دوحہ مذاکرات: پاکستان نے افغان وفد کے سامنے افغانستان میں کالعدم گروپوں کی موجودگی کو ناقابل قبول قرار دیا

10:24 PM, 18 Oct, 2025

دوحہ: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان بات چیت کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوگیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، اس دورے کی میزبانی قطری انٹیلی جنس کے سربراہ عبداللہ بن محمد الخلیفہ نے کی، اور پاکستان نے افغانستان سے دہشت گرد گروپوں کی سرحد پار دراندازی کے مسئلے کو مرکزی موضوع بنایا۔

پاکستان کے وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، جبکہ پاکستانی سکیورٹی حکام نے ان کی معاونت کی۔ افغان وفد کی قیادت وزیر دفاع ملا یعقوب نے کی، اور افغان انٹیلی جنس کے سربراہ بھی افغان وفد کا حصہ تھے۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے، اور مذاکرات کا اگلا سیشن کل صبح دوحہ میں ہوگا۔

پاکستان نے افغان وفد کو واضح طور پر بتایا کہ افغانستان میں کالعدم گروپوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ہرگز ناقابلِ برداشت ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز قطر میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے دوران سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دوحہ مذاکرات تک سیزفائر پر اتفاق کیا گیا تھا۔

مزیدخبریں