کابل: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغانستان کے دارالحکومت میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے اور باہمی مسائل کو خوش اسلوبی سے سلجھانے کے لیے اہم بات چیت ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) اب کافی نہیں، اسی لیے مزید دو نئی کمپنیاں تجارتی نقل و حمل میں شامل کی گئی ہیں تاکہ نظام کو مزید مؤثر اور تیزرفتار بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ "ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم" کی بدولت افغان ٹرانزٹ سامان کی ترسیل میں خاطرخواہ بہتری آئے گی اور یہ نظام رواں سال 30 جون سے مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ اسی طرح طورخم بارڈر پر جدید آئی ٹی نظام کی تنصیب جلد مکمل کر لی جائے گی تاکہ سرحدی امور میں شفافیت لائی جا سکے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے عرصے سے ٹرانزٹ مال پر انشورنس گارنٹی کا مطالبہ تھا، جس پر اب عملی پیش رفت کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کا تبادلہ بھی وقت کی ضرورت ہے، جو قریبی روابط کو مضبوط بنائے گا۔