میرا برانڈ پاکستان

09:14 AM, 19 Aug, 2025

پاکستانی مصنوعات خریدنے کا شوق اور جذبہ دیدنی تھا۔بڑی تعداد میں حضرات ،خواتین، بچے،نوجوان اور بزرگ وسیع ہال میں داخل ہو رہے تھے ۔جہاں پاکستان میں تیار ہونے والی روز مرہ ضروریات کی لا تعداد اشیاء موجود تھیں۔ استقبالیہ پر ایک جانب خواتین اور دوسری جانب حضرات نمائش میں آنے والے لوگوں کی رہنمائی کر رہے تھے۔انعامات کی قرعہ اندازی کے لیے کوپن بھی بھروائے جا رہے تھے۔ وسیع و عریض نمائش ہال میں لگے ہوئے پاکستانی مصنوعات کے اسٹالوں پر خریداروں کا رش تھا۔کئی اسٹال قومی پرچم کے ہم رنگ سبز اور سفید غباروں سے سجے ہوئے تھے۔غزہ کے فلسطینی مسلمانوں پر خوفناک دہشت گردی کر کے ان کی نسل کشی کرنے والے اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکہ،برطانیہ اور یورپی ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا شعور بیدار کرنے،پاکستانی مصنوعات کو متعارف کرانے ، خریدنے کا شوق بیدار کرنے، معیشت کوفروغ دینے اور نمائش سے ہونے والی آمدنی غزہ کے مسلمانوں کو بھیجنے کے عظیم مقصد کے تحت پاکستان بزنس فورم لاہور کے تحت پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر دو روزہ با مقصد،شاندار اور خوبصورت نمائش’’ میرا برانڈ پاکستان ایکسپو 2025ئ‘‘ کا انعقاد کیا گیا جویوم آزادی کی تقریبات میں نہایت خوبصورت اضافہ تھا۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے27اپریل 1948ء کوچیمبر آف کامرس کراچی سے خطاب کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ’’میری دلی تمنا ہے کہ پاکستانی اشیاء معیار کے اعتبار سے دنیا کی تمام منڈیوں میں ایک علامت،ایک نمونہ اور ایک مثال کی حیثیت سے جانی پہچانی جائیں۔خدا کرے کہ لفظ پاکستان مال کی عمدگی اور معیار کی علامت بن جائے‘‘۔ 
نمائش میں80پاکستانی کمپنیوں کے دو سوسے زائد برانڈز کے 175سٹال لگائے گئے ۔ علاوہ ازیںگھریلو اور چھوٹی صنعتوں کی نمائش بھی کی گئی۔جن میں خواتین کی تیار کردہ گھریلو دستکاری کی خوبصورت اشیاء بھی شامل تھیں۔ہال میں ایک وسیع جگہ پر بہت رش نظر آیا۔ یہاںخواتین کے لیے خصوصی طور پر کوکنگ،بیکنگ اور آرٹ کے مقابلے ہو رہے تھے جن میں انعامات بھی دیئے گئے۔اس موقع پر منتظمین کی جانب سے چھوٹے پیمانے پر گھریلو صنعتوں کے فروغ اور انہیں مارکیٹ میں متعارف کرانے کے مقصد کے تحت خواتین اور نوجوانوں کے لیے ابتدائی طور پر دس لاکھ روپے کی رقم سے قرضے دینے کا آغاز بھی کیا گیا۔تجربہ کار تاجراُن نوجوانوں کی رہنمائی کر رہے تھے جوتعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ تجارت بھی کرنا چاہتے ہیں ۔
’’میرا برانڈ پاکستان ایکسپو‘‘ میں ہر سٹال پر خریداروں کا رش دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی بد ترین دہشت گردی کے باعث اسرائیل اور اس کے حواری امریکہ،برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہر شخص صرف پاکستان میں تیار کردہ چیزیں خریدنا چاہتا ہے۔ سٹال لگانے والی ہر کمپنی نے بیس تا تیس فیصد رعایت دی۔دو اشیا کی خریداری پر ایک مفت کی پیش کش بھی تھی۔مختلف کمپنیوں کے کاسمیٹکس کے سٹالوں پر بھی خواتین کا رش نظر آیا۔جن میں میک اپ کا سامان‘شیمپو‘تیل‘ پرفیومز اور اسی طرح کی دوسری ضروری اشیا رکھی ہوئی تھیں۔پاکستان کے تیار کردہ پیمپرز کے سٹال والوں کا کہناتھا کہ ہماری مصنوعات غیر ملکی مصنوعات سے کسی طرح کم نہیںان کے دام بھی مناسب ہیں۔کھانے پینے کے سٹالوں پر بھی لوگ بہت ذوق و شوق سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کر ان سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔Ginger Lilliesاور  Anthurium  سمیت خوبصورت رنگا رنگ تازہ پھولوں والے سٹال نے خوشبو بکھیری ہوئی تھی۔ لوگ اپنے من پسند پھولوں کی خریداری کرتے نظر آئے۔ان پھولوں کی قیمت کم اور پیکنگ بہت خوبصورت تھی۔معروف اشاعتی اداروں کے سٹالوںسے بچے اور بڑے اپنی پسند کی کتابیں خرید رہے تھے کہ لوگوں میںکتب بینی کا شوق برقرار ہے۔ نمائش ہال کی بالائی منزل پر وسیع احاطے میں ینگ مسلم کڈز زون میں بچوں کے لیے مختلف سرگرمیاں اور مقابلے ہوئے۔جن میں بچوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ایک خاتون پروگرام کی انچارج سے کہہ رہی تھیں کہ آپ ان بچوں سے تلاوت، نعت،قرآن کوئز اور کوئی لطیفہ سن کر میری طرف سے ایک ایک سو روپے انعام دیں۔خاتون کا یہ اقدام قابل تقلید ہے۔ ایسی حوصلہ افزائی بچوں میں اعتماد پیدا کرنے اور آگے بڑھنے کی ہمت بڑھاتی ہے۔خواتین کے مختلف سٹال بھی خواتین کی خصوصی توجہ کا مرکز نظر آئے۔ ان کے تعارفی لٹریچر کے علاوہ ان کی بنائی ہوئی گھریلو دستکاری کی خوبصورت اشیا ء اور لباس رکھے ہوئے تھے۔عبائے کے سٹال سے خواتین اپنے من پسند عبائے خرید کر رہی تھیں کہ پردہ مسلمان عورت کی پہچان ہے۔کروشیا کی بنی ہوئی خوبصورت گھریلو آرائش اور استعمال کی اشیاء کے سٹال پر خواتین ہی میزبان تھیں۔ہال میں کسی سٹال پر کوئی میوزک نہیں بجایا گیا۔ایک جانب سے ڈیڑھ سالہ بچی کی گمشدگی کا اعلان ہوا۔منتظمین نے سب سے پہلے بچی کی والدہ کو تسلی دی ۔وہاں موجود دو خواتین نے سورۃ الضحیٰ کی تلاوت شروع کر دی جس سے بچی فوراً مل گئی۔نمائش کے خارجی گیٹ پر کھڑے ہوئے نوجوان بچوں کوپاکستانی پرچم کا تحفہ دے رہے تھے۔نمائش ہال میں صفائی برقرار رکھنے کے لیے جگہ جگہ کوڑے دان رکھے ہوئے تھے ۔کسی عوامی جگہ یا نمائشوں میں صفائی کا خیال رکھنا عوام کی ذمہ دار ی ہے۔
’’میرا برانڈ پاکستان ایکسپو2025ئ‘‘  میں لگائے گئے تمام سٹالوں اور سرگرمیوںکا احاطہ کرنا ایک کالم میں ممکن نہیں۔یہاں سٹال لگانے والے اور خریدار حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے۔پاکستانی مصنوعات فروخت اور خرید کر وہ ان جذبات کا اظہار کر رہے تھے کہ ہم غزہ پر ظلم کی انتہا کرنے والے اسرائیل اور اس کے حواریوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے اپنے ملک کی معیشت کو فروغ دیں گے۔ پاکستان اور یہاں کی ہر چیز ہماری پہچان ہے ۔دوروزہ اس نمائش میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کر کے اپنی گھریلو ضرورت کی ہر چیز خریدی۔ شرکاء کو لاکھوں کے انعامات،رعایتی خریداری اور تحائف دیئے گئے۔ ’’میرا برانڈ پاکستان‘‘ کوخود انحصاری کے حصول کی ایک کامیاب کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔یوم آزادی کے موقع پر اہل لاہور نے اس نمائش سے پاکستانی اشیا ء خرید کر ثابت کر دیا کہ وہ ایک آزاد قوم ہیں اور اسرائیلی ،امریکی ،برطانوی اور دیگر یورپی ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے ان کی معیشت کو مضبوط نہیں کریں گے اور پاکستان کی مصنوعات پر اپنے اعتماد میں اضافہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بین الاقوامی مارکیٹ میںاپنی مصنوعات بھیجنے کے قابل ہو سکیں گے۔میرا برانڈ پاکستان جیسی نمائش پاکستانی اشیا ء کو عوام میں متعارف کروانے اور مقبول بنانے کے لئے بہت مفید ہے۔پاکستان کے عوام کئی دہائیوں سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کے معیار کو بہتر سمجھتے ہوئے ان کا استعمال کرنے کے عادی ہیں ۔اس نمائش سے لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کی متبادل معیاری پاکستانی مصنوعات بھی موجود ہیںجنہیں عوام میں مقبول بنایا جا سکتا ہے۔پاکستان کے عوام کا پیسہ مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے ممالک کی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیئے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ایسی نمائشوں کے انعقاد سے نہ صرف پاکستانی مصنوعات تیار کرنے والی مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا بلکہ ملکی معیشت بھی مضبوط ہو گی  ۔  

مزیدخبریں