پی ٹی آئی رہنماؤں کا ملک دشمن ایجنڈا کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ماضی میں جب بھی بھارت نے ریاست پاکستان کے خلاف سازش کی، چند ایک پی ٹی آئی رہنماؤں نے بیرون ملک سے آلہ کار بننے کی کوشش کی اور بھارتی میڈیا کو یہ جواز فراہم کر دیا کہ وہ کھل کر پاکستان کے خلاف بول سکے۔ گو کہ بھارتی میڈیا کے زہر آلود پراپیگنڈے میں کوئی حقیقت ہوتی ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی رہنماؤں کے دعووں کی کوئی حقیقت ہوتی ہے مگر ان حالات میں عام پاکستانی بخوبی سمجھ لیتا ہے کہ ملک کے خلاف سازش کرنے والے کون ہیں۔ ذلفی بخاری جیسے رہنما باہر بیٹھ کر لابنگ کرنے کے لئے مشہور ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو بھارتی میڈیا کی ایما پر کھل کر گمراہ کن پراپیگنڈا کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھارت کے بدنام زمانہ پراپیگنڈا چینل ری پبلک ٹی وی پر حال ہی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سابق امیدوار عبدالصمد یعقوب نے ایک انٹرویو دیا جس میں انہوں نے بلوچستان کے مسئلے کو اس زاویے سے پیش کیا جو نہ صرف حقیقت کے برعکس بلکہ دہشت گرد گروہوں کے بیانیے سے بھی میل کھاتا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ امریکا نے حال ہی میں کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دیا ہے جس کے بارے میں سب ہی پاکستانی جانتے ہیں کہ یہ ایک انصاف پر مبنی فیصلہ ہے مگر عبد الصمد نے اس امریکی فیصلے کو محض علامتی فیصلہ قرار دیا۔ بلوچ عوام اور دہشت گردوں کو یکساں دکھایا اور تاریخ کو مسخ شدہ انداز میں بیان کیا۔ یہ طرز گفتگو پاکستان کے موقف کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ بلوچستان میں شورش کوئی مقامی ردعمل نہیں بلکہ ایک بیرونی منصوبہ ہے۔ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کھلے عام کہہ چکے ہیں کہ بھارت پاکستان کو دباؤ میں رکھنے کے لیے بلوچستان کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ یہ محض باتوں کی حد تک نہیں رہا۔ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو نے واضح کر دیا کہ کس طرح بھارتی خفیہ ایجنسی را بلوچ علیحدگی پسندوں کو فنڈنگ، اسلحہ اور تربیت فراہم کرتی رہی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کا خاص ہدف چینی انجینئرز، سی پیک منصوبے اور پاکستانی سکیورٹی فورسز ہیں۔ یہ سب کسی عوامی تحریک کے نہیں بلکہ ایک دشمن ریاست کی پراکسی کے اہداف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ دونوں نے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو باقاعدہ دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا۔ اس فیصلے کو علامتی کہنا دراصل عالمی قانون اور حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ عبدالصمد یعقوب نے قلات کے پاکستان سے الحاق کو متنازع ظاہر کرنے کی کوشش کی، حالانکہ اس پر کوئی ابہام نہیں۔ 1948 میں خاران، لسبیلہ اور مکران نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔ یوں قلات جغرافیائی طور پر تنہا ہو گیا۔ پھر 27 مارچ 1948 کو خان قلات میر احمد یار خان نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے جسے گورنر جنرل محمد علی جناح نے قبول کیا۔ یہ وہی قانونی طریقہ تھا جس کے تحت بھارت یا پاکستان میں دیگر ریاستیں شامل ہوئیں۔ لہٰذا اسے غیر قانونی یا جبری قرار دینا تاریخ سے کھلواڑ ہے۔ عبدالصمد یعقوب نے دو تاریخی شخصیات کو ایسے پیش کیا جیسے وہ صرف سیاسی اختلاف رکھنے والے رہنما تھے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شہزادہ عبدالکریم خان آف قلات کے بھائی تھے۔ انہوں نے افغانستان جا کر مسلح بغاوت کی کوشش کی لیکن عوامی حمایت نہ ملی۔ یہ بغاوت چند چھاپہ مار کارروائیوں سے آگے نہ بڑھ سکی اور وہ گرفتار ہو گئے۔ نو روز خان نے ون یونٹ سکیم کے خلاف انہوں نے ہتھیار اٹھائے۔ بعد ازاں انہوں نے سرنڈر کیا لیکن وعدہ خلافی کے تنازع نے ان کے واقعے کو ایک المیہ بنا دیا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ریاست کے خلاف ہتھیار بند تھے، محض پُرامن سیاسی کارکن نہیں۔ یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ عبدالصمد یعقوب ایک سیاسی پس منظر رکھنے والے شخص ہیں۔ ان کی گفتگو غیر جانبدارانہ نہیں بلکہ سیاسی اور جزوی ہے۔ انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی کی دہشت گردانہ کارروائیوں، شہریوں کے قتل اور بھارتی پشت پناہی کا ذکر گول کر کے انہیں ایک عوامی مزاحمت بنا کر پیش کیا۔ اسی طرح انہوں نے تاریخی بغاوتوں کو سیاسی اختلاف بنا کر دکھایا۔ یہ وہی طریقہ ہے جو بھارتی میڈیا استعمال کرتا ہے تاکہ پاکستان کے اندرونی معاملات کو ایک مصنوعی تحریک آزادی کے طور پر پیش کرے۔ بلوچستان کے عوام کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ پسماندگی، روزگار کی کمی، تعلیم و صحت کی سہولتوں کا فقدان تو ہے لیکن ان جائز مسائل کو دہشت گردی کا جواز بنانا سراسر زیادتی ہے۔ بلوچ عوام کو ترقی، سرمایہ کاری اور سیاسی نمائندگی چاہیے، نہ کہ بھارتی پراکسی نیٹ ورک کا ایندھن بننا۔ ریاست قلات کا پاکستان سے الحاق ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ عبدالکریم اور نوروز خان دونوں مسلح بغاوت کے رہنما تھے، محض مظلوم رہنما نہیں۔ بھارت کا بلوچستان کارڈ اجیت دوول کی پالیسی سے لے کر کل بھوشن یادیو کے کیس تک ایک کھلی حقیقت ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے BLA کو دہشت گرد قرار دے کر یہ واضح کر دیا کہ یہ کسی سیاسی تنظیم کا نہیں بلکہ ایک دہشت گرد گروہ کا معاملہ ہے۔ بلوچستان پاکستان کا ہی حصہ ہے اور رہے گا۔ اس خطے کے عوام کے ساتھ کسی بھی زیادتی یا محرومی کو دور کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے لیکن دہشت گرد ان مسائل کے پیچھے چھپ نہیں سکتے۔ عبدالصمد یعقوب جیسے لوگ جب بھارتی پراپیگنڈا پلیٹ فارمز پر جا کر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں تو وہ نہ صرف بلوچ عوام کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے موقف کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ایک مضبوط اور تاریخی طور پر درست بیانیہ دنیا کے سامنے رکھا جائے۔ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، اور بلوچ عوام کو ترقی و امن کا حق ہے، نہ کہ دشمن طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال بننے کا اور اس سلسلے میں کسی کو کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما عبد الصمد یعقوب کا خطرناک پراپیگنڈا
03:51 PM, 19 Aug, 2025