پاکستان پر غیر جمہوری سائے ذمہ دار کون؟

09:14 AM, 19 Aug, 2025

گپ شپ کے دوران سکینہ سومرو سے کہا تمہاری محبوب لیڈر جب لندن میں تھی لاہورپریس کلب میں ٹیلی فونک پریس کانفرنس کی میںنے سوال کیا اس ملک پر نصف مدت فوجی جرنیلوں نے حکمرانی کی ذمہ دارکون ہے فوج یا سیاستدان؟یہ واحد سوال تھا جس کا جواب بینظیر بھٹو نے چند سیکنڈ سوچ کریہ دیا ’’ آپ دانشور پھر آپ خود یہ فیصلہ کرو میں سیاستدان ہوں میں تو سیاستدانوں کو ذمہ دار قرار نہیں دوں گی۔ ’’اس کا مطلب ہے بی بی نے واضح جواب نہیں دیا ‘‘دیکھو، تم  پولیٹیکل سائنس میں ماسڑ کررہی ہو۔ بین السطور مفاہیم سمجھنے کی کوشش بھی کیا کرو، آپ کی بی بی کے جواب کا یہ ٹکڑا۔ ’’میں سیاستدانوں کو ذمہ دار قرار نہیں دوں گی ‘‘ واضح جواب ہے۔ یعنی ذمہ دار دوسرا فریق ہے۔ ہوں یعنی بی بی نے بہت ذہانت سے جواب دیا مگر انکل ، آپ کی ذاتی رائے کیا ہیِ‘‘ دیکھو ذاتی رائے کی بجائے میں کچھ تاریخی حقائق بیان کرتا ہوں ان کی روشنی میں رائے تم خود قائم کرنا، اس نے پرجوش انداز میں کہا ’’ویری گڈ، یہ میرے تھیسس کے کام آئیں گے ‘‘ ارے، ہربات تھیسس کیلئے نہیں ہوتی، لکھنے سے پہلے مجھے ضرور بتانا ، جی، ٹھیک ہے تاریخ کا سچ یہ ہے کہ بانی پاکستان کی سربراہی میں پاکستان کی جو پہلی کابینہ تشکیل دی گئی اس میں ایک بھی منتخب عوامی نمائندہ شامل نہیں تھا سوائے ایک لیاقت علی خان کے جو 1946ء کے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے حالانکہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان میں ان کی طرح منتخب اور سیاسی پس منظر رکھنے والے مسلم لیگی رہنما موجود تھے۔ اہم وزارت اور وزیر یہ تھے۔ وزیر خارجہ سرظفر اللہ خان، وزیر خزانہ ملک غلام محمد (جو سازش کرکے گورنر جنرل بن گیا) وزیرقانون وپارلیمانی امور جو گندرناتھ منڈل بھارت سے لاکھوں مہاجرین کی آمد نوزائیدہ مملکت کیلئے بڑا چیلنج بن گئی جن کی آبادکاری وبحالی میں مسلم لیگ کے لیڈروں اور کارکنوں کا بہت کم کردار نظرآتا ہے اگر ان پر مکمل انحصار کیا جاتا تو اس کے نتیجے میں مسلم لیگ غیر منقسم ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی اول روز سے مسلم لیگ کی جڑیں گہری ہوکر سیاسی استحکام کی مضبوط بنیاد فراہم ہوسکتی تھی۔ گورنر جنرل کا عہدہ آئینی عہدہ تھا۔ 1935کے ایکٹ آف انڈیا میں ترمیم کرکے وزیراعظم کے انتظامی اختیارات گورنر جنرل کو دے دیئے گئے۔ وزیراعظم کی بجائے کابینہ کی صدارت گورنر جنرل کرتے بعض اوقات وزیراعظم کی عدم موجودگی میں  بھی شیربنگال کہلوانے والے مولوی اے کے فضل حق جنہوں نے 1940ء کی قرار داد پاکستان پیش کی تھی بعض اختلافات کے باعث مشرقی پاکستان میں ان کی حکومت توڑ دی گئی جس پر انہوں نے قائداعظم کی مسلم لیگ کے مقابلے میں مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر مشتمل جگتوفرنٹ، بنالیا اس حوالے سے یہ رائے بھی موجود ہے کہ قائداعظم اگر مولوی اے کے فضل حق کو کراچی طلب کرکے یا خود ڈھاکہ جاکران کے تحفظات دور کردیتے تو مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے مابین ذہنی فاصلوں کی شروعات نہ ہوتی اسی طرح جب وزیراعلیٰ سندھ ایوب کھوڑونے مرکزی حکومت کے منصوبے کے خلاف سندھ اسمبلی کی منظور کردہ قرار داد کی حمایت پر اصرار کیا تو ان کی حکومت اور سندھ اسمبلی تحلیل کردی۔ صوبہ سرحد (کے پی کے) میں اختلافی  امور کے سراٹھانے پر وزیراعلیٰ ڈاکٹر خان کی حکومت توڑ دی گئی۔ تب بعض حلقوں کی جانب سے یہ تجسس آمیز سوال اٹھایا گیا تھا کہ قائداعظم نے تینوں وزیراعلیٰ کو طلب کرکے معاملات درست کرنا کیوں ضروری نہیں سمجھا جس کے نتیجے میں تینوں صوبوں  میں سیاسی کشیدگی کے سائے پھیل گئے۔ 
وزیرخزانہ ملک غلام محمد نے سیکرٹری دفاع میجر جنرل سکندر مرزااور آرمی چیف جنرل ایوب خان کی ملی بھگت سے خواجہ ناظم الدین کو وزیراعظم بناکر خود گورنر جنرل کے عہدہ پر قبضہ کرلیا تو اس سازشی اقدام کے خلاف مزاحمت کی بجائے خواجہ ناظم الدین نے یہ صورت کیوں قبول کرلی ان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ کیوں خاموش رہی۔ 1953ء میں مرکزی اسمبلی نے منتخب سویلین وزیراعظم کے حق میں کثرت رائے سے اعتماد کی قرار داد منظور کی ایک ہفتہ کے دوران گورنر جنرل نے وزیراعظم کو برطرف کردیا۔ اگلے ہی روز اسی اسمبلی میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قراردادکثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔ جنرل ایوب خان سے مل کر وزیردفاع میجر جنرل سکندر مرزا نے گورنر جنرل کے عہدہ پر قبضہ کرلیا اور وزیراعظم ملک فیروز خان نون کو برطرف کردیا۔ 1957ء میں جنرل ایوب خان کی خواہش پر ملک کے جاگیردار راتوں رات مسلم لیگ چھوڑ کر ری پبلکن پارٹی میں شامل ہوگئے۔ 1958ء میں مارشل لا کے بعد جنرل ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کا حصہ بنے۔ وزیرخارجہ ذوالفقارعلی بھٹونے تاشقند معاہدے کی شق مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے کی مہم کی بجائے اس معاہدہ کے خلاف مہم چلاکر سیاسی مفاد حاصل کرلیا اور بعدازاں شملہ معاہدہ میں مسئلہ کشمیر دوطرفہ مذاکرات سے حل کیا جائے گا اندراگاندھی کی یہ شرط مان کر اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل سے آزاد کردیا۔ 1970ء کے الیکشن میں جنرل یحییٰ خان اورذوالفقار علی بھٹو نے عوامی لیگ کا مینڈیٹ تسلیم نہ کرکے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی راہ ہموار کردی۔ 1977ء کے الیکشن میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور چاروں صوبوں میں پیپلزپارٹی کے وزراء اعلیٰ نے مخالف امیدواروں کو گرفتار کرکے خود کر بلامقابلہ منتخب قرار دلواکر اپوزیشن کو متحدہونے کی راہ دکھا دی۔ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک کے بعد پی این اے اور حکومت کے مابین مذاکرات میں سیاسی سمجھوتے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے رویہ نے مشکل کھڑی کی اس دوران بھٹو نے فوجی طاقت کو اپنی سیاسی طاقت ظاہرکرنے کیلئے آرمی چیف اور دیگر جرنیلوں کو مذاکرات میں شامل کرکے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ حیدرآباد ٹربیونل توڑنے اور بلوچستان سے فوج بلانے کے حوالے سے ایئرمارشل اصغرخان، شیربازمزاری اور بیگم نسیم ولی خان نے بالواسطہ طورپر فوجی جرنیلوں کے مؤقف کے ہم کردار ہوکر مارشل لا کی راہ ہموار کردی۔ سول حکومت کے خاتمہ پر پی این اے میں شامل سیاستدانوں نے خوشیاں مناکر مارشل لا کو جواز فراہم کردیا۔ بینظیر بھٹو کی حکومت ختم ہونے پر نوازشریف کے حامیوں نے نوازشریف حکومت ختم ہونے پربینظیر بھٹو کے حامیوں نے جشن منائے۔ تیسری مرتبہ نوازشریف سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے کچھ فوجی منصوبہ ساز عمران خان کو لائے۔ جس نے ملک کا تو جو بھٹہ بٹھایا سو بٹھایا خود اپنا خانہ خراب کیا پہلے جنرل فیض حمید کوتاحیات آرمی چیف بناکر خود کو سیاہ وسفید کا مالک تاحیات صدر بننے کے لالچ میں جنرل قمر جاوید باجوہ سے بے وفائی کی۔ اس کوشش میں ناکامی کے بعد جنرل عاصم منیر کے خلاف بغاوت آمیز کوشش کی۔ جس کا نتیجہ وہ خود اور جنرل فیض حمید بھگت رہے ہیں۔ میاں نوازشریف دل سے سول بالادستی چاہتے ہیں مگر اس کیلئے زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کاموں کو حکمت عملی سمجھتے ہیں جس سے یہ مقصد قیامت تک حاصل نہیں ہوگا سول بالادستی تب قائم ہوگی جب سول انتظامیہ پر شب خون مارنے والوں کو کراچی سے پشاور تک اور گوادر سے تفتان تک عوامی سطح پر شدید مزاحمت کا سامنا ہوگا یہ تب ممکن ہے جب (ن) لیگ سمیت کوئی بھی سیاسی جماعت یونین کونسل سے قومی سطح تک حقیقی معنوںمیں منظم وفعال ہو، تاہم مجھ کو دچشم کو دورتک ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

مزیدخبریں