو ”جیل کا سرکاری، قانونی مینو“ کافی ہے چونکہ جیل مینول سے ہٹ کر جو اعلیٰ سہولیات اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوںکو جیل میں مل رہی ہوتی ہیں اس کے باوجود سیاست کرنے کیلئے قیدی کے لواحقین چاہے خاندان کے ہوں یا اسکی سیاسی جماعت کے وہ شور و غل مچا رہے ہوتے ہیں یہ ہی حال سابقہ کپتان کے حوالے سے جنکے خلاف مقدمات تو ہیں جنکی پیروی انکے وکلاءبھاری معاوضے لیکر کررہے ہیں، اگر مقدمات میں بریت ہو جائے تو وکلاءکا روز گار ؟؟؟ انکی بہنیںاپنے بھائی کی قید کے حوالے سے سیاست کرنا چاہ رہی ہیں، نیز پاکستان سے باہر بیٹھے بھاری معاوضے لیکر انکے ”وی لاگرز“ پروپیگنڈا بار سابق کپتان کی قید کو مزید مشکل بنا رہے ہیں، سسٹم پر اعتراض کرنے والے وزیر داخلہ بھی نے بھی انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹرز کے معائینے کے حوالے سے علیمہ خان نے پارٹی لیڈر شپ کو ہدائت کی تھی کہ حکومت سے معائینے کے حوالے سے تعاون نہ کرو چونکہ ہمارے نعروںکو نقصان پہنچے گا۔ یہ بات توہ پہلے ہی زبان زد عام ہے کہ باہر بیٹھی لیڈر شپ اور ہمشیرائیں کسی بھی تعاون کو تیار ہی نہیںلگتا ہے کہ وہ مزید جیل میں رکھنے کی خواہش پر کام کر رہے ہیں ہاں ہر کچھ دن بعد سڑکوں پر آنے کا ناکام قسم کا بیان آتا ہے جبکہ سڑکوںپر آنے کیلئے اس جماعت کو گزشتہ سال مئی کے ناکام احتجاج کے بعد کئی مرتبہ سوچنا پڑتاہے ، اور اب انہیں سنجیدگی سے سوچنا پڑے گا کہ سڑک چھوڑ کر اسمبلی میںاور مذاکرات میز پر آﺅ یہ ہی جمہوری راستہ ہے اگر سیاست کرنا ہے تو ۔ کپتان کے علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ خوش آئیند ہے یہ فیصلہ اسی سپریم کورٹ نے دیا ہے جسے اسکے پروپیگنڈے باز گالیوں سے نوازتے تھے اب مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں اور نہ جانے کیوں اسے مسلم لیگ یا حکومت کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیںیہ کوئی کشتی مقابلہ تو نہیںتھا ۔ اگر حکومت یہ م¶قف اختیار کرتی ہے کہ عمران خان کو درکار طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ڈاکٹروں کو ان کے معائنے کی اجازت ہے اور ضرورت کے مطابق علاج 
کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تو اس معاملے کو سیاسی جنگ کا میدان بنانے کے بجائے شفافیت اور طبی اصولوں کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ علاج حکومت کرا رہی ہے یا خاندان، سوال یہ ہونا چاہیے کہ مریض کو واقعی مناسب، بروقت اور معیاری علاج مل رہا ہے یا نہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں ہر معاملہ سیاسی مفاد کے چشمے سے دیکھنے کی روایت مضبوط ہو چکی ہے۔ عمران خان کی صحت کا معاملہ بھی اسی کشمکش کا شکار نظر آتا ہے۔ حکومت کی طرف سے اگر علاج اور طبی سہولتوں کی فراہمی کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف اس کے جواب میں فوراً یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ شاید کوئی ڈیل ہو گئی ہے۔ پھر حکومت کے کسی اقدام کو سیاسی مفاہمت، پس پردہ مذاکرات یا کسی خفیہ سمجھوتے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ سیاست نہ صرف عوام کو مزید تقسیم کرتا ہے بلکہ ایک بیمار شخص کے علاج جیسے حساس معاملے کو بھی مشکوک بنا دیتا ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر حکومت کسی قیدی کو علاج کی سہولت فراہم کر رہی ہے تو اسے لازماً ”ڈیل“ کیوں سمجھا جائے؟ کیا ایک قیدی کا علاج کرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے سیاسی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ دنیا کے کسی بھی مہذب قانونی نظام میں قیدی کا علاج اس کے بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہے۔ علاج کی اجازت دینا یا طبی سہولت فراہم کرنا کسی سیاسی رعایت کے مترادف نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر عمران خان کی صحت کے بارے میں ان کے اہلِ خانہ، وکلا یا پارٹی کو کوئی حقیقی تشویش ہے تو اس کا بہترین راستہ طبی ماہرین کی آزادانہ رائے، میڈیکل رپورٹس کی شفافیت اور قانونی طریقہ کار ہے۔ بیماری کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنا کر مسئلے کو مزید پیچیدہ کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ قیدی کی جماعت کی تسلی کیلئے وزارت داخلہ نے تمام تر ذرایع استعمال کئے ہیں جماعت کے لیڈران کو دعوت دی گئی مگر انہون نے ابتدائی طور پر جماعت کا فیصلہ کہہ کر معائنہ کرنے والی ڈاکٹر ٹیم میںگواہی کے طور پر شامل ہونے سے منع کر دیا اسکا مطلب ہے انکے لئے انکے لیڈر کے علاج سے زیادہ ہنگامی سیاست اور افراتفری کی سیاست، بیان بازی سے زیادہ دلچسپی ہے، میںنے جدہ کے کچھ لوگوںکی پوسٹ دیکھی فیس بک پر وہ ڈھکے چھپے انداز میںاپنی محبت کا اظہارکر رہے ہیں، نہ جانے انہیںخوف کیوں ہے؟؟ پاکستانی متعلقہ ادارے اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتے وہ لوگ قونصلیٹ، سفارت خانوںمیں وی آئی پی تصور کیے جاتے ہیںچاہے انکا تعلق نام نہاد صحافت سے ہو یا عام زندگی سے۔ 

مزیدخبریں