کبھی کبھی کوئی واقعہ صرف ایک جرم نہیں ہوتا، وہ پورے معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھ دیتا ہے۔ اس آئینے میں صرف مجرم کا چہرہ نہیں ہوتا؛ پولیس، عدالت، سیاست، میڈیا، معاشرتی رویے، ہماری خاموشی اور نظام کی کمزوریاں بھی صاف دکھائی دیتی ہیں۔ پنکی ڈرگ والی کا قصہ بھی اسی نوعیت کا ایک معاملہ ہے۔ اس کیس کے حوالے سے میڈیا میں سامنے آنے والی مبینہ تفصیلات کو اگر ایک وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اصل سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ایک عورت منشیات کے کاروبار یا جرائم کی دنیا میں کیسے داخل ہوئی، اس کے رابطے کن لوگوں سے تھے یا نوجوانوں تک منشیات کیسے پہنچتی رہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ انسان پہلی مرتبہ جرم کرنے کے بعد دوسری مرتبہ جرم کرتے ہوئے اتنا بے خوف کیوں ہوجاتا ہے؟ مجھے تقریباً تیس برس پہلے دیکھا ہوا ایک ڈراما یاد آتا ہے۔ اس میں فردوس جمال کا ایک کردار تھا اور ایک مکالمہ کچھ یوں تھا کہ پہلا ایک لاکھ روپیہ کمانا مشکل ہوتا ہے، اس کے بعد لاکھ خود بخود آتے چلے جاتے ہیں۔ یہ جملہ دولت کے بارے میں تھا، مگر انسانی نفسیات کے ایک گہرے اصول کو بھی بیان کرتا ہے۔ پہلا جرم خوف پیدا کرتا ہے۔ دل دھڑکتا ہے، پکڑے جانے کا ڈر ہوتا ہے، ضمیر سوال کرتا ہے۔ لیکن اگر پہلا جرم ہوجائے اور مجرم بچ نکلے تو سب سے خطرناک تبدیلی اس کے اندر پیدا ہوتی ہے: جرم کا خوف کم ہونے لگتا ہے۔ پھر اسے قانون کی کمزوریاں سمجھ آتی ہیں، پولیس کے طریق کار کا اندازہ ہوجاتا ہے، رابطوں کا پتا چلتا ہے، خاموش رہنے والوں کی تعداد معلوم ہوتی ہے اور بالآخر اس کے اندر یہ یقین پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ بچ سکتا ہے۔ یہیں سے جرم حادثہ نہیں رہتا، عادت بننے لگتا ہے؛ اور بعض صورتوں میں عادت آگے چل کر پورا کاروبار اور پورا نیٹ ورک بن جاتی ہے۔ اسی لیے کسی بڑے جرائم پیشہ نیٹ ورک کو سمجھنے کے لیے صرف آخری واردات نہیں دیکھنی چاہیے۔ پنکی ڈرگ والی کے حوالے سے سامنے آنے والی مبینہ کہانی کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی نوجوانوں تک منشیات پہنچانے والا کوئی منظم نیٹ ورک موجود تھا تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاست، معاشرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔
انصاف کا مطلب صرف مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ بے گناہ کو الزام سے بچانا بھی ہے۔ لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی اکثر قانون کے پیچیدہ راستوں میں بھٹکتا رہتا ہے، جبکہ بااثر لوگوں کے بارے میں مقدمات کبھی صلح، کبھی سیاسی تعلق، کبھی سماجی دباو¿ اور کبھی قانونی موشگافیوں کے درمیان کہیں گم ہوجاتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے کئی واقعات دیکھے ہیں جہاں ایک عام آدمی نے جرم کیا، مقدمہ چلا اور اسے سزا بھی ہوگئی، لیکن جن لوگوں پر بار بار سنگین جرائم کے الزامات لگتے رہے، ان کے معاملات صلح یا کسی دشمن کے ہاتھوں انجام تک پہنچتے رہے۔ پچھلے دنوں ایک مرزا صاحب سے متعلق کیس بھی سامنے آیا جس میں ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد گرفتاری ہوئی اور مقدمہ عدالت تک پہنچا۔ رپورٹ ہونے والی عدالتی بحث میں شناخت کے حوالے سے وکیل کا ایسا مو¿قف بھی سامنے آنے کا ذکر ہوا کہ دنیا میں ایک شکل کے سات لوگ ہوسکتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی مقدمہ محض ایسے کمزور یا پیچیدہ نکات کی نذر ہوجائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی انصاف کا دروازہ کہاں کھٹکھٹائے؟ اسی طرح وہ ایم پی اے والا واقعہ اور رائیونڈ روڈ کے واقعات بھی اسی بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ کسی ایک شخص کا نہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہمارا نظام طاقتور اور کمزور کے لیے واقعی ایک جیسا ہے؟
لاہور کی دشمن داریاں دیکھ لیجیے۔ ایک قتل دوسرے قتل کو جنم دیتا ہے، پھر بدلہ اگلی نسل کو منتقل ہوجاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جب کسی خاندان کو یہ یقین نہ رہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا تو وہ انصاف کے بجائے انتقام کا راستہ اختیار کرنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی سی ڈی ضرور ی ہو گئی ہے۔ آج پنجاب میں جدید نگرانی کے نظام نے کئی مقدمات میں ملزمان تک پہنچنے میں مدد دی ہے، لیکن کیمرہ صرف جرم ریکارڈ کرسکتا ہے؛ انصاف عدالت ہی دے سکتی ہے۔ اور عدالت بھی اسی وقت مو¿ثر ہوگی جب تفتیش مضبوط ہو، شہادت محفوظ ہو، پراسیکیوشن مو¿ثر ہو اور فیصلہ بروقت ہو۔ یہاں سیاست اور جرم کے تعلق کا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ کسی وزیرِ۔ ایم پی اے یا کسی دوسرے بااثر شخص کا نام کسی واقعے میں آجائے تو قانون کی رفتار تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔ الزام اگر درست ہے تو عدالت میں ثابت ہونا چاہیے، اور اگر غلط ہے تو الزام لگانے والے کو بھی قانون کے سامنے جواب دینا چاہیے۔ طاقت کا مطلب قانون سے استثنا نہیں ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کبھی کاروبار، کبھی سیاست، کبھی خاندان اور کبھی تعلقات کی دیواریں اصل مقدمے کو چھپا دیتی ہیں۔ طاقتور شخص کے گرد لوگ جمع ہوجاتے ہیں اور پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ جرم ہوا یا نہیں، سوال یہ بن جاتا ہے کہ ملزم کتنا طاقتور ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کو واقعی مضبوط ملک بنانا ہے تو صرف دفاعی طاقت کافی نہیں۔ فوجی طاقت ضروری ہے، معاشی طاقت ضروری ہے، سیاسی استحکام ضروری ہے، مگر ان سب کے نیچے انصاف کی طاقت بنیادی ستون ہے۔ہمارا منہ اس کے لیے پھر فیلڈ مارشل کی طرف پر امید نظروں سے دیکھتا ہے۔سوچتے ہیں ایک جنرل عدالتوں کے اوپر لگا دیا جائے تو فوج جیسا میرٹ اور ڈسپلن یہاں بھی لے آئے۔درجہ بندی میں نچلے درجوں والی عدلیہ کو فوجی طاقت کی طرح اوپر لے آئے۔
کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں عدالتی نظام کو مو¿ثر، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے مختلف قانونی طریق کار اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سینئر سٹیزن کی خدمات لی جاتی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے نظام کو محض قوانین کی تعداد سے نہیں بلکہ انصاف کے معیار سے جانچنا ہوگا۔ آخر میں بات پھر اسی ایک اصول پر آکر رکتی ہے: پہلا جرم ہی سب سے اہم جرم ہوتا ہے۔ اگر پہلی بار قانون توڑنے والے کو یہ پیغام مل جائے کہ ریاست دیکھ رہی ہے، عدالت فیصلہ کرے گی اور سزا یقینی ہوسکتی ہے تو شاید جرم کی اگلی سیڑھی وہ چڑھے ہی نہ۔ لیکن اگر پہلا جرم نظرانداز کردیا جائے تو دوسری مرتبہ خوف کم ہوگا، تیسری مرتبہ ضمیر خاموش ہوگا اور چوتھی مرتبہ جرم شاید پیشہ بن جائے۔ پہلا لاکھ مشکل ہوتا ہے، پھر لاکھ خود بخود آتے ہیں۔ جرم کی دنیا میں بھی پہلا قدم سب سے مشکل ہوتا ہے؛ اس کے بعد راستہ آسان ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے انصاف کا پلڑا عدالت میں بھی تولا جاتا ہے اور تھانے میں بھی، تفتیش کے کمرے میں بھی اور گواہ کے بیان میں بھی۔ جہاں جرم کو طاقت، تعلق یا خاموشی کے ذریعے بچ نکلنے کا راستہ ملتا ہے، وہاں انصاف کا پلڑا ہلکا ہوجاتا ہے۔ اور جب انصاف کا پلڑا ہلکا ہوجائے تو دشمن داریاں پیدا ہوتی ہیں، گینگ بنتے ہیں، منشیات کے نیٹ ورک پھیلتے ہیں، نوجوان برباد ہوتے ہیں اور معاشرہ قانون کے بجائے طاقت پر یقین کرنا شروع کردیتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا : انصاف کا پلڑا چاہیے یا پنکی ؟ کیونکہ جس معاشرے میں انصاف کمزور ہوجائے، وہاں جرم صرف بڑھتا نہیں، آخرکار ریاست کی رِٹ کو بھی کھا جاتا ہے۔
نظام انصاف سے بڑی پنکیاں ؟
09:21 AM, 20 Aug, 2026