غزہ : غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملے تیزی سے جاری ہیں، جن میں ایک روز کے دوران 98 فلسطینی شہید اور 385 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے خاص طور پر الشفا اور ال اہلی ہسپتالوں کے قریب بمباری کی، جس میں کئی معصوم شہری ہلاک ہو گئے، اور ساتھ ہی مسجدیں اور رہائشی عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔
الشفا ہسپتال کے قریب بمباری میں 19 افراد مارے گئے جبکہ ال اہلی ہسپتال کے قریب 4 فلسطینیوں کی جان گئی۔ غزہ شہر کے مختلف حصوں میں بمباری سے متعدد عمارتیں زمین بوس ہو چکی ہیں۔ مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ اسرائیلی فوج کی درجنوں ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں غزہ کے ایک بڑے رہائشی علاقے میں داخل ہو چکی ہیں، جو زمینی کارروائی کا حصہ ہے جس کا مقصد علاقے پر قبضہ کرنا ہے۔
یہ حملے 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہوئے اور اب تک مارے جانے والوں کی تعداد 65 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے۔ اس کے علاوہ غذائی قلت کی وجہ سے بھی اموات ہو رہی ہیں، جن میں حالیہ دنوں میں مزید چار افراد شامل ہیں، اور اب تک قحط کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد 154 ہو چکی ہے۔
غزہ سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ٹینک، بلڈوزر اور دیگر فوجی گاڑیاں شمالی غزہ کے شیخ رضوان علاقے میں گردش کر رہی ہیں، جہاں فضائی اور توپ خانے کے حملوں کی وجہ سے دھوئیں کا گہرا سایہ چھایا ہوا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق زمینی حملے سے پہلے فضائی بمباری نے علاقے کی عمارتوں اور سڑکوں کو بری طرح نشانہ بنایا ہے۔
ایک مقامی رہائشی سعد حمادہ نے بتایا کہ اسرائیلی ڈرون حملوں نے نہ صرف ان کے گھروں کو نقصان پہنچایا بلکہ سولر پینلز، بجلی کے جنریٹر، پانی کے ذخائر اور انٹرنیٹ کے نیٹ ورک کو بھی تباہ کر دیا، جس سے زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔
دوسری جانب چین اور سعودی عرب نے اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ، کینیڈا، فرانس اور آئرلینڈ نے بھی اسرائیلی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی کمیشن نے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کی تجویز دی ہے، لیکن کچھ یورپی ممالک کی مخالفت کی وجہ سے ان کے نافذ ہونے کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔