معتدل مزاج کشمیری رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ انتقال کر گئے

09:26 AM, 18 Sep, 2025

سرینگر : کشمیری سیاست کی ایک اہم اور سنجیدہ آواز، حریت کانفرنس کے سینئر رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے خطے میں ایک ایسے رہنما کا سایہ اٹھ گیا ہے جو ہمیشہ پرامن جدوجہد، مکالمے اور مفاہمت کی بات کرتا رہا۔

پروفیسر بھٹ کا تعلق شمالی کشمیر کے علاقے سوپور کے قریبی گاؤں بوتنگو سے تھا جہاں وہ 1935 میں پیدا ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی، جہاں سے وہ فارسی اور قانون کی ڈگریاں لے کر فارغ التحصیل ہوئے۔ ابتدا میں وکالت کی، پھر درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے اور کئی برسوں تک کالجوں میں پڑھاتے رہے۔ انہیں ایک شفیق استاد اور علم دوست شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا۔

1986 میں سرکاری ملازمت سے برطرفی کے بعد انہوں نے عملی سیاست کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کی ایک سیاسی تنظیم 'مسلمان یونائیٹڈ فرنٹ (MUF)' کی بنیاد رکھی، جو بعد میں کشمیری سیاست میں ایک اہم قوت بنی۔ بعد ازاں وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس (APHC) کے چیئرمین بھی منتخب ہوئے اور برسوں تک اس پلیٹ فارم سے کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔

پروفیسر بھٹ کی سیاست میں ہمیشہ توازن اور بردباری نمایاں رہی۔ وہ سخت موقف کی بجائے امن، بات چیت اور سیاسی حل کے داعی رہے۔ اسی وجہ سے انہیں کشمیری قیادت میں ایک "معتدل اور دانشمند آواز" سمجھا جاتا تھا۔

ان کے انتقال پر مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ:"پروفیسر بھٹ کی جدوجہد اور اصولی موقف تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔"
پروفیسر عبدالغنی بھٹ کی وفات نہ صرف کشمیری سیاست بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ وہ ان چند رہنماؤں میں سے تھے جو مشکل وقت میں بھی عقل و شعور کی بات کرتے تھے۔

مزیدخبریں