نئے اسلامی اتحاد کی بازگشت کیوں…؟

09:15 AM, 18 Sep, 2025

غزہ میں 7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والی ظلم کی رات تاحال ختم نہ ہو سکی ہم سب تماشائی بنے ہوئے ہیں سعودیہ، قطر، پاکستان، ترکیہ سمیت دیگر ممالک مذمتوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔ آج انسانیت کو کٹتا دیکھ رہے ہیں، بے گورو کفن لاشے دیکھ رہے ہیں، سسکتی زندگی پر کسی کو ترس نہیں آ رہا، انسانی حقوق کے نام نہاد چمپئن بھی گونگے بہرے بنے ہیں جو چیونٹی کے مرنے پر بھی آنسو بہانا شروع کر دیتے ہیں دم توڑتی انسانیت پر خاموش تماشائی بنے ہیں۔ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں نے جنگ بندی کی کئی کوششیں کیں مگر سب رائیگاں رہیں اور اسرائیل حماس کے وجود کو ختم کیے بغیر مستقل جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا، اسرائیل ہزاروں ٹن بم برسانے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ زمینی کارروائی کرنے کے باوجود غزہ سے حماس کا وجود ختم نہیں کر سکا، اسے آج بھی غزہ میں مزاحمت کا سامنا ہے، غزہ جنگ اب لبنان سے آگے شام، عراق، قطر تک پہنچ چکی ہے، امریکی وزیر خارجہ کے دورہ اسرائیل کے بعد غزہ پر اسرائیلی جارحیت مزید تیز ہو گئی، شہدا کی تعداد لاکھوں میں ہے 64 ہزار 803 وہ ہے جو سامنے آ گئی، اسرائیل کی مسلسل بمباری اور جبری انخلا کی دھمکیوں کے باوجود 13 لاکھ سے زیادہ فلسطینی، جن میں 3 لاکھ 50 ہزار بچے بھی شامل ہیں اب بھی غزہ سٹی اور شمالی علاقوں میں موجود ہیں، خان یونس اور رفح میں نام نہاد محفوظ انسانی علاقے جہاں اسرائیلی افواج نے 8 لاکھ سے زائد افراد کو پناہ لینے پر مجبور کیا ہے وہاں 100 سے زیادہ مرتبہ بمباری کی جا چکی ہے جس میں 2 ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہو چکے ہیں، ان علاقوں میں نہ تو فعال انفرا سٹرکچر ہے نہ طبی سہولت، پانی نہ بجلی، اسرائیل نے خان یونس میں جان بوجھ کر پانی کی لائنیں کاٹ دی ہیں تاکہ زندگی کو تقریباً ناممکن بنا دیا جائے، امریکا خود کو جمہوریت کا چمپئن کہتا ہے وہ ہر جگہ اپنی مرضی کی حکومتیں بنانا چاہتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ امریکا ان حکومتوں کی حمایت کرتا ہے جو اس کی کٹھ پتلی بن کر کام کریں، جمہوریت کا جنازہ تو ہر روز نکلتا ہے جب 
اقوامِ متحدہ میں دنیا ایک طرف اور امریکہ ایک طرف ہو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہے امریکا کی تاریخ صدیوں سے ظلم اور جبر سے بھری ہے، اس کی بنیاد کیلئے افریقہ سے غلام لا کر ان پر مظالم ڈھائے گئے، ویت نام پر حملے کیے گئے، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے، عراق میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو قتل کیا گیا، دُنیا بھر کو عدم استحکام سے دوچار کیا گیا، امریکہ تخریب کاریوں اور جنگوں کے ذریعے انتشار پھیلاتا ہے، قطر پر حملہ کے بعد ایک نئے اتحاد کی بازگشت سنائی دے رہی ہے پہلا اتحاد جس کی سربراہی پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سونپ دی گئی تھی دہشت گردی خطرات کے سبب بظاہر سعودی عرب نے اسلامی ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد بنایا تھا جس میں پاکستان بھی شامل تھا ابتدا میں اس فوجی اتحاد میں 34 اسلامی ممالک شامل تھے لیکن پھر تعداد بڑھ کر 39 ہو گئی لیکن مسلم ممالک کے اس عسکری اتحاد میں ایران اور شام شامل نہیں تھا مسلمان ممالک کے فوجی اتحاد کا صدر دفتر سعودی عرب کے شہر ریاض میں تھا، یہ اتحاد کسی مسلم ملک پر حملہ روک سکا نہ ہی آج تک غزہ میں مظالم؟ اس اتحاد کے مقاصد بھی سامنے نہ آ سکے اب ایک بار پھرنائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیلی عزائم پر نظر رکھنے اور اس حوالے سے اقدامات کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے کیونکہ اسرائیل عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔ ادھر عرب ممالک نیٹو طرز پر ایک مشترکہ فوج کے قیام کی مصری تجویز پر غور کر رہے ہیں، اس فورس میں عرب لیگ کے رکن ممالک کے فوجی دستے اور ہتھیار شامل ہوں گے۔ دوحہ میں ہونے والے اجلاس میں مسلم ممالک کی اسرائیل کیخلاف قطر کو جوابی اقدامات کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی گئی، اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے بننے والے اتحاد کا کیا حشر ہوتا ہے کیونکہ مسلم ممالک میں نفرتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہیں۔ کئی ممالک امریکہ کی لونڈی ہیں۔ خود عرب ممالک بھی انتشار کا شکار ہیں۔ اس صورتحال میں مسلم ممالک کا نیا اتحاد کس طرح کار گر ثابت ہو گا۔ اسرائیل نے انسانیت کے خلاف جرائم میں تمام حدیں پار کر دی ہیں جیسے بیانات دیکر خود کو بری الذمہ سمجھا جا رہا ہے گو کہ قطر پر اسرائیل کا حملہ بہت بڑی جارحیت تھا، اسرائیل نے قطر کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی، قطر نے ثالث کے طور پر خطے میں امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں، لیکن اسرائیل نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا، اسرائیلی بربریت اور مظالم نے تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ او آئی سی بھی صرف بیانات تک ہی محدود تھی اور ہے۔ ادھر ایران نے بھی نئے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی عملی اقدام کے بغیر صرف تقاریر پر مشتمل اجلاسوں سے اسرائیلی حکومت کا کچھ نہیں بگڑے گا، یہ سچ ہے کہ مسلم ممالک نے غزہ جنگ بند کرانے کیلئے عملی کوشش نہیں کی اور عورتوں، بچوں بڑوں کو قتل ہوتا دیکھ رہے ہیں مسلمان ممالک کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہم نے فلسطین کے مظلوموں کے لیے کچھ نہیں کیا تو کم از کم خود کو تباہی سے بچانے کے لیے ہی کوئی فیصلہ کر لیں۔ کل کلاں اسرائیل کسی اور مسلم ملک پر حملہ کرے گا تو اسلامی ممالک کے نئے اتحاد کا کیا کردار ہو گا۔ سنجیدہ کوششیں نہ کی گئیں تو اگلا شکار کوئی اور مسلم ملک ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا اب کئی بلاکس میں تقسیم ہو چکی ایک اسرائیل کی پشت پناہی اور تائید کرنے والے اور دوسرا بلاک اسرائیل کے مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے، غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی تعداد ہر ملک میں زیادہ ہے، مغربی دنیا کے حکمرانوں کو اپنے ممالک کے عوام کی آواز کو سننا اور ان کے مطالبات پر غور کرنا ہو گا۔ جب تک دہشت گرد اسرائیل کے خلاف مسلم دنیا عملی طور پر متحد نہیں ہوتی اسرائیل اور حواریوں کو نکیل ڈالنا ناممکن ہے۔ امریکی آشیر باد سے اسرائیلی حو صلے مزید بلند ہو رہے ہیں، مسلم دنیا مفادات سے نکل کر اس کیخلاف یک زباں ہو جائے تو غرہ والوں کے دکھوں کا مداوا کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ پہلا اسلامی اتحاد کیوں اور کس لیے بنایا گیا اور اب ایک نئے اتحاد کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے؟۔

مزیدخبریں