سپریم کورٹ میں ہلکی پھلکی نوک جھونک، جسٹس ہاشم کاکڑ کے دلچسپ ریمارکس، عدالت میں قہقہے

02:29 PM, 18 Nov, 2025

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فیصل آباد کی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران جج جسٹس ہاشم کاکڑ اور ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر ملک جمیل ظفر کے درمیان ہونے والی گفتگو نے ماحول کو خوشگوار بنا دیا۔

سماعت کے دوران ڈی آئی جی کے وکیل شاہ خاور نے بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف ٹرائل کورٹ نے ایک فوجداری مقدمے میں گواہوں کی عدم پیشی پر سخت ریمارکس دیے تھے، حالانکہ معاملہ انتظامی نوعیت کا تھا۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ گواہوں کی پیشی عدالت کے حکم کا حصہ ہوتی ہے، اور جج خود جا کر گواہ نہیں لاسکتے۔ اس دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے وکیل سے پوچھا کہ ان کے ساتھ کھڑے افسر ڈی آئی جی ہیں؟ جواب ملنے پر انہوں نے ہنستے ہوئے کہا"یہ تو ہمیں یہاں کھڑے ہو کر ڈرا رہے ہیں، ارے بھائی ہمارے پاس تو اب کھونے کو کچھ نہیں بچا!"ان کے اس جملے پر کمرۂ عدالت میں قہقہے لگ گئے اور سماعت کا ماحول خوشگوار ہو گیا۔

بعد ازاں عدالت نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ کی آبزرویشنز کو برقرار رکھنے والا لاہور ہائی کورٹ کا چیمبر فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ اپیل بحال کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر کیس کو میرٹس پر سن کر فیصلہ کرے، کیونکہ درخواست گزار کے مطابق انہیں سنے بغیر فیصلہ سنایا گیا تھا۔

مزیدخبریں