سمندر کا محافظ، پاکستان کا محافظ 

09:23 AM, 20 Aug, 2026

 ”Together for Peace“ کا تصور دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ امن کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے۔یہاں پاکستان نیوی کا ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے، اور وہ ہے بلیو اکانومی۔ہم نے برسوں تک پاکستان کے معاشی امکانات کو زیادہ تر زمین کے حوالے سے دیکھا۔ زراعت، صنعت، معدنیات، برآمدات اور شہری معیشت پر گفتگو ہوتی رہی، مگر سمندر کے اندر موجود معاشی امکانات کو وہ توجہ نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔سمندر میں فشریز، ایکوا کلچر، شپنگ، جہاز سازی، بندرگاہی خدمات، ساحلی سیاحت، سمندری تحقیق، معدنی وسائل، توانائی اور دیگر شعبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی معیشت کے ایک بڑے حصے کو بلیو اکانومی سے جوڑ رہے ہیں۔ پاکستان کےلئے بھی یہ مستقبل کا ایک اہم راستہ ہے۔ پاکستان نیوی نے میری ٹائم سکیورٹی ورکشاپ اور دیگر آگاہی و فکری سرگرمیوں کے ذریعے بلیو اکانومی، میری ٹائم سکیورٹی اور سمندری امور کو قومی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ پارلیمنٹ، 
حکومت، جامعات، میڈیا، صنعت اور دیگر متعلقہ حلقوں کو اس بحث میں شامل کرنا ایک مثبت قدم ہے۔کیونکہ بلیو اکانومی صرف نیوی کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ اگر سمندر محفوظ ہوگا تو تجارت محفوظ ہوگی، تجارت محفوظ ہوگی تو معیشت مضبوط ہوگی، معیشت مضبوط ہوگی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور روزگار بڑھے گا تو ساحلی علاقوں میں بسنے والی لاکھوں آبادیوں کی زندگی بہتر ہوسکتی ہے۔پاکستان کے مستقبل میں گوادر کی اہمیت بھی اسی تناظر میں دیکھنی ہوگی۔ گوادر پورٹ اور سی پیک کے سمندری راستوں کا تحفظ قومی اقتصادی مفاد کا حصہ ہے۔ پاکستان نیوی کی ذمہ داریوں میں گوادر اور اس سے وابستہ سمندری سرگرمیوں کی حفاظت بھی اہم مقام رکھتی ہے۔مگر سمندر کی حفاظت صرف جنگی جہازوں اور آبدوزوں سے نہیں ہوتی۔ محفوظ سمندری سفر کے لیے درست نقشے، سروے، موسمی معلومات، نیوی گیشن اور بروقت وارننگز بھی ضروری ہیں۔ یہاں پاکستان نیوی کا ہائیڈروگرافک شعبہ قابل ذکر ہے۔ سمندری سروے اور نقشہ سازی کے ذریعے جہازوں کے لیے محفوظ راستوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ پاکستان نیوی کا نیشنل ہائیڈروگرافک آفس اس شعبے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کام بظاہر خاموش اور غیر محسوس ہے، لیکن عالمی بحری تجارت اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔سمندر کی تہہ میں موجود چٹان، ریت کے بدلتے ہوئے ذخائر یا کسی مقام پر پانی کی گہرائی میں تبدیلی ایک بڑے تجارتی جہاز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے سمندری نقشہ سازی دراصل تجارت، نیوی گیشن اور انسانی جانوں کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔پاکستان نیوی کا کردار تعلیم اور تربیت تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ ہائیڈروگرافی، نیوی گیشن اور دیگر میری ٹائم شعبوں میں افسران اور اہلکاروں کی تربیت کے ساتھ دوست ممالک کے اہلکاروں کو بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس طرح پاکستان کی بحری صلاحیت صرف قومی دفاع تک محدود نہیں رہتی بلکہ خطے میں پیشہ ورانہ تعاون کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔پاک بحریہ کا ایک اہم پہلو اس کا سماجی اور فلاحی کردار بھی ہے۔ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں 
بحریہ کے وسائل امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے صحت، تعلیم، آگاہی اور امدادی سرگرمیاں بھی قومی خدمت کا حصہ ہیں۔ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ساحل پر رہنے والے لوگ پاکستان کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ماہی گیر، کشتی بان، بندرگاہوں سے وابستہ مزدور اور ساحلی کاروبار سے منسلک خاندان ہماری معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے لیے محفوظ سمندر دراصل محفوظ روزگار ہے۔آج جب موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کے لیے خطرہ بن چکی ہے تو پاکستان کے ساحلی علاقوں کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافہ، ساحلی کٹاو¿، سمندری آلودگی اور سمندری پانی کا زمین میں داخل ہونا ایسے مسائل ہیں جن پر قومی سطح پر سنجیدہ تحقیق اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ یہاں میری ٹائم اداروں، جامعات، سائنس دانوں اور حکومت کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔پاکستان نیوی کے 78 سالہ سفر کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو شاید وہ یہ ہوگا ایک محدود 
وسائل رکھنے والی بحری قوت سے ایک ہمہ جہت میری ٹائم ادارے تک کا سفر۔ 1947ءمیں جس سفر کا آغاز محدود وسائل سے ہوا تھا، آج وہ جدید جنگی جہازوں، آبدوزوں، بحری طیاروں، میری ٹائم سکیورٹی، بین الاقوامی امن مشقوں، ہائیڈروگرافی، تربیت، تحقیق اور بلیو اکانومی تک پہنچ چکا ہے۔لیکن اس سفر میں ہمیں اپنے شہداءکو نہیں بھولنا چاہیے۔سمندر اپنے راز کسی کو واپس نہیں کرتا۔ جو لوگ اس کی تہہ میں وطن کے لیے سو گئے، ان کی قبریں شاید ہماری زمین پر نظر نہ آئیں، مگر ان کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہیں۔14 اگست ہمیں انہی قربانیوں کو یاد کرنے کا موقع دیتا ہے۔ پاکستان کی آزادی محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھی۔ یہ لاکھوں انسانوں کی قربانی، ہجرت، جدوجہد اور امید کا نتیجہ تھی۔ اسی طرح اس آزادی کا تحفظ بھی ایک مسلسل عمل ہے۔آج ہمیں پاکستان نیوی کو صرف جنگی یونیفارم میں کھڑے ایک سپاہی کی تصویر کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اسے اس ملاح کے روپ میں بھی دیکھنا چاہیے جو سمندر میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کر رہا ہے، اس ماہر کے طور پر بھی جو سمندری نقشے تیار کر رہا ہے، اس افسر کے طور پر بھی جو بین الاقوامی امن مشق میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہے، اس استاد کے طور پر بھی جو نئی نسل کو تربیت دے رہا ہے اور اس اہلکار کے طور پر بھی جو مشکل وقت میں ساحلی آبادی کی مدد کے لیے پہنچتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا سمندر پاکستان کی معیشت کا مستقبل بھی ہے۔ اگر ہم نے بلیو اکانومی کو قومی ترجیح بنا لیا، اپنی بندرگاہوں کو جدید بنایا، شپنگ اور جہاز سازی کو فروغ دیا، فشریز کو سائنسی بنیادوں پر منظم کیا، ساحلی سیاحت کو ترقی دی اور سمندری تحقیق پر سرمایہ کاری کی تو پاکستان کے لیے معاشی امکانات کے ایک نئے باب کا آغاز ہوسکتا ہے۔چودہ اگست کے موقع پر پاکستان نیوی کے 78 سالہ سفر کو سلام پیش کرتے ہوئے ہمیں ایک نئے عہد کی ضرورت ہے۔ وہ عہد یہ ہو کہ ہم اپنی سمندری حدود کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے سمندری وسائل کی حفاظت بھی کریں گے۔ہم سمندر کو صرف دفاعی سرحد نہیں سمجھیں گے بلکہ اسے امن، تجارت، روزگار، تحقیق اور خوشحالی کا راستہ بنائیں گے۔ (ختم شد)

مزیدخبریں