افغان طالبان کی ’جرائم دوست‘ پالیسی: وسطی ایشیا کی سلامتی داؤ پر، تاجک فورسز کی کارروائی میں 2 افغان ہلاک

03:10 PM, 19 Apr, 2026

کابل : عالمی جریدے ’’دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا‘‘ نے اپنی حالیہ اشاعت میں افغانستان کی موجودہ حکومت پر جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرزِ عمل سے پورے خطے کا امن و استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے۔
    جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی: رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے جرائم پیشہ گروہوں کی مبینہ پشت پناہی نے پڑوسی ممالک کے لیے سماجی اور معاشی خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ تاجکستان کی سکیورٹی فورسز نے سرحد پار کرنے کی کوشش کرنے والے دو افغان منشیات سمگلروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ یہ واقعہ افغانستان سے ہونے والی غیر قانونی نقل و حرکت اور سمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
 جریدے کا کہنا ہے کہ طالبان کی ان پالیسیوں کی وجہ سے وسطی ایشیائی ریاستوں کی سرحدیں غیر محفوظ ہو رہی ہیں، جس کا براہِ راست اثر ان ممالک کی معیشت اور عوامی تحفظ پر پڑ رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ تاجک سرحد پر ہونے والا حالیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پڑوسی ممالک اب افغان سرزمین سے ہونے والے جرائم کے خلاف سخت فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ عالمی جریدے کی یہ رپورٹ طالبان حکومت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔

مزیدخبریں