پاکستان کی خارجہ پارلیسی اور عالمی سطح پر پذیرائی کی وجوہات

09:14 AM, 19 Aug, 2025

پاکستان مشرق اور مغرب میں چودھویں کے چاند کی طرف چمک رہا ہے۔ شاید میری عمر کے نوجوان یہ پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہوں گے مشرق وسطیٰ، ایشیا، یورپ، امریکہ و آسٹریلیا میں پاکستان کی کامیابیاں زیر بحث ہیں۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک تو پاکستان نے حال ہی میں بھارت کو جو زبردست قسم کی شکست دی ہے دوسری پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی ہے۔ اس کا کریڈٹ ریاست کے سربراہ ہونے کے ناتے گو کہ وزیراعظم شہباز شریف کو جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی محنت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جنگ کے دوران ان دونوں شخصیات نے بھرپور ذمہ داری اور ایک اسلامی ایٹمی قوت کے اصل نمائندہ ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد ہی چین کے ساتھ سعودی عرب کے بعد سب سے قریب ترین تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ چین پاکستان کے لیے بہت اہم اور قریبی دوست ہے جو ہر معاملے میں پاکستان کا پارٹنر ہے۔ پاکستان کی چین سے قربت کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک پاکستان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کر تے تھے لیکن 10 مئی کی جنگ نے یہ نقشہ مکمل تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ امریکہ جیسا طاقتور ملک بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ پاکستان کی چین سے قربت کی وجہ سے چار ممالک امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا کا خفیہ پاکستان کے خلاف بلاک بنا ہوا تھا۔ ان چاروں ممالک نے پاکستان میں براہ راست کبھی کوئی سرمایہ کاری نہیں کی تھی اور نہ ہی پاکستان کو دفاعی اور معاشی لحاظ سے مضبوط دیکھنا چاہتے تھے لیکن پاک بھارت جنگ کے بعد امریکہ نے اچانک ایک بڑا فیصلہ کیا بھارت کو خاموشی سے سائیڈ لائن کر دیا اور پاکستان کیساتھ فرنٹ لائن کے تعلقات قائم کر لیے۔ جس کے بعد متعدد مرتبہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کی برملا تعریفیں کیں اور بار بار اپنے کئی خطاب اور انٹرویوز میں پاک بھارت جنگ رکوانے کا بھی کریڈٹ لیا۔ جس کو پاکستان نے کھلے دل سے تسلیم کیا لیکن اس بات کی بھارت کو سب سے زیادہ چڑ تھی کیونکہ بھارت میں اپوزیشن جماعتیں اور حکومت مخالف سوچ رکھنے والے لوگوں نے اس پر مودی حکومت کا مذاق اڑایا۔ مودی حکومت نے پاک بھارت جنگ بندی کرانے میں امریکہ کے کردار سے صاف انکار کیا۔ جس کا ٹرمپ سمیت پوری امریکی انتظامیہ کو شدید غصہ تھا۔ پوری دنیا کا میڈیا جنگ کے دوران بتاتا رہا کہ امریکی صدر اور امریکی نائب صدر جنگ کے دوران مسلسل پاکستان اور بھارت کی انتظامیہ سے رابطے میں رہے لیکن مودی حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ناگوار گزری جس کی وجہ سے بھارت پر انہوں نے ٹیرف کی تیز دھار تلوار چلا دی اور ساتھ ہی پاکستان پر جو 29 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا اس میں بھی 10 فیصد کمی کر دی اور پاکستان کے ساتھ تیل کی نئی ڈیل بھی کر لی۔ قوی امکان ہے آنے والے دنوں میں امریکہ پاکستان کے ساتھ مزید شعبوں میں ڈیل کریگا۔ جاپان نے بھی 20 سال بعد پاکستان کے وزیراعظم کو سرکاری دورے کی دعوت جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جاپان کے سرکاری دورے پر پہنچ چکی ہیں۔ پاکستان عالمی منظر نامے پر ابھر کر سامنے آیا۔ امریکہ اور برطانیہ کا میڈیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے متعلق مثبت آرٹیکل شائع کر رہا ہے۔ جنرل عاصم منیر کی سوچ ان کے کردار اور ان کی صلاحیتوں پر امریکی اور برطانوی اخبارات تفصیل سے رپورٹس لکھ رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھارت کے خلاف جرأت اور بہادری سے جنگ لڑی ہے اس میں اب کسی کو کوئی شک اور شبہ نہیں ہے۔ ان کے بروقت اور درست فیصلوں کی وجہ سے پاکستان نے یہ جنگ جیتی ہے۔ ان کی پاکستان کے لیے سوچ مثبت ہے وہ پاکستان کو آگے بڑھتا ہوا اور ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے خلاف دو سال سے مہم چل رہی ہے اس مہم چلانے والوں کا مقصد یہی ہے کہ کسی طریقے سے ان کا ذہن تبدیل کیا جائے اور ان کی سوچ اپنے جیسی سوچ کی جائے لیکن سپہ سالار کا پاکستان اور پاکستان مخالف قوتوں کے متعلق موقف بڑا واضح ہے جو بھی پاکستان کے خلاف سازش کرے گا انتشار پھیلائے گا اس کو کسی قسم کی کوئی معافی نہیں ملے گی۔ ہاں البتہ آپ سیاسی لوگوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہیں تو بہت اچھی بات ہے اگر آپ ریاست مخالف سرگرمیاں جاری رکھیں گے تو آپ کی واپسی ناممکن ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی مشترکہ کاوشوں کی بدولت پاکستان دیوالیہ ہونے سے بھی بچا اور آج عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معیشت سے متعلق اچھی پیشگوئیاں کر رہے ہیں۔ یہ ان دونوں شخصیات کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کی موجودہ پالیسیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ہم نے اپنے ماضی سے سیکھ لیا ہے اور ترقی کے مواقع ماضی میں جو ہم ضائع کر چکے ہیں اب ہم مزید باقی دنیا سے پیچھے نہیں رہ سکتے۔ اس کے لیے ہمیں مشکل فیصلے بھی کرنا پڑ رہے ہیں اور پہلے سے زیادہ محنت بھی کرنا ہو گی۔ اگر پاکستان مسلسل 10 سال اسی ٹریک پر چلتا رہا تو پاکستان دنیا کی 10 بڑی معیشتوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پلان ہے۔

مزیدخبریں