ریاست کے تمام شہری ہی بدحال، پریشان، غیر محفوظ اور ایک انجانے خوف کا شکار تھے۔ خود فریبی اور بدگمانی اپنے عروج پر تھی۔ ہر شخص خود کو مظلوم اور دوسرے کو ظالم سمجھتا۔ ہمہ وقت اضطراب کی کیفیت کا دور رہتا۔ عوام کی غالب اکثریت غریبوں پر مشتمل تھی۔ یہ بنیادی حقوق اور ضرورتوں سے محروم کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ دوسری طرف امراء اور اشرافیہ کا طبقہ بھی اسی کیفیت کا شکار تھا۔ وہ ریاست کا سب سے بڑا بینیفشری ہونے کے باوجود بھی مطمئن نہ تھا، اسے اپنے علاج معالجے کیلئے کوئی ہسپتال پسند تھا نہ تعلیم کیلئے کوئی ادارہ، نہ ان کا کاروبار محفوظ نہ ہی مستقبل، وہ اپنے علاج، تعلیم، کاروبار کے لئے دوسری ریاستوں کا انتخاب کرتے مگر ان میں کچھ اقدار مشترک تھیں۔ اگر یہ غریب کھیت مزدور ہے تو وہ اپنے مالک زمیندار سے پورے سال کی تنخواہ ایڈوانس میں وصول کر لیتا۔ ہفتہ وار اور ماہانہ خرچہ الگ سے، صرف یہی نہیں وہ اپنی روزمرہ کی گھریلو ضروریات کسی نہ کسی شکل میں زمیندار کی جیب سے ہی پوری کرتا، ان تمام سہولیات کے باوجود بھی وہ کام کے معاملے میں روایتی بددیانتی، جھوٹ، لاپروائی، ہڈحرامی کا مرتکب ہوتا، جب کسی بھی فصل کی کاشت کا وقت ہوتا تو وہ مختلف حیلے بہانوں سے کنی کترانے کی کوشش کرتا پھر جب کھاد ڈالنے کا وقت آتا تو وہ آدھی کھاد تو چوری کر لیتا اور بقیہ کھاد بڑی بے دلی سے ڈالتا۔ فصل خراب ہونے پر وہ زمیندار کے ساتھ مل کر ’’مگرمچھ کے آنسو بہاتا اور پھر اس کو قدرت کا شاخسانہ قرار دے کر خود معصوم بن جاتا اور اگر یہ غریب گوالا ہے، تو سب سے پہلے دودھ میں سے کریم نکالتا پھر اس دودھ میں پانی مکس کر کے اسے خالص دکھانے کے لئے مضر صحت کیمیکل کا استعمال کر کے عوام کو فروخت کرتا، ساتھ ساتھ مہنگائی، اپنے بچوں کی بیماریوں اور تعلیمی اخراجات پر ٹسوے بھی بہاتا۔
اگر یہ غریب ریڑھی بان ہے تو اس نے سڑک کے درمیان اپنی ریڑھی کو کھڑا کر کے ٹریفک کے بہائو کو متاثر کرتا ہے پھر تمام گلا سڑا فروٹ ترتیب سے نیچے لگاتا ہے اور اوپر چند اچھے دانے دکھانے کیلئے اوپر لگا کر فروخت کرتا ہے۔ اگر یہ غریب ٹائر پنکچروں والا ہے تو یہ ٹائر چیک کرنے کے بہانے آپ کی عدم موجودگی میں 4/5 پنکچروں کا بل وصول کرے گا اور اگر یہ غریب راج گیر ہے تو یہ صبح 10بجے سے پہلے اپنے کام پر نہیں آئے گا پھر آکر سب سے پہلے سگریٹ سلگائے گا، دائیں بائیں دیکھے گا اور دیگر مزدوروں کے ساتھ فضول گفتگو کرنے کے بعد کام شروع کرے گا مگر یونہی 4 بجے کا وقت ہو گا یہ فوراً اپنے اوزار سمیٹنا شروع کر دے گا۔
یہی حال پلمبر کا ہے جو ضرورت سے تقریباً 10گنا زیادہ سامان کی فہرست مرتب کر کے مالک کے ہاتھ پکڑا دے گا اور اگر کوئی اس پر اعتراض کرے تو وہ لمبی چوڑی رام کہانی سنا کر لاجواب کرنے کی کوشش کرے گا۔اگر مالک نے اس کی فہرست کے مطابق سامان مہیا کر دیا تو آدھے سے زیادہ سامان خوردبرد کرے گا، ساتھ ساتھ اپنی ایمانداری کے قصے بھی سنائے گا اور اپنی غربت، گھریلو حالات پر آپ کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش بھی کرے گا۔
ان غریب غربا میں سے کچھ سرکاری ملازم بھی بھرتی ہوجاتے ، زیادہ تعداد نائب قاصد اور کلرکوں پر مشتمل ہوتی اور یہ نائب قاصد اور کلرک اپنے اپنے دفاتر میں دوران ڈیوٹی اپنے جیسے ہی غریب سائلین کو دیکھ کر غصے سے پاگل ہو جاتے، انہیں دھکے دے کر بدتمیزی سے ذلیل کر کے دفتر سے نکال دیتے لیکن اگر کوئی خوش لباس امیر کبیر صاحب سے ملاقات کے لئے آتا تو یہ فوراً اس کے لئے آداب بجا لاتے، دروازہ کھولتے اور اپنے صاحب سے ملاقات کرا کر بڑی خوشی محسوس کرتے اور جب وہ مہمان جانے لگتا تو یہ للچائی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھ کر سینے پر ہاتھ مار کر فخریہ انداز میں آئندہ کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کرتے۔ کلرک جائز کاموں کے لئے بھی رشوت طلب کرتے۔
غریبوں کی ایک معقول تعداد ریاست کی اعلیٰ سول بیوروکریسی میں بھی شمولیت اختیار کرتی۔ یہ دیہاتی سرکنڈوں، کچی مٹی/گارے سے تعمیر شدہ گھروں کے رہائشی اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہوتے ہی اپنی اوقات بھول جاتے۔ اولین فرصت میں یہ اپنی ذات/برادری سے لاتعلقی اختیار کرتے پھر کسی بڑی عزت دار نسل سے اپنا رشتہ جوڑتے اور وہی اپنا لقب اختیار کرتے۔ بھوک و افلاس میں پرورش پانے والے یہ سرکاری بابو اپنی بھوک مٹانے اور خود کو بڑا ظاہر کرنے کے لئے کرپشن اور خیانت کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے، لوٹ کھسوٹ میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے، لوٹی ہوئی دولت کو ہضم کرنے کے لئے یہ سنیاسی آقائوں کی خوشامد کرتے، انہیں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی ترغیب دیتے، مال پانی میں سے معمولی سا حصہ دے کر تمام تر ملبہ ان پر ڈال کر خود پتلی گلی سے نکل جاتے۔ ریاست کی پارلیمنٹ اگرچہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں پر مشتمل تھی تاہم کچھ مڈل کلاس افراد بھی کسی نہ کسی طریقے سے پارلیمنٹ کے ایوان میں پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے۔ یہ پارلیمنٹ کا حصہ بنتے ہی اپنے خاندان کے افراد کو پرکشش آسامیوں پر بھرتی کراتے تاکہ لوٹ کھسوٹ میں وہ بھی اپنا حصہ بقدر جُثہ وصول کر سکیں پھر اپنے حلقے کے عوام کے لئے حکومت سے فنڈ وصول کرتے اور اپنے پسندیدہ ٹھیکیداروں کے ذریعے آدھا فنڈ خوردبرد کرتے، بچا کھچا فنڈ کسی پل، سڑک پر لگا کر عوام سے داد سمیٹتے، دیگر عوامی مسائل پر شورو غوغا کر کے سسٹم کو ہدف تنقید بنا کر خود معصوم بن جاتے۔
دوسری طرف سرمایہ داروں اور اشرافیہ کا طبقہ تھا جو ریاست کے تمام وسائل پر قابض تھا، سرکاری مشینری ان کے مفادات کا نہ صرف تحفظ کرتی بلکہ ان کی مشاورت سے ہی سارے میگا پراجیکٹ ترتیب دیئے جاتے، ان کا ایک حصہ آپس میں پول کرتا اور پھر اشیا خورونوش کی قلت پیدا کرتا، بعدازاں مہنگے داموں فروخت کر کے خوب منافع خوری کرتے، ستم ظریفی یہ تھی کہ بھاری منافع کے باوجود بھی ٹیکس ادا نہ کرتے بلکہ ٹیکس کی رقم بھی صارف کو ہی منتقل کر دیتے۔ اشرافیہ کا وہ حصہ جو حکومتی عہدو پر فائز تھا وہ ہمہ وقت ریاستی دولت کو سمیٹنے کی تگ و دو میں مصروف رہتا اور پھر تمام دولت منی لانڈرنگ کے ذریعے کسی دوسرے ملک میں بھیج دیتا۔ اپنی اپنی فیملیز کو بیرون ملک شفٹ کر دیتے تاکہ آنے والی کسی بھی مصیبت سے بچ سکیں۔
آخری قدر جو مشترک تھی وہ یہ کہ یہ سب طبقات اپنی اپنی جگہ پر تمام تر خرابیوں کی ذمہ داری سسٹم پر ڈال کر خود معصوم بن جاتے۔
کہانی ایک ریاست کی!
03:53 PM, 19 Aug, 2025