گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید، علی امین گنڈاپور کی سیاسی پوزیشن پر سوالات

03:25 PM, 19 Apr, 2025

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر رہنماؤں پر سخت تنقید کی ہے۔ گورنر نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا وزیراعلیٰ مائنز اینڈ منرلز بل کو کامیابی کے ساتھ پاس کروا پائیں گے یا پھر اپنی سیاسی پوزیشن بچانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو اسلام آباد سے جو ٹاسک ملتا ہے، وہ اسے ہمیشہ اچھی طرح مکمل کرتے ہیں، لیکن اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ اس بل کو پاس کروا پائیں گے یا اپنی نوکری بچانے کے لیے پیچھے ہٹ جائیں گے۔

گورنر نے پی ٹی آئی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام ادارے کرپشن میں ملوث ہیں اور نیب سمیت دیگر ادارے خاموش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے وزرا ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ صوبے کے ٹیکس پیسوں کا استعمال جلسوں اور جلوسوں پر کیا جا رہا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب وہ گورنر نہیں تھے تب بھی وہ یہی بات کرتے تھے کہ صوبے میں کرپشن ہو رہی ہے اور یہاں نوکریاں بیچی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اپنے ہی وزرا کو چور کہہ رہے ہیں، لیکن نیب اور ایف آئی اے اس پر خاموش ہیں۔

گورنر نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مائنز اینڈ منرلز بل پر دیگر جماعتوں سے بات چیت کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو یا تو یہ بل پاس کروانا ہو گا یا اپنی سیاسی پوزیشن کو بچانے کے لیے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے وزرا ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتے رہتے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بھی دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وزیراعظم کبھی پشاور آ کر یہاں کی صورتحال کا جائزہ نہیں لیتے۔ گورنر نے وزیراعظم کو پشاور آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر دیگر جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کرم میں 25 کلومیٹر روڈ تک نہیں کھولا جا سکا، لیکن صوبہ اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کر رہا ہے۔

اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کی حکومتی کرپشن، نا اہلی اور عدم تعاون پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومتی رہنماؤں سے توقع کی ہے کہ وہ صوبے کی ترقی اور بہتر حکمرانی کے لیے فوری طور پر اقدامات کریں۔

مزیدخبریں