معاشرے کی سب سے حساس اور باوقار اکائی یعنی عورت جب تحفظ کے دائرے سے نکال کر سازشوں کے بھنور میں دھکیل دی جائے تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے سماج کا المیہ بن جاتا ہے۔ حالیہ واقعات اور بیانات خصوصاً رحیمہ بی بی کے انکشافات نے ایک خوفناک حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کس طرح اپنے مذموم مقاصد کے لیے خواتین اور نوجوانوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ یہ محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی بحران ہے۔
سب سے پہلے اس پہلو کو سمجھنا ضروری ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں خواتین کو کیوں نشانہ بناتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عورت کو معاشرے میں ہمدردی، کمزوری اور غیر مشکوک حیثیت کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ اسی تاثر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد گروہ خواتین کو ذہنی طور پر توڑتے ہیں، انہیں نظریاتی طور پر تیار کرتے ہیں اور پھر عملی کارروائیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ عمل صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی استحصال کی بدترین شکل ہے جس میں عورت کی شناخت، عزت اور آزادی سب کچھ داﺅ پر لگا دیا جاتا ہے۔رحیمہ بی بی کے بیان میں جو سب سے لرزہ خیز پہلو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کے اپنے شوہر نے ان کی شناخت اور موبائل نمبر کو دہشت گردی کے رابطوں کے لیے استعمال کیا۔ یہ عمل نہ صرف ازدواجی رشتے کی پامالی ہے بلکہ انسانی اقدار کی بھی سنگین توہین ہے۔ ایک عورت جو اپنے شوہر پر اعتماد کرتی ہے، اسی اعتماد کو ہتھیار بنا کر اسے ایک خطرناک نیٹ ورک کا حصہ بنا دینا دراصل اس پورے نظام کی بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور تشویشناک کڑی زرینہ رفیق کا واقعہ ہے جو ایک خودکش بمبار کے طور پر سامنے آئی۔ اس کا کسی عام گھر میں قیام اور پھر افغانستان کے تربیتی کیمپوں تک رسائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک نہایت منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورک نہ صرف سرحد پار روابط رکھتے ہیں بلکہ مقامی سطح پر بھی ایسے سہولت کار موجود ہیں جو ان کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہونا ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔دہشت گرد تنظیموں کی حکمت عملی انتہائی پیچیدہ اور منظم ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ذہنی تخریب اور نظریاتی تربیت کا عمل شروع کیا جاتا ہے جس میں نوجوانوں اور خواتین کو جذباتی نعروں، مظلومیت کے بیانیے اور جھوٹی کہانیوں کے ذریعے متاثر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بھرتی اور تربیت کا مرحلہ آتا ہے، جس میں انہیں عملی کارروائیوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ جب کوئی کارروائی کامیاب ہو جائے تو اسی خاتون کو “مزاحمت کی علامت” بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تاکہ مزید لوگوں کو اس راستے پر لایا جا سکے۔ لیکن اگر یہی کارروائی ناکام ہو جائے یا خاتون گرفتار ہو جائے تو وہی تنظیمیں فوراً لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں اور ذمہ داری کسی اور پر ڈال دیتی ہیں۔ یہ دوغلا پن ان گروہوں کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
خصوصی طور پر بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) جیسے گروہوں کا کردار اس حوالے سے شدید تنقید کا مستحق ہے۔ یہ تنظیمیں ایک طرف بلوچ حقوق کے نام پر بیانیہ بناتی ہیں جبکہ دوسری طرف معصوم شہریوں، خواتین اور نوجوانوں کو اپنی دہشت گرد کارروائیوں میں جھونک دیتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بلوچ ثقافت اور روایات کے بھی سراسر خلاف ہے جہاں عورت کو عزت اور احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔مزید برآں یہ طرزِ عمل مذہبی تعلیمات سے بھی مکمل طور پر متصادم ہے۔ اسلام میں عورت کو عزت، تحفظ اور وقار دیا گیا ہے۔ کسی بھی صورت میں اسے تشدد، جبر یا خودکش حملوں جیسے عمل میں استعمال کرنا نہ صرف حرام ہے بلکہ ایک سنگین گناہ بھی ہے۔ اس کے باوجود دہشت گرد عناصر مذہب کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور اپنی کارروائیوں کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے اور وہ ہے “گمشدہ افراد” کا بیانیہ کیونکہ بعض عناصر اس بیانیے کو استعمال کر کے ریاست کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیںجبکہ حقیقت میں انہی نیٹ ورکس کے ذریعے نوجوانوں اور خواتین کو اغوا کر کے دہشت گردی کی راہ پر ڈالا جاتا ہے۔ اس تضاد کو سمجھنا اور بے نقاب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس ساری صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عام لوگ خصوصاً خواتین اور نوجوان، ان سازشوں کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ جذباتی کمزوری، معاشی مسائل، تعلیمی کمی اور سماجی ناانصافی جیسے عوامل انہیں ایسے عناصر کے لیے نرم ہدف بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں سب سے پہلے ان طبقات کو نشانہ بناتی ہیں اور انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ سب سے پہلے ہمیں اجتماعی سطح پر اس بیانیے کو مسترد کرنا ہوگا جو دہشت گردی کو کسی بھی شکل میں جواز فراہم کرتا ہے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور مذہبی رہنماو¿ں کو مل کر ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں سچ اور جھوٹ میں فرق واضح ہو سکے۔ خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں تعلیم اور شعور دینا اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا بھی اس سلسلے میں انتہائی ضروری ہے۔ریاستی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ نہ صرف ایسے نیٹ ورکس کا قلع قمع کریں بلکہ ان کے پیچھے موجود سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کو بھی ختم کریں۔ سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا اور بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرنا بھی ناگزیر ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دہشت گردی کا یہ نیا چہرہجس میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہےانسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ رحیمہ بی بی جیسے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کس سمت جانا ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس خطرے کا ادراک نہ کیا تو یہ آگ نہ صرف چند علاقوں بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔یہی وقت ہے کہ ہم متحد ہو کر اس سوچ، اس بیانیے اور ان عناصر کے خلاف کھڑے ہوں جو انسانیت، ثقافت اور مذہب سب کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ کیونکہ خاموشی اس جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔
خواتین کا استحصال: دہشت گردی کا نیا ہتھیار
09:09 AM, 19 Apr, 2026