میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل

09:13 AM, 19 Apr, 2026

مئی 2025کے معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کے بعد گلوبل ساو¿تھ میں نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کی ہانکنے والے ہندوستان کے حوالے سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تاریخی الفاظ کہے تھے کہ ہم وہ نہیں جو اس خطے میں نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر کے دعوے کرتے ہیں بلکہ ہم ”نیٹ سٹیبلائزر“ ہیں ۔ہمارا کردار اس خطے اور دنیا میں قیام امن کے طورپریاد رکھا جائے گا ۔اس کے بعد پاکستان کی قیادت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہبازشریف نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ ہندوستان جو ہمہ وقت پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کے لیے نہ صرف کوششوں میں مصروف رہتا تھا بلکہ اس کے لیے میڈیا سمیت ہر جھوٹ استعمال کرتا تھا تاکہ پاکستان کو دنیا ایک دہشتگرد ریاست کے طورپر ہی دیکھے ،پاکستان نے اس ہندوستان کو اتنا پیچھے چھوڑ دیا کہ آج افریقہ کے غریب ترین ممالک بھی دنیا میں اثرورسوخ میں اس سے آگے دکھائی دیتے ہیں ۔نہ دنیا کو آج مودی کی چھپن انچ کی چھاتی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی جے شنکر کی لیزرآئی ڈپلومیسی کسی شمار میں ہے۔ایران امریکا جنگ میں ہندوستان نے اسرائیل کے ساتھ اس جنگ میں ایران کے خلاف ایک فریق بننا پسند کیا تو پاکستا ن غیر جانبدار رہ کر دنیا سے کیے گئے ”نیٹ سٹیبلائزر“ کے وعدے کو لے کر آگے بڑھتا رہا اور آج اس مقام پر ہے کہ امریکا جیسی سپر پاور جودنیا کے فیصلے کرواتی ہے آج اپنے فیصلے کے لیے پاکستان کی تعریفوں میں رطب اللسان ہے۔اسلام آباد کی سفارتی طاقت آج واشنگٹن سے زیادہ ہے۔
ایسے موقع پر جب وزیراعظم شہبازشریف سعودی عرب قطر اور ترکیہ کے طوفانی دوروں پر تھے تو پاکستان کاسپوت ،بہادر سولجر حافظ سید عاصم منیر کسی بھی خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جنگ لڑتے ایران کی سرزمین پر لینڈ کرگیا۔جب سے ایران اسرائیل امریکا جنگ شروع ہوئی ہے دنیا کے عالمی رہنما و¿ں نے بین الاقوامی فضائی سفر انتہائی کم کردیا تھا لیکن پاکستانی قیادت کے بین الاقوامی فضائی سفرمیں اتنا ہی اضافہ ہوگیا ہے۔پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خطرات کے باوجود دنیا کے امن اور پاکستان کی سربلندی کی خاطر فضائی سفر کررہے ہیں۔فیلڈ مارشل کا ایران کا دورہ اور وہاں طویل قیام گیم چینجر ثابت ہوا اور ایران نے جذبہ خیر سگالی کے لیے وسیع تر قیا م امن اور جامع معاہدے کے راستے میں رکاوٹیں دور کرنا شروع کردیں۔ جمعہ کی شام ایران نے اس وقت آبنائے ہُرمز کو کھولنے کا اعلان کردیا جب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران میں موجود تھے۔ فیلڈ مارشل نے وقفے وقفے سے ایران کی ہر طرح کی قیادت سے ملاقات کی ۔ انہوں نے یہا ں ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی اور صدر مسعودپزشکیان سے ملاقات کرکے ایران کی سیاسی سوچ والی قیادت سے معاملات طے کیے وہیں انہوں نے ملٹری لیڈر شپ اور آئی آرجی سی پاسدران انقلاب کی قیادت ،خاتم الانبیا کمان کے ذمہ داران سے بھی ملاقاتیں کیں ۔پاکستان نے ذمہ دارڈپلومیسی سے ایران اور امریکا کو ایک میز پربٹھایا اور اس دنیا کو جنگی اور معاشی تباہی سے بچایا۔فیلڈ مارشل نے ایران کو حقائق کی دنیا سے روشناس کروایا تو شہبازشریف نے عرب و عجم کی اسلامی قیادت کو ایک پیج پر لاکھڑا کیا ۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے ہی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ ایران کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہُرمز کھولی اور ایٹمی ڈیل کے لیے مثبت اشارے دیے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک بار پھر شکریہ پاکستان۔ شکریہ شہبازشریف اور میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کا بیان آگیا۔جامع امن معاہدے کے لیے بہت ساکام مکمل ہوگیا ہے۔ ایران اور امریکا کو بھی پاکستان اس معاہدے کے لیے ایک پیج پر لانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ایران نے پاکستان کی کاوشوں سے دوہفتوں کی جنگ بندی کے دوران امن اور جنگ کے فرق کو واضح طورپر محسوس کیا ہے اور امریکا کو بھی اس جنگ سے نکلنے کا راستہ دکھائی دینے لگاہے ۔امن کا یہ وقفہ اتنا اہم اور سوچ بچار کے لیے تیربہدف ثابت ہوا ہے کہ دونوں میں سے کوئی بھی ملک دوبارہ آگ اور خون کی طرف لوٹنا نہیں چاہتا اس لیے پاکستان نے حل طلب نکات کا حل نکالنے کے لیے جارحانہ سفارتکاری کا فیصلہ کیا اور اللہ کریم نے پاکستان کی عزت اور لاج مسلسل رکھی ۔
یہاں ایک طرف سفارتی میدان میں پاکستان فتحیاب ہوا ہے تو دوسری طرف معاشی میدان سے بھی کچھ بہتر خبریں آئی ہیں ۔ مارچ کے مہینے میں ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر پاکستان آئیں تو اب معاشی ڈیتا بتارہا ہے کہ پاکستان نے مارچ کے مہینے میں ریکارڈ ایک ارب ڈالر کا کرنٹ اکاونٹ سرپلس کیا ہے۔اب تک کے مالی سال کے پہلے نوماہ کے دوران پاکستان کا مجموعی کرنٹ اکاو¿نٹ بھی سرپلس میں ہے جس سے پاکستان کو معاشی طورپر سانس لینے کا موقع ملاہے ۔اس کے ساتھ ساتھ لارج سکیل مینوفیکچرنگ (بڑی صنعتیں )میں چھ فیصد کی گروتھ فروری کے مہینے میں سامنے آئی ہے ۔مجموعی طورپر مالی سال کے آٹھ ماہ میں بھی بڑی صنعتیں ساڑھے پانچ فیصد پر گروتھ کررہی ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں روزگارپیدا ہورہا ہے اور جی ڈی پی یعنی شرح نمو میں بھی استحکام آئے گا۔
پاکستان کو اللہ کریم عزت سے نوازرہا ہے تو ہر طرف سے پاکستان کے لیے نوبل امن انعام کے مطالبے ہورہے ہیں ۔دنیا پاکستان کو امن کے اعلی ایوارڈ کے لیے نامزد کررہی ہے ۔پاکستان دنیا کے امن کے لیے جو کررہا ہے اور اب تک جو کرچکا ہے اور جامع معاہدے کی صورت میں جو کچھ کرگزرے گا ا سکے بعد امن کا نوبل انعام تو پاکستان کا حق بنتا ہے لیکن میرے خیال میںنوبل پاکستان کی دنیا کے لیے خدمات کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا انعام ہوگا ۔پاکستان اس وقت وہ کردار ادا کررہا ہے جو اصل میں اقوام متحدہ کا کام ہے ۔ پاکستان اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بھی نہیں ہے اور نہ ہی ا سکے پاس اقوام متحدہ والا مینڈیٹ ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ جتنا بجٹ اس کے پاس ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان اقوام متحدہ سے بڑا امن مشن چلا رہا ہے۔وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس وقت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس والا کردار ادا کررہے ہیں اس سارے قضیے میں آپ کو اقوام متحدہ نہیں پاکستان دکھائی دے رہا ہے تو پھر اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی دنیا کے لیے امن کوششوں کے نتیجے میں نہ صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت ملنی چاہئے بلکہ ویٹو کی پاور بھی پاکستان ہی حق ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کو اقوام متحدہ کی ضرورت محسوس ہوئی اور دنیا نے اس ادارے کی بنیاد ڈال دی تو آج وہی کردار پاکستا ن ادا کررہا ہے تو اس عظیم کردار کے بدلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت اور ویٹو پاور کوئی بہت بڑ انعام نہیں ہے اس لیے یہ دونوں اعزاز پاکستان کا حق ہے ۔

مزیدخبریں