یقینا یہ قیادت کا ہی فرق ہے کہ وہی پاکستان جو کل تک ایک بدترین صورتحال میں ڈیفالٹ کے دھانے پر کھڑا تھا آج دنیا کی اہم ترین قوتو ں کو اکٹھا بیٹھا کر امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ابھی چند روز پہلے تک دنیا کو تیسری عالمی جنگ کا سامنا تھا۔ خلیج کے خطے میں آگ بھڑک رہی تھی اوراس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست جنگی صورتحال تھی، اسرائیل اور لبنان میں جھڑپیں جاری تھیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنی سلامتی کے لیے فکرمند تھے، جبکہ روس، چین اور دیگر اہم ممالک بین الاقوامی طاقتوں کے توازن کو برقرار رکھنے کی کاوش کر رہے تھے۔ ایسے نازک وقت میں اگر کسی ملک نے خاموشی سے مگر انتہائی موثر انداز میں امن کی شمع جلائی تو وہ پاکستان تھا۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی۔ یہ وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تیل کی بیشتر ترسیل اور دیگر تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ اس راستے کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور دنیا بھر میں بے چینی پھیل گئی۔ ایسے حالات میں ہر ملک اپنے مفاد کی فکر میں تھا، مگر پاکستان نے ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر دنیا میں امن کی بحالی اور اسے برقرار رکھنے کی کوششیں کرنے کا راستہ اختیار کیا۔
پاکستان نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے بحال کروائے بلکہ اسلام آباد کو مذاکرات کا مرکز بھی بنا دیا۔ اپریل کے وسط میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ کا تین سو رکنی وفد اور ایران کا ستر رکنی وفد پاکستان آیا، جہاں طویل مذاکرات ہوئے اور جنگ بندی کے اہم نکات پر اتفاق ہوا۔ یہ مذاکرات اکیس گھنٹے تک جاری رہے اور دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے بھر پور انداز میںایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کیا۔ اس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے براہ راست قیادت کی اور اس طرح عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں بہت اضافہ ہوا۔
آج کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ہر قسم کے تجارتی جہازوں کے لیے کھول دی گئی ہے، جبکہ امریکہ نے اپنی بحری ناکہ بندی کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شرع ہو گئی ہے اور دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے مسلسل سفارتی محنت اور اعتماد سازی کی کوششیں تھیں جن کا روح رواں پاکستان رہا۔
اس جنگی صورتحال میں روس اور چین نے اقوام متحدہ میں ایسے فیصلوں کی مخالفت کی جو خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے تھے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی حمایت کی۔ چین نے پاکستان کے ساتھ مل کر ایک امن منصوبہ پیش کیا جس کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی م¶ثر ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کے لیے بھی یہ جنگ آسان نہیں تھی۔ اس نے ایران پر دبا¶ ڈالنے کے لیے بحری ناکہ بندی قائم کی، مگر ساتھ ہی مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھے۔ امریکی قیادت نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک قابل اعتماد ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ایران کے لیے بھی یہ وقت آزمائش کا تھا۔ ایک طرف اسے اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا تھا اوردوسری طرف عالمی دبا¶ کا سامنا کرنا تھا۔ ایسے حالات میں پاکستان نے ایک دوست اور ہمسایہ ملک کے طور پر ایران کو یہ یقین دلایا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے پاکستان کی ثالثی کو قبول کیا اور امن کے عمل میں شامل ہوا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے پاکستان کو امن کے لیے ایک قابل اعتماد میزبان کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے ثابت کیا کہ پاکستان ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے جہاں دشمن بھی بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان عالمی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سلسلہ میںامریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک کے سربراہان مملکت یا ان کے نمائندوں کی میزبانی کی تیاری کر رہاہے اور مستقبل میں بھی بڑے عالمی مذاکرات پاکستان میں ہی ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھیں تواس بات کے قوی امکانات نظر آتے ہیں کہ پاکستان اقتصادی، دفاعی اورسفارتی سطح پر بہت ترقی کرے گا۔ اقتصادی میدان میں چین کے ساتھ تعاون، خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری اور روس کے ساتھ توانائی کے منصوبے پاکستان کو ایک مضبوط معیشت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران پر سے پابندیوں کے خاتمے کا پاکستان کی معیشت پر بہت مثبت اثر پڑے گا۔
دفاعی میدان میں جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ فوج پاکستان کی سلامتی کی ضامن ہے، جبکہ سفارتی میدان میں اپنائی جانے والی متوازن پالیسیوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم طاقت بنا یا ہے۔ یقینااس تمام صورتحال میں قیادت کا کردار سب سے اہم رہاہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مسلسل محنت اور سنجیدگی کے ساتھ عالمی رہنما¶ں سے رابطے قائم رکھے اور امن کے عمل کو آگے بڑھایا۔ اسی طرح فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایک پیشہ ور سپاہی اور دوراندیش رہنما کے طور پر ملک کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدوں کا دفاع کیا بلکہ دنیا میں امن کے قیام میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔
پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکلات چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اگر قوم متحد ہو اور قیادت مضبوط ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ آج کا پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے دنیا میں امن کا پیامبر بننے کا موقع ملا ہے۔ اگر ہم اسی راستے پر چلتے رہے تو آنے والے برسوں میں پاکستان نہ صرف ایک مضبوط معیشت بلکہ ایک بااثر عالمی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جب قوم اور قیادت ایک ساتھ کھڑے ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد ہو۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد ہو
09:13 AM, 19 Apr, 2026