لوڈ شیڈنگ کے ثمرات

09:21 AM, 20 Aug, 2026


اکثر موجودہ حکومت کی دیانت اور اہلیت رنگ لاتی ہے اور شدید گرمی کے موسم میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ تکلیف دہ حد تک بڑھ گیا تو بھائی لوگوں نے اس پر واویلا کرنا شروع کر دیا حالانہ لوڈ شیڈنگ اور ملکی ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اب یہی دیکھ لیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک ہفتہ میں تین نہیں تو دو دن بجلی نے صبح آٹھ بجے سے لے کر دوپہر تین چار بجے تک جانا ہی ہوتا تھا ۔اس کے متعلق جب بھی بجلی والوں سے پوچھتے تو کہا جاتا کہ آپ کے علاقہ میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اس لئے یہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے ۔یہ سن کرہم بڑے خوش ہوتے تھے کہ ہمارے علاقہ میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور ہر محب وطن کو یقینا ملکی ترقی کا سن کر خوش بھی ہونا چاہئے لیکن اس حوالے سے دوسرے شہروں میں رہنے والے دوست احباب سے جب بات ہوئی تو یہ عقدہ کھلا کہ ملکی ترقی کسی ایک علاقہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ تو پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے ۔یقین کریں کہ ہم نے جب یہ بات سنی تو خوشی سے نہال بلکہ نو نہال ہو گئے ۔ اب یہی دیکھیں کہ لوڈ شیڈنگ کے ثمرات میں بحیثیت مسلمان سب سے بڑا ثمر تو یہی ہے کہ انسان خدا کو نہیں بھولتا ۔آپ دیکھیں اگر لوڈ شیڈنگ نہیں ہے تو آج کل اکثر گھروں میں وائی فائی انٹر نیٹ ہے ہر بندہ بلکہ اب تو دادیاں اور نانیاں بھی موبائل پر چیٹ نہیں تو یو ٹیوب پر ڈرامے ضرور دیکھ رہی ہوتی ہیں لیکن جیسے ہی بجلی جاتی ہے اور اس ساون کے موسم میں تو ادھر ابر رحمت کی آمد کے ساتھ ہی میڈم بجلی شرما کر کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ اب ایک جانب حبس اور دوسری جانب اس دور کی سب سے بڑی ضرورت انٹر نیٹ بھی غیر حاضر ہو جاتا ہے تو اس وقت بوڑھوں کو تو چھوڑیں نوجوان نسل کہ جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بگڑ گئی ہے اسے تو دین سے دلچسپی ہی نہیں رہی لیکن جب لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے انٹر نیٹ چلا جاتا ہے تو یہی نوجوان نسل جتنے خشوع و خضوع سے خدا کے حضور دعائیں مانگ رہی ہوتی ہے اتنے خشوع و خضوع سے ہماری بزرگ نسل نے کبھی عبادت نہیں کی ہو گی۔
ایک وقت تھا کہ ہم گرمیوں میں چھت پر سوتے تھے لیکن جب سے اس کمبخت اے سی کی ٹھنڈی ٹھار ہواﺅں کے اسیر ہوئے ہیں تو شہر تو کیا گاﺅں دیہاتوں میں بھی لوگوں نے چھتوں پر سونا چھوڑ دیا ہے۔ اس سے ماضی میں کھلی اور تازہ ہوا جو صحت کے لیے بہت مفید تھی اس کی کمی کے سبب ایک جانب تو صحت کے مسائل اور دوسری جانب محلہ کی خبروں سے آپ محروم ہو جاتے ہیں لیکن یہ لوڈ شیڈنگ کی برکات ہیں کہ آپ اپنی چھت پر لیٹے لیٹے کسی کو بھی بتا سکتے ہیں کہ لاہور کی حدود میں کتنے ہوائی جہاز داخل ہوئے ہیں اور کتنے روانہ ہوئے ہیں۔ چاندنی رات نہ ہو تو چار پائی پر لیٹے ہوئے آپ کو محلہ میں جتنے لیلیٰ اور ان کے مجنوں ہیں ان کی بھی حرکات و سکنات دیکھنے اور جاننے کے وسیع مواقع میسر آتے ہیں حالانکہ اب موبائل اور نیٹ کا زمانہ ہے لیکن پھر بھی دنیا میں محبت کرنے والوں کی کمی نہیں۔
لوڈ شیڈنگ کے اصل ثمرات کی تو ابھی بات ہی نہیں ہوئی کہ جس سے ملکی ترقی کے پوشیدہ راز عیاں ہوتے ہیں۔لوڈ شیڈنگ جب جھٹکوں میں ہوتی ہے کہ جسے عرف عام میں ٹرپنگ کہتے ہیں یہ تو سمجھیں کہ ملکی ترقی کے لئے تریاق کا کام کرتی ہے ۔دیکھیں معاشی ترقی کا ایک اصول ہے کہ پیسہ گردش کرتا رہے ۔۔اب ٹرپنگ جو کہ لوڈ شیڈنگ کا بغل بچہ ہے دن میں اگر دو چار بار بھی ہو جائے تو کسی کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ کتنے ڈیپ فریزروں اور ایئر کنڈیشنروں کے کمپریسر وں کی روح اس جہان فانی سے کوچ کر جائے گی ۔مرمت بھی کرائیں تو چھ سات ہزار کہیں نہیں گئے اور اگر بدلنا ہی پڑ جائے تو دس بارہ ہزار تو لگ ہی جائیں گے۔ہمیں تو ذاتی تجربہ ہے ۔بات شرم کی ہے لیکن بات سچ ہے کہ مکینک کے کہنے پر پہلے مرمت کے سو جوتے بھی کھائے اور پھر ہفتہ بعد ہی نئے کمپریسر کے سو پیاز بھی کھائے تھے ۔اب اندازہ کریں کہ ایک مرتبہ فریج اور ایک مرتبہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر کی مد میں مجھ سفید پوش کی جیب سے کتنے پیسوں نے گردش کی ہو گی اور یہ پیسے کی گردش ہی تو معاشی ترقی کی ضامن ہے۔اس کے علاوہ اسی ٹرپنگ سے طلبہ سے لے کر کاروباری طبقہ کے کمپیوٹروں کی ہارڈ ڈسکوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اس سے بھی غریب طبقہ کا روز گار چلتا رہتا ہے ۔اگر یہ ٹرپنگ نما لوڈ شیڈنگ نہ ہو تو سوچیں کہ کتنے غریبوں کے روزگار پر لات پڑے گی لہٰذا لوڈ شیڈنگ ختم کرنا تو ایسے ہی ہے کہ جیسے ظالم اور سفاک بلدیہ کے عملہ کا کسی سڑک سے غریبوں کی ریڑھیوں کو ہٹاکر غریبوں کو بیروز گار کرنا ہے۔ آپس کی بات ہے اب تو پیر بابے لوڈ شیڈنگ کے تعویز بھی دیتے ہیں اور تعویزوں کے نرخ گھنٹوں کے حساب سے ہیں۔ گذشتہ دنوں ہی ایک بہو بابا جی کے پاس آئی اور کہا کہ آپ کے تعویز کی وجہ سے بے وقت بجلی تو چلی گئی اور میری ساس کا گرمی کی شدت سے بلڈ پریشر بھی کافی ہائی ہو گیا حالت بگڑ بھی گئی تھی لیکن نگوڑی بجلی آ گئی اور ایئر کنڈیشنر کی ٹھنڈک سے میری ساس کی حالت پھر ٹھیک ہو گئی ۔اس پر بابا جی نے کہا کہ میں نے تو کہا تھا کہ تین گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے پیسے دو لیکن تم نے دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے پیسے دیئے تو اس میں میرا کیا قصور ۔

مزیدخبریں