ٹک ٹاکرز عوام کو جوئے کی طر ف راغب کررہے ہیں

09:14 AM, 18 Sep, 2025

یو ٹیوب کی وبا، ٹک ٹاک کی وبا دنیا بھر میں بشمول پاکستان میں پھیل چکی ہے، اس میں بے پر کی اور اخلاق سے گری چیزیںعام ہیں، جس پر نہ جانے کیوں بشمول پاکستان دنیا خاموش ہے، میں نے چین میں دیکھا کہ وہاں سخت کنٹرول ہے اب آہستہ آہستہ اسکے ذریعے پھیلنے والی بے راہ روی کی روش، فیک نیوز جو عوام کو گمراہ کرتی ہیں اس پر کنٹرول کیا جا رہا ہے، سعودی عرب کا نظام اس طرح کی چیزوں پر مکمل کنٹرول کرتا ہے اور سخت سزائیں بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں وہ اینکرز جو چینلز پر بیٹھ کر بے پر کی اڑا کر مہمان سے انٹرویو کم اپنا نکتہ نظر زیادہ پیش کرتے تھے اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بنتے تھے ان میں سے اکثر نے میڈیا ہائوس سے نکالے جانے کے بعد اپنے یوٹیوب چینلز بنا لیے جہاں وہ اوٹ پٹانگ ہانک رہے ہوتے ہیں اب پاکستان میں ٹک ٹاکرز غیر ممالک میں بیٹھے جواریوں کے آلہ کار بن کر نئی نئی Applications کے ذریعے معصوم عوام کو نا صرف نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ پاکستان میں بیٹھے دہشت گردوںکی مالی امداد بھی اسی ذریعے ہو رہی ہے، ان لوگوں کے ذریعے منی لانڈرنگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، منی لانڈرنگ کا پوشیدہ ذریعہ ہونے کے وجہ سے ٹک ٹاکرز کے تانے بانے نہ جانے کہاں تک ہوتے ہیں۔ ایک ٹک ٹاکر فضا حسین جنہیں حریم شاہ کے نام سے جانا جاتا ہے انکی سابقہ حکومت کے دوران عوام نے خبروں میں دیکھا کہ جہاں عام آدمی کی پہنچ نہیں، سکیورٹی کی وجہ سے وہ وزارت خارجہ کے ایک دفتر میں کس طرح دروازہ کھول کر اندر جاتی ہیں اور کرسی پر براجمان ہوتی ہیں۔ اس واقعہ کا کبھی کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ سیاسی رہنما شیخ رشید کے ساتھ بھی کچھ ویڈیوز منظر عام پر آئی تھیں۔ حریم شاہ ہی نے ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں غیر ملکی کرنسی کے تھیلے/ بڑے ڈھیر دکھائے گئے ہیں، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ بڑی رقم کے ساتھ پاکستان سے برطانیہ کا سفر کر رہی ہیں۔ ہمارے ادارے نیند سے دیر سے اٹھتے ہیں اس ویڈیو کی بنا حریم شاہ کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کی انکوائری شروع کی۔ پاکستان میں دیگر ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیائی شخصیات کے بارے میں بھی خدشات ہیں کہ وہ قابل اعتراض مالیاتی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، یا بڑی رقم یا غیر ملکی کرنسی کا کاروبار کر رہے ہیں، جو صریحاً خلاف قانون ہے، تحقیقاتی صحافی رانا عظیم نے ایک چینل پر بہت سی تفصیلات بیان کیں جنہیں سن کر خوف آتا ہے کہ کس طرح ان ایپس اور ٹک ٹاکرز کے ذریعے انکے موجد ملک سے باہر بیٹھ کر دہشت گردوںکو رقم فراہم کرتے ہیں۔ ایف آئی اے نے غیر قانونی مالیاتی کاروبار کا شبہ ہونے پر بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی کوشش کی ہے۔ جوئے کا کاروبار ایک وبہ بن چکا ہے جس کی بے شمار اپلیکیشنز غیر ممالک بالخصوص بھارت میں بیٹھے افراد چلا رہے ہیں جو پاکستان کو کسی بھی سطح پر نقصان پہنچانے کو اپنے دھرم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ حال ہی میں ہمارے اداروں نے عوامی طور پر 46 موبائل ایپلیکیشنز کو جوا، غیر منظم تجارت، مالی رازداری کے خطرے کے دعووں کے تحت غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان میں معروف غیر ملکی بیٹنگ/ کیسینو ایپس ہیں جیسے 1xBet ، بیٹ 365،Casumo, Rabona, Melbet, Parimatch, BetWinner, 888Starz, Thunderpick, Aviator Game, Chicken Road, Plinko, 10Cric, Binomo, IQ Option, Olymp Trade, Quotex, Deriv, OctaFX پی ٹی اے کو باضابطہ طور پر ان ایپس کو ملک بھر میں بلاک کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ گرفتاریاں، سخت سزائیں اسکا حل ہو سکتی ہیں چونکہ ایک اپلیکیشن بند ہو وہ منٹوں میں دوسری متعارف کرا دیتے ہیں۔ متعلقہ ادارے نے سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے جو ان ایپس کو فروغ دیتے ہیں، جیسے ’’World 777‘‘ مہم وغیرہ۔ غیر ملکی ایپ آپریٹرز (اکثر دبئی، چین، جنوب مشرقی ایشیا یا دیگر آف شور مرکزوں میں مقیم) غیر قانونی بیٹنگ یا سرمایہ کاری کی ایپس بناتے ہیں جو پاکستان میں لائسنس یافتہ نہیں ہیں۔ وہ رقم جمع کرنے کے لیے ڈیجیٹل بٹوے، کرپٹو، یا غیر رسمی منتقلی کے نظام کا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان کے اندر ان ایپس کو فروغ دینے کے لیے مقامی ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والوں کو ادائیگی کی جاتی ہے۔ وہ اکثر ایپس کے مالک نہیں ہوتے ہیں، وہ صرف مارکیٹنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ایپ آپریٹرز منسلک اداروں یا ایجنٹ نیٹ ورکس کے ذریعے کمائے جانے والے منافع کو منشیات کی سمگلنگ، بھتہ خوری یا دیگر جرائم پر بھی خرچ ہوتے ہونگے۔ صارفین کی طرف سے رقم (ڈیپازٹس/ نکالنا) کو دوسری شکلوں (کیش، واؤچرز، گفٹ کارڈز، کرپٹو) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اکاؤنٹس یا سروسز کے ذریعے بار بار غیر واضح اصل میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ’’لیئرنگ‘‘ منی لانڈرنگ کی ایک معیاری تکنیک ہے جو دہشت گردی کے اسباب کی طرف لے جانے والے فنڈز کو چھپانے میں بھی مدد کرتی ہے۔ ڈکی بھائی کے نام سے مشہور یوٹیوبر سعد الرحمان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اتوار کی علی الصبح لاہور ایئرپورٹ سے آن لائن جوئے اور سٹے بازی کی درخواستوں کو فروغ دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ گزشتہ دنوں سعد الرحمن اپنے یوٹیوب چینل کے ذریعے جوئے کے کئی پلیٹ فارمز کو فروغ دینے میں ملوث ہے، بشمول Binomo، 1xBet، Bet 365، اور B9 گیم۔ ایف آئی آر 
کے مطابق، سعد نے مبینہ طور پر عوام کو ان پلیٹ فارمز میں اپنا پیسہ لگانے کی ترغیب دی، جس سے مالی نقصان ہوا کیونکہ ایپس وعدے کے مطابق منافع ادا کرنے میں ناکام رہی۔ سعدالرحمان بنومو کے لیے غیر مجاز ’’کنٹری منیجر‘‘ کے طور پر کام کر رہا تھا، موصوف اپنے یوٹیوب سے 50 کے قریب جوئے کی اپلیکیشن چلا رہے تھے جس میں 5.5 ملین روپیہ، دوبئی میں 600 درہم، پاکستان میں 150 ملین روپے، اور دیگر ڈیجیٹل اکائونٹس میں 325000 روپے رکھتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ہمارے ایف آئی اے اتنی رقم جمع ہونے کا انتظار کیوں کر رہے تھے۔ نیز ہمارے سکیورٹی ادارے بھی (چونکہ ملک میں تمام کام چاہے سیلاب ہو، ملک کیلئے قرضوں کی ضرورت انکا کردار بہت اہم ہے) اس پر توجہ دیں، سیاسی طور گزشتہ چند سال میں ان ہی یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز نے سیاست کو شریف لوگوں کیلئے انکے خاندانوںکیلئے ایک ممنوع چیز اور واہیات بنا دیا۔ بڑے پیمانے پر کمائی گئی دولت ملک میں بیٹھے غیر ملکی ایجنٹس جو دہشت گردی کرتے ہیں ان میں بھی تقسیم ہو سکتی ہے۔ بلکہ کچھ نہیں پتہ ہو بھی رہی ہو گی جو ہمارے ملک کیلئے شدید خطرہ ہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کار صرف سہولت کار نہیں دہشت گرد کہلانے کے مسحق ہیں۔

مزیدخبریں