پی ٹی آئی میں شدید اختلافات

09:14 AM, 18 Sep, 2025

 تحریک انصاف میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بانی کی بہن علیمہ خان بھی اس طوفان بد تمیزی کا شکار ہو چکی ہیں کہ جو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کا خاصا ہے۔ شاہ محمود قریشی جو 9 مئی کے کیسز سے بری ہوئے ۔ ان کے خلاف بھی کہیں اور سے نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اپنے سوشل میڈیا سے آوازیںاٹھا کر پارٹی میں ان کی حیثیت کو مشکوک کیا جا رہا ہے لیکن اس سے پہلے کہ اس حوالے سے مزید کچھ کہیں سب سے پہلے ان خواتین و حضرات کو تسلی دینا بہت ضروری ہے کہ جو تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کا شکار ہو چکے ہیں لیکن اب انہیں زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ تحریک انصاف کا اپنا سوشل میڈیا اپنی ہی جماعت کی ایک اہم رکن صنم جاوید اور اس کی بہن فلک جاوید کے متعلق جس طرح کی اخلاق سے گری ہوئی انتہائی نازیبا پوسٹیں کر رہا ہے تو اس کے بعد تحریک انصاف کے باہر کے لوگوں کا تو اب کوئی گلہ شکوہ بنتا ہی نہیں ہے۔ اس لئے کہ صنم جاوید کوئی عام کارکن نہیں ہے بلکہ 9 مئی کے حوالے سے انہوں نے بڑا متحرک کردار ادا کیا تھا اور 9 مئی میں ملوث ہونے پر انہیں عدالتوں کی طرف سے سزا بھی ہو چکی ہے ۔ اب ایک ایسی رکن کہ جس کی تحریک انصاف سے وابستگی اور اس کے لئے اسے سزا تک ہو چکی ہو تو اس سے اختلافات کے نتیجے میں اس کی کردار کشی سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا تو باہر کے لوگ کس کھیت کی مولی ہیں ۔ یہ سب جو ہو رہا ہے اس میں تحریک انصاف کے بیرون ملک مقیم سوشل میڈیا کے گروپ شامل ہیں جن میں خود تو کسی قربانی دینے کا حوصلہ نہیں لیکن سوشل میڈیا پر ڈالر کمانے کے لئے اپنی پارٹی کے لوگوں پر انتہائی رکیک حملے کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا لیکن صنم جاوید اور فلک جاوید بھی چونکہ تحریک انصاف کی ہی رکن ہیں تو وہ بھی انہی کی زبان میں انھیں جواب دے رہی ہیں ۔
صنم جاوید کے حوالے سے سوشل میڈیا پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ تحریک انصاف میں اختلافات کی ایک ہلکی سی جھلک ہے ورنہ تو شاہ محمود قریشی جو کہ تحریک انصاف کے سینئر ترین عہدے پر فائز ہیں اور عمران خان کے بعد وہی تحریک انصاف کے سربراہ ہو سکتے ہیں لیکن 9 مئی کے کیسز میں ان کی بریت سے خوش ہونے کی بجائے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا نے انہیں بھی نشانہ پر رکھ لیا ۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی نشانہ پر ہیں اور ان پر بھی پارٹی سے غداری کا الزام ہے کہ وہ تین بار اسلام آباد آئے لیکن ہر بار بھاگ گئے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ گنڈاپور صاحب جب بھی اسلام آباد پر چڑھائی کے لئے آئے تو آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے وہ صوبہ کے تمام وسائل کو استعمال کرتے ہوئے صوبے کی مشینری کو ساتھ لے کر آئے تھے لیکن اصل مسئلہ تو عوام کا ہے کہ وہ اگر تحریک انصاف اور خاص طور پر بانی پی ٹی آئی کے لئے سڑکوں پر نہیں نکلنا چاہتے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ دوسری اہم بات کہ کامیابی کے سو دعوے دار ہوتے ہیں جبکہ ناکامی ہمیشہ بانجھ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے پے در پے احتجاج کی احمقانہ کالوں کی ناکامی کے بعد تحریک انصاف میں وہی کچھ ہو رہا ہے کہ جو اس طرح کی ناکامیوں کے بعد ہوتا ہے ۔ علی امین گنڈا پور اور سوشل میڈیا کے درمیان کس طرح کے شدید اختلافات ہیں اس کے لئے گنڈا پور صاحب کی 15ستمبر کی پریس کانفرنس دیکھ لیں ۔ اب پارٹی شدید اختلافات کا شکار ہو چکی ہے ۔ پہلے یہ اختلافات پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں تک محدود تھے کہ علی امین گنڈا پور اور تیمور سلیم جھگڑا کے درمیان اور پھر انہی اختلافات کے نتیجہ میں شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالا گیا لیکن اب یہ اختلافات پارٹی کی اعلیٰ قیادت یعنی بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان تک پہنچ ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا میں یہ بات آ چکی ہے کہ سوشل میڈیا علیمہ خان کنٹرول کرتی ہیں۔
عمران خان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کو پارٹی کا ایک بڑا اہم اور قیمتی اثاثہ قرار دیتے تھے لیکن ہم اپنی انہی تحریروں میں ایک سے زائد بار عرض کر چکے ہیں کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کو جس طرز پر بنایا گیا تھا اور اس کا جو مزاج تھا اس نے ایک دن بیک فائر کرنا تھا اور اب وہ بیک فائر کر رہا ہے لیکن یقین کریں کہ اس برے طریقے سے بیک فائر کرے گا اس کا اندازہ ہمیں بھی نہیں تھا لیکن ابھی تو یہ شروعات ہیں اس لئے کہ عوام احمق ہے اور نہ ہی تحریک انصاف کے کارکن عقل سے پیدل ہیں کہ وہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ پاک بھارت جنگ کے دوران تحریک انصاف کی قیادت اور بیرون ملک بیٹھے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے کرتا دھرتا کس طرح ہندوستان کے بیانیہ کے ساتھ مل کر ملک دشمن بیانیہ کا زہر گھول رہے تھے، کس طرح آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کا قرض پیکیج رکوانے جیسے ملک دشمن اقدام کئے گئے، کس طرح یورپی یونین کو ہزاروں ای میلز کے ذریعے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کرنے کا کہا گیا اور کس طرح بڑے طمطراق کے ساتھ نومبر 2024 میں کہا گیا کہ اگر میرے مطالبات نہ مانے گئے تو میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو  ریمیٹینس نہ بھیجنے کا کہہ دوں گا اور پھر یہ اپیل کر بھی دی گئی کہ جیسے بانی کی اپیل کے فوری بعد بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈالر بھیجنا بند کر دیں گے لیکن اس اپیل کا بھی الٹا اثر ہوا اور انہوں نے گذشتہ سال کے مقابلے میں کم و بیش 32 فیصد زیادہ پیسے بھیج کر بتا دیا کہ بانی کی بیرون ملک پاکستانیوں میں مقبولیت کا جو بیانیہ بنایا گیا تھا اس میں کتنی سچائی تھی۔ اب ہماری رائے میں ملک دشمن دہشت گردوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر اگر تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں تو پھر پارٹی میں بات اختلافات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس سے کہیں زیادہ آگے جا سکتی ہے۔

مزیدخبریں