کھیل سفارت کاری اور پاک بھارت میچ!

09:16 AM, 18 Sep, 2025

چوپال میںآج تو رونق لگی ہوئی تھی۔ شینڈی الیون، فینڈی الیون ، چیکو اور بیکو ماسٹر الیون کے سب کھلاڑی موجود تھے لیکن سارے بہت افسردہ تھے۔ وہ سب چپ سائیں کے پاس ایشیا کپ میں قومی ٹیم کی پرفارمنس پر اپنے جذبات شیئر کرنے کے لیے آئے تھے، سب ان کی آمد کا بے چینی سے انتظار کررہے تھے۔ چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔۔ سب نے احترام اور ادب سے ان کو کھڑے ہوکر سلام کیا۔۔۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔ نتھو اور پھتو بولے۔۔ سائیں جی آج تو محلے کی کرکٹ کلب کے بچے چوپال آئے ہیں پر یہ سارے تھوڑے افسردہ ہیں۔۔۔ چپ سائیں نے لفظ افسردہ سن کر کہا۔۔۔سمجھ گیا معاملہ کیا ہے؟۔۔ چپ سائیں نے کہا شینڈی، فینڈی ، چیکو اور بیکو ماسٹر الیون کے بچو آج میں آپ سے کچھ پوچھوں گا نہیں بلکہ باتوں ہی باتوں میں زندگی کا ایسا سبق دوںگا کہ آپ اللہ کے فضل سے کھیل کے میدان میں ناکامی پر کبھی افسردہ نہیں ہو گے اور ناکامی کوبھی کامیابی کی سیڑھی سمجھو گے۔
چپ سائیں تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوگئے۔۔ توقف کے بعد کہا۔۔ میرے بچو۔۔۔تمہاری عمر دراصل جذباتی ہے اور دوسرا جذباتی ہونے کی وجہ اپنے وطن سے محبت ہے۔۔۔بچو کھیل کے میدان میں کھیلتی تو ٹیم اور گیارہ کھلاڑی ہیں لیکن جذباتی پوری قوم ہوتی ہے۔ہم جیت پرجشن بھی مناتے ہیں اور ہارنے پر افسردہ بھی ہوتے ہیں یہ قدرتی عمل ہے۔۔ لیکن یہ بھی قابل ذکر ہے کہ کھیل اور سیاست، خاص طور پر پاکستان اور انڈیا کے حوالے سے، یہ تعلق بہت گہرا اور پیچیدہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کھیل، خاص طور پر کرکٹ، ایک نہ صرف تفریحی بلکہ سیاسی میدان بھی بن چکا ہے۔کرکٹ دونوں ممالک میں سب سے مقبول کھیل ہے۔ جب بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ ہوتا ہے، تو یہ ایک قومی جذبے کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ کرکٹ میچز اکثر صرف کھیل نہیں رہتے بلکہ سیاسی کشیدگی اور تعلقات کا عکاس بھی بن جاتے ہیں۔کبھی کبھار کھیلوں کے ذریعے سفارتی تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جسے ’’کھیل سفارت کاری‘‘ (Sports Diplomacy) کہا جاتا ہے۔ کشمیر کی سیاسی صورتحال نے کھیلوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔
صاحبو کرکٹ ایک جنٹلمین گیم ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے علاوہ بھی کچھ ممالک ایسے ہوتے ہیں جب وہ آمنے سامنے آتے ہیں تو کرکٹ شائقین اس کو ہائی وولٹیج ٹاکرا تصور کرتے ہیں اور جوش وخروش دیدنی ہوتا ہے۔ کرکٹ کے شیدائی بچو انگلینڈ اور آسٹریلیا میں ایشز سیریز بہت مقبول ہے، جب یہ دونوں ٹیمیں سامنے آتی ہیں تو کرکٹ لورز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہی ہوتا ہے اور جوش اس قدر بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ سٹیڈیم میں کوئی جگہ خالی نظر نہیں آتی۔۔۔ یہ بھی سچ ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جیسا پاکستان اوربھارت کا میچ کے درمیان ہوتا ہے۔ بھارت اور سری لنکا کا میچ بھی دیدنی ہوتا ہے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا یہ دونوں ٹیمیں مضبوط اور تکنیکی کھیل کے لیے جانی جاتی ہیں، اور ان کے درمیان مقابلے سخت اور سنسنی خیز ہوتے ہیں۔ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان خاص طور پر اسی اور نوے کی دہائی میں بہت سخت مقابلہ ہوتا تھا اور اب بھی دونوں ٹیموں کے میچز دلچسپ ہوتے ہیں۔
نتھو، پھتو اورکرکٹ کے شوقین بچو کھیل کا اصل مقصد صحت مند مقابلہ، ٹیم ورک، تفریح، اور امن و بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔ جب سیاست کھیل میں گھس جائے تو کھیل کا یہ اصل مقصد متاثر ہوتا ہے اور کھیل ایک سیاسی میدان بن جاتا ہے جہاں جذبات کی بجائے سیاسی مفادات کا کھیل ہوتا ہے۔ کھیلوں کو سیاسی ایجنڈا بنانے سے عوام میں نفرت اور تعصب بڑھتا ہے۔ بین الاقوامی ادارے جیسے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC)، انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (IOC) اور دوسرے ادارے کھیلوں کی خودمختاری کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان اداروں کا مقصد کھیل کو سیاسی مداخلت سے بچانا ہے تاکہ کھیلوں کا معیار اور جیتنے والا ٹیم یا کھلاڑی حقیقی مقابلے کی بنیاد پر فیصلہ ہو۔
صاحبو! پاکستان اور انڈیا میں کھیلوں کے بورڈز کو سیاسی مداخلت سے بچانا ضروری ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو کھیلوں کے حوالے سے مثبت پیغامات دینا چاہیے اور کھلاڑیوں کو سیاسی بیانات سے دور رکھنا چاہیے۔ کھیل کے ایونٹس کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے کھیل کی مہارت، کارکردگی اور ٹیم ورک کو اجاگر کرے۔ کھلاڑیوں کو تربیت دی جائے کہ وہ میدان میں سیاست سے دور رہیں اور اپنے کھیل پر توجہ دیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اپارتھائیڈ کے دور میں کھیل اور سیاست کا گہرا تعلق تھا لیکن بعد میں کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنے کے لیے بڑے اقدامات کیے گئے۔ کرکٹ اور رگبی نے قومی سطح پر اتحاد پیدا کرنے میں مدد دی تھی۔
میرے بچو! کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا ایک مشکل مگر ضروری کام ہے، خاص طور پر ایسے ملکوں میں جہاں سیاسی کشیدگی شدید ہو۔ کھیل کے اداروں کی خودمختاری، سیاستدانوں کی ذمہ داری، میڈیا کا محتاط کردار اور کھلاڑیوں کی تربیت اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثبت کھیل سفارت کاری کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔
صاحبو! کھیل اور سیاست کو الگ رکھنے کا مسئلہ خاص طور پر پاکستان اور انڈیا جیسے دو پڑوسی ملکوں کے لیے چیلنجنگ تو ہے، مگر اس میں بہت خوبصورتی اور گہرائی بھی چھپی ہے۔ کھیل وہ زبان ہے جو دنیا کے ہر کونے میں سمجھ میں آتی ہے۔ چاہے کرکٹ ہو، ہاکی ہو یا کبڈی، کھیل کا مقصد ہوتا ہے لوگوں کو جوڑنا، مقابلہ کرنا اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا۔ کھیل میں نہ کوئی مذہب دیکھتا ہے، نہ زبان، نہ رنگ ۔۔۔ صرف انسانیت کا جذبہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سیاست ایک ایسا میدان ہے جہاں ہر قدم پر سوچ سمجھ کر حکمت عملی چلائی جاتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا کی سیاست میں کشیدگی اتنی زیادہ ہے کہ کبھی کبھی کھیل کو بھی اس کا حصہ بنا دیتی ہے۔ بچو! کرکٹ بورڈز، ہاکی فیڈریشنز اور دیگر کھیلوں کے ادارے ایسے ادارے ہونے چاہئیں جو سیاست سے آزاد ہوں۔ انہیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے دیں تاکہ کھیل متاثر نہ ہو۔ یہاں سیاستدانوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ کھیل کو اپنی سیاسی جنگ کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔
میرے بچو میں چاہتا ہوں کہ پاکستان اور انڈیا کے لوگ کھیل کو صرف کھیل کے طور پر دیکھیں، جہاں دوستی اور جذبہ ہو، نہ کہ سیاسی جال۔ جہاں بچے بڑے ہو کر یہ سیکھیں کہ کھیل محبت اور امن کا ذریعہ ہیں، نہ کہ نفرت اور تعصب کا۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا۔

مزیدخبریں