اسلام آباد:وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ سیمی کنڈکٹر اور چِپ ڈیزائن کی صلاحیت جدید معیشت کی بنیاد ہے، پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو علم کو ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی کو برآمدات میں تبدیل کر سکیں۔
غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ میں ڈیجیٹل ڈیزائن اینڈ ویری فکیشن ٹریننگ 2026 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق ڈیجیٹل ڈیزائن اینڈ ویری فکیشن ٹریننگ پروگرام کی منظوری دی گئی ہے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ پہلے ڈیجیٹل آئی سی ڈیزائن اینڈ ویری فکیشن پروگرام کے تحت 40 طلبہ و طالبات نے چار ماہ کی تربیت مکمل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیت مکمل کرنے والے نوجوان محض سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کر رہے بلکہ پاکستان میں ٹیکنالوجی کے ایک نئے شعبے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لیپ ٹاپ، گاڑیوں اور بڑی مشینری سمیت دنیا کی ہر جدید مصنوعات سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی سے منسلک ہے۔ غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ پاکستان کو اعلیٰ معیار کا انسانی سرمایہ فراہم کر رہا ہے، جس پر ہمیں فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2017 میں بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور روبوٹکس سمیت سات قومی مراکز قائم کیے گئے، جبکہ کوانٹم ویلی پاکستان جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے نئے دور کی بنیاد بنے گی۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کو ترقی کے میدان میں کامیابی حاصل کرکے معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ مستقبل کی پاکستانی معیشت علم، ٹیکنالوجی، جدت اور برآمدات کے ستونوں پر استوار ہونی چاہیے۔